بصارت سے محروم ہونہار کشمیری طالبہ نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا

بصارت سے محروم ہونہار کشمیری طالبہ نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا

سرینگر(آن لائن)مقبوضہ کشمیرمیں2016کے عوامی انتفادہ کے دوران بھارتی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے مکمل طورپربینائی سے محروم ہونیوالی طالبہ انشا مشتاق نے دسویں جماعت کا بورڈ کا امتحان پاس کرلیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بینائی جانے سے قبل انشانے آٹھویں جماعت کے امتحان میں85فیصد نمبر لئے تھے۔ وہ 12جولائی 2016کو شوپیاں میں اپنے گھر کی کھڑکی سے احتجاجی مظاہرین کو دیکھ رہی تھی جب بھارتی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ کی فائرنگ کی اور چھرے براہ راست اسکے چہرے پر لگنے سے وہ دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئی۔ انشا ڈاکٹر بننا چاہتی تھی بینائی سے محروم ہونے کے بعد بھی وہ اس سلسلے میں پر عزم ہے ۔ ہونہار کشمیری طالبہ نے میڈیا کو بتایا کہ اگر پیلٹ گن کے ذریعے اسے بینائی سے محروم نہ کیا گیا ہوتا تو وہ امتحانات میں مذید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ۔ انشا کے والد نے بتایا کہ بیٹی کے امتحان پاس کرنے پر انہیں بہت خوشی ہے ۔ادھر حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے ایک بیان میں پیلٹ گن کی وجہ سے بینائی سے محروم ہونیوالی طالبہ انشاء کی طرف سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے پر مبارک باد دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بصارت سے محروم ہونے کے صدمے کے بعد بھی انشاء نے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے اس سے اس کے بلند حوصلوں کی عکاسی ہوتی ہے جو کہ ہر کسی کیلئے ایک مثال ہے۔

ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بھی ایک بیان میں بھارتی فورسز کی سفاکی کی وجہ سے بصار ت سے محروم ہونیولی کشمیری طالبہ کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے ۔

مزید : عالمی منظر