سیاسی عدم استحکام کی گونج میں خود کش حملہ

رقبے کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال طویل عرصے سے مخدوش چلی آ رہی ہے۔کچھ عرصے کے لئے امن ہوتا ہے پھر اچانک دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر آ جاتا ہے۔ بعض واقعات تو اوپر تلے اور اس تسلسل کے ساتھ رونما ہوئے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ امریکہ میں ہونے والے نائن الیون کے سانحے کے بعد تو پاکستان خود حالت جنگ میں آ گیا لیکن اس سے سب سے زیادہ متاثر ہمارا بلوچستان ہی ہوا۔ آئے روز ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے کئی انسانی جانیں نگل لیں، بے شمار زخمی ہوئے اور تباہ شدہ املاک کا اندازہ بھی اربوں میں ہے۔ آج کل تو بلوچستان سیاسی بحران یا عدم استحکام کا بھی شکار ہے، جہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی نے عجب کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔
چونکہ بلوچستان اپنی طرز کا حساس صوبہ ہے،جس کی سرحدیں ایک طرف تو افغانستان سے ملتی ہیں تو دوسری جانب ایران سے۔ اکثر اوقات جغرافیائی حالات کی بدولت یا کسی اور وجہ سے اس صوبے میں امن و امان کا قیام خواب کی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اب جب کہ پورے ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں بڑی حد تک کم ہوگئی ہیں لیکن بلوچستان میں حالات تا حال معمول پر نہیں آئے ، شاید اس کی ایک وجہ یہ ہوکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی زیادہ تر اقتصادی اور تعمیراتی سرگرمیاں اسی صوبے کے گرد و نواح میں گھومتی ہیں اور یہاں پاکستان دشمن قوتیں زیادہ سرگرمی دکھا رہی ہیں۔ آج کل یہاں کی سیاست بھی ایسی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو صوبائی ایوان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں ہے۔ البتہ مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت ہے جس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دے رکھی ہے۔(ن) لیگ نے 2013ء کے عام انتخابات کے بعد بلوچ نیشنل پارٹی کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ڈھائی سال کے لئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا، جنہوں نے اپنی مدت پوری ہونے کے بعد استعفا دے دیا۔ پھر نواب ثناء اللہ زہری کو بلوچستان کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا، یوں تو سیاسی اخلاقیات کے تحت ضروری تھا کہ نواب زہری کو بھی اپنی مدت پوری کرنے دی جاتی اور پہلے سے طے شدہ معاہدے کے تحت وہ اپنے ڈھائی سال پورے کرتے لیکن ان کے خلاف وزیر داخلہ سرفراز بگٹی متحرک ہو گئے جنہوں نے اپنی وزارت سے استعفا دیا تو وزیر اعلیٰ نے انہیں بر طرف کر دیا۔ بہر حال انہوں نے وزیر اعلیٰ نواب زہری کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور بہت سے دوسرے ارکان کو ساتھ ملاکر جن میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر جماعتوں کے ارکان بھی شامل تھے، تحریک عدم اعتماد پیش کر دی اور اس کی کامیابی کے لئے سرگرم عمل ہو گئے، دعویٰ یہ کیا گیا کہ تحریک عدمِ اعتماد کی حمایت میں 40ووٹ آجائیں گے جبکہ کامیابی کے لئے 33ووٹوں کی حمایت ضروری ہے۔ اسی اثنا میں اس تحریک عدم اعتماد کا ڈراپ سین یوں ہوا کہ نواب ثنا اللہ زہری نے بلوچستان کی وزارت اعلیٰ سے اس روز استعفا دے دیا، جس دن ان کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد پر بحث ہونا تھی۔ صوبائی گورنر نے ان کا یہ استعفا فوری طور پر منظور کر لیا۔ منگل کے روز جب وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد اور ان کے استعفے کے معاملات گرم تھے تو بلوچستان اسمبلی سے چند قدم کے فاصلے پر جی پی او چوک میں ایک زور دار دھماکہ ہوا خود کش حملہ آور نے ریڈ زون میں تعینات پولیس اہل کاروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم و بیش 5 پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔
سانحے کی تفصیلات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ختم ہوتے ہی اسمبلی سے تھوڑے فاصلے پر ریڈ زون کے قریب جی پی او چوک پر زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ قریب کھڑی بس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ا خود کش حملہ آور نے پولیس ٹرک کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد شہید جب کہ 25 سے زائد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ سکیورٹی فورسز کے ٹرک میں 25 کے قریب اہلکار سوار تھے جو اسمبلی کی سکیورٹی پر تعینات تھے کہ دہشتگردی کا نشانہ بن گئے۔واضح رہے کہ جی پی او چوک پر ہونے والے دھماکے سے کچھ پہلے سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس راستے کو عام شہریوں کیلئے بند کر دیا گیا تھا کیونکہ یہاں سے وی آئی پی موومنٹ ہونا تھی۔ تاہم، ابھی اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں سردار اختر مینگل سمیت متعدد ارکان اسمبلی پریس کانفرنس کیلئے جمع ہو رہے تھے اور میڈیا والے اسمبلی کے اندر جانے کی اجازت نہ ہونے کے باعث باہر ہی سے بیپر دینے میں اور اجلاس کی کوریج کرنے میں مصروف تھے کہ اسمبلی سے پانچ منٹ کے پیدل سفر کے فاصلے پر واقع جی پی او چوک پر زوردار دھماکہ ہو گیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا خودکش تھا موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے اپنی موٹر سائیکل پولیس ٹرک سے ٹکرا دی۔تحقیقات کے مطابق بظاہر حملہ آور بلوچستان اسمبلی کی جانب بڑھ رہا تھا تاہم سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث اسے جہاں موقع ملا اس نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔
دہشت گردی کی اس واردات کے لئے جس وقت اور مقام کا انتخاب کیا گیا وہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عین اس وقت جب وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد کی غرض سے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جاری تھا دھماکہ کیا جانامعنی خیز ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا دہشت گردوں کی منصوبہ بندی کا باقاعدہ حصہ۔ کیا دونوں معاملات کو یکجا کر کے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی اسے ’’کو اِن سائیڈ‘‘ (دو آتشہ) سمجھا جائے یا پھر کچھ اور؟ بعض تجزیہ کار کوئٹہ دھماکے کو سیاسی عینک لگا کر دیکھ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور کوئٹہ دھماکہ ’’اصل میں دونوں ایک ہیں‘‘
کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی حالیہ کارروائیوں میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں نے بلوچستان کو بالخصوص اور مملکت پاکستان کو بالعموم ایسے موقع پر نشانہ بنانا شروع کیا ہے جب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔ بلوچستان چونکہ اس ترقیاتی پراجیکٹ کا مرکزی مقام ہے اس لئے دہشتگردی کی غرض سے اس جگہ کا انتخاب پاکستان اور چین دونوں کے لئے خاص پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ویسے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سی پیک روٹ پر سخت ترین حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں لیکن جہاں سے منصوبے کی راہداری گزرتی ہے ان مقامات کو باقاعدہ ٹارگٹ بنا کر حملے کئے جا رہے ہیں۔ پاک فوج اور پولیس چونکہ اقتصادی راہداری منصوبے کی محافظ ہیں اور افواج پاکستان کو اس منصوبے کا گارنٹر بھی کہا جا رہا ہے اس لئے تخریب کار مذموم کارروائیوں کے ذریعے خاص مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مخالف قوتوں کو ہماری ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ جب بھی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ہمارے دشمن سرگرم ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کا آغاز تو امریکہ میں ہونے والے سانحہ نائین الیون کے بعد ہی ہو گیا تھا لیکن اس میں شدت اس وقت آئی جب افواج پاکستان نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کیا۔ جب دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا تو وہ چھپ چھپا کر وقفے وقفے سے اپنی کارروائیاں کرتے رہے۔
15جون 2014ء کو افواج پاکستان کی طرف سے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردانہ کارروائیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ آیا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ تخریب کار زیر زمین چلے گئے یا پسپا ہو گئے ہیں، ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری پید اہو ئی تھی اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا تھا، کچھ عرصے کے توقف کے بعد دہشتگردی کے اکا دکا واقعات ضرور رونما ہوتے رہے لیکن ضرب عضب سے پہلے جس تسلسل اور تواتر کے ساتھ کارروائیاں جاری تھیں وہ سلسلہ تھم گیا۔ لیکن منگل 16دسمبر2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دن دیہاڑے جو ظالمانہ اور سفاکانہ کارروائی کی گئی اس سے صاف ظاہر ہوتاتھا کہ دہشتگردوں کے حوصلے پسپا نہیں ہوئے اور انہوں نے شکست تسلیم کرنے کے بجائے محض دانستہ عارضی خاموشی اختیار کی ہے اور اب بھی تاک میں بیٹھے ہیں کہ جب اور جہاں موقع ملے اپنا کام دکھا دیں، اے پی ایس پشاور پر حملہ تو افواج پاکستان کو کھلا چیلنج تھا۔ ہماری بہادر افواج نے بھی اس چیلنج کو قبول کیا اور ملک کے طول و عرض میں دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آرمی پبلک سکول کے ذمہ دار دہشتگرد بھی نا صرف اپنے انجام کو پہنچنے بلکہ دیگر واقعات میں ملوث تخریب کاروں پر عرصہ حیات بھی تنگ کیا گیا۔
دہشتگردی کی بڑی بڑی وارداتوں پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2015ء میں اگرچہ دہشت گردوں کی کارروائیاں قدرے کم رہیں لیکن واقعات ضرور ہوتے رہے۔ تاہم 2016ء میں دہشتگردی کا فتنہ پھر سر اٹھا تا دکھائی دیا۔ اس دوران کوئٹہ، مردان ، چار سدہ، لاہور اور کراچی میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ۔ کوئٹہ کے پولیو سنٹر میں بم دھماکہ کے دوران کم و بیش 15افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ باچا خان یونیورسٹی مردان میں حملہ آوروں کی فائرنگ کے خوفناک واقعہ کے دوران 20افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں 9افراد جاں بحق متعدد زخمی ہو گئے اسی طرح خیبرپختوخوا کے ضلع چار سدہ میں سول کورٹ میں خودکش حملے کے دوران 10افراد جاں بحق اور 15زخمی ہوئے۔ پشاور میں سرکاری ملازمین کو لیجانے والی بس میں بم دھماکے کے دوران 17ملازمین ہلاک اور کم از کم 53مضروب ہوئے، پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے گلشن اقبال پارک میں تو قیامت ٹوٹ پڑی جب خودکش حملے کے دوران 74شہری جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اسی طرح جون کے آخری ہفتے میں کراچی کے با رونق علاقے میں عالمگیر شہرت کے حامل قوال امجد صابری کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ ملک کے طول و عرض میں سال رواں کے دوران کئی اور چھوٹے موٹے واقعات بھی سامنے آئے لیکن متذکرہ بالا قابل ذکر وارداتو ں نے تو ملک کے امن و امان کو بری طرح متاثر کیا۔
جہاں تک کوئٹہ میں24اکتوبر 2016ء کو ہونے والے پولیس ٹریننگ سنٹر پر خوفناک حملے کا تعلق ہے تو اس میں مذکورہ دو امور کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے حال ہی میں پاکستان سے افغان مہاجرین کے انخلا کا معاملہ، اگرچہ اس بارے میں پاکستانی حکومت نے افغان حکمرانوں اور مختلف قبائلی رہنماؤں سے باقاعدہ مذاکرات کے بعد فیصلہ کیا ہے لیکن اس فیصلے کی کئی سطح پر مخالفت بھی ہو رہی ہے اس لئے بلوچستان اسمبلی کے قریب ہونے والے تازہ ترین سانحہ کو اس تناظر میں دیکھنے کی بھی ضرورت ہے ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں بلوچ قبائل نے ابھی تک ہتھیار نہیں ڈالے اور وہ قومی دھارے میں شامل ہونے کے بجائے تا حال ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔
افواج پاکستان بھی بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے خاصی سنجیدہ ہیں اور ماضی قریب میں پاک فوج کے مختلف سربراہان نے واضح موقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں سکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔افواج پاکستان کے ترجمان نے تو یہاں تک کہا کہ دہشت گرد غیرملکی ایجنسیوں کی معاونت سے ملک میں شدت پسند سرگرمیاں کر رہے ہیں۔’شدت پسند افغانستان اور انڈیا کی رہنمائی میں ٹریننگ حاصل کریں گے ، انھیں لاجسٹک مدد فراہم ہو گی، تو وہ ٹیکٹیکل اور سٹرٹیجک دونوں لحاظ سے ہم سے آگے ہوں گے۔ ہمیں صرف شدت پسندوں کا مقابلہ نہیں کرنا بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کا بھی مقابلہ ہے۔ شدت پسند اْن کے ساتھ تیسرے فریق ہیں۔‘ہمارا سب سے بڑا چیلنج انڈیا اور افغانستان جیسی وہ ریاستیں ہیں جو دہشت گردی کو سٹرٹیجک ہتھیار کے طور پر پاکستانی ریاست کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔سرکاری حیثیت کے حاملی اعلیٰ حکام نے اس واقعہ کے فوری بعد ردعمل سے یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان دشمن قوتیں ہمارے ملک کو کس طرح کمزور کرنا چاہتی ہیں اور دہشتگردی کا ناسور کتنی تیزی سے ہمارے ہاں سرایت کر رہا ہے۔ بیرونی مداخلت کے ساتھ ساتھ اندرونی معاملات بھی اچھے قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ سیاسی اختلافات ذاتی انتقام کا روپ دھارے جا رہے ہیں۔ اس طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ویسے تو یہ امر کس قدر افسوس ناک ہے کہ جس فورس کو عوام کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ خود کس قدر غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔گزشتہ دوسالوں میں ہونے والے تینوں بڑے سانحات کوئٹہ میں کئی اقدار مشترک ہیں ۔ بار بار پولیس کو ٹارگٹ کیا جانا نہایت افسوسناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ یونیفارم فورس کا اتنا بڑا جانی نقصان ناقابل تلافی ہے ۔امید کی جانی چاہئے کہ ذمہ داران جلد کیفر کردار تک پہنچیں گے اورقوم کو اس حوالے سے اعتماد میں بھی لیا جائے گا۔سیاسی بحران یا عدم استحکام کا فائدہ اٹھا کر کارروائی کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تفتیشی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالیہ خود کش حملے کا باریک بینی سے جائزہ لیں ۔ ویسے تو تمام پہلوؤں پر غور کیا جانا چاہئے لیکن کس قوت نے سیاسی تناؤ کا فائدہ اٹھایا اس طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...