موسمی فلوسے گھبرائیں نہیں!

موسمی فلوسے گھبرائیں نہیں!

امراض سے لاعلمی یا کم علمی قابل علاج امراض کو بھی جان لیوا بنا دیتی ہے ۔ نتیجے میں پیدا ہونے والا خوف وہراس اور افواہیں حالات کو بد سے بدتر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے مو سمی فلو (H1N1) جسے سوائن فلو بھی کہا جاتا تھا ایک ایسا ہی مرض ہے ۔ پاکستان میں پایا جانے والا یہ وائرس سوائن فلو کا وائرس نہیں ہے بلکہ یہ موسمی انفلوئنزا ہے جو مکمل طور پر قابل علاج ہے۔ معمولی احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف اس مرض سے بچا جا سکتا ہے بلکہ مرض میں مبتلا ہونے کی صورت میں بروقت علاج ہر قسم کے خطرے کو کم کر دیتا ہے۔پنجاب کے چند اضلاع ملتان، وہاڑی، مظفر گڑھ،راجن پور اور لاہور میں موسمی فلو کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور بدقسمتی سے قیمتی انسانی جانوں کے نقصان نے مزیدخوف و ہراس میں ا ضافہ کیا ہے۔مو سمی فلو (H1N1) کے حوالے سے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ یہ وائرس بذات خود جان لیوا نہیں ہے تاہم موسمی فلو کا شکار افراد بروقت علاج نہ کروائیں تو قوت مدافعت میں کمی واقع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دیگر امراض سے جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔موسمی فلو سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مرض سے آگاہی حاصل کی جائے تاکہ بروقت علاج ممکن ہوسکے۔ مو سمی فلو (H1N1) کی عمومی علامات عام نزلہ سے ملتی جلتی ہیں ۔ان میں بخار ، کھانسی، سردرد،پٹھوں اور جوڑوں میں درد، گلاخراب ہونا اور ناک بہنا شامل ہیں جو کہ عموما 2سے 7روز میں بہتر ہو جاتی ہیں تاہم پیچیدگی کی صورت میں پھیپھڑوں میں انفیکشن یا سانس کی نالی میں سوزش ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے مریض سانس لینے میں دشواری ، سینے میں درد ،قے ، جلد کا نیلا یا سرمئی رنگ ہونااور دست وغیرہ کی شکایت کرتا ہے۔ ان علامات کے ظاہر ہونے کی صورت میں مریض کو فوری طورقریبی ہسپتال منتقل کر دینا ضروری ہے ایسی حالت میں مزید تاخیر خطرناک ہو سکتی ہے۔ حکومت نے ہر چھوٹے وبڑے ہسپتال بشمول تحصیل و ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں اور ٹیچنگ کالج سے منسلک ہسپتالوں میں موسمی فلو کے علاج کی تمام سہولیات فراہم کر دی ہیں ۔

یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مو سمی فلو (H1N1) کا وائرس بدلتے موسم اور بڑھتی سردی کے ساتھ پھیلتا ہے۔اس لیے موجودہ موسم میں احتیاط لازم ہے خاص طور پر اگر آپ کے ارد گرد موسمی فلو کا کوئی مریض موجود ہوتو متاثرہ شخص کے کھانسنے اور چھینکنے کے ساتھ جراثیم فضاء میں پھیل جاتے ہیں ۔ یہ وائراس مریض کے جراثیم آلودہ ہاتھوں سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔موسمی فلو کے متاثرہ مریض بروقت علاج کو یقینی بنانے کے علاوہ دیگر معمولی احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں کو صاف رکھیں ، مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک کو رومال یا ٹشو پیپر سے ڈھانپ لیں اور استعمال کے بعد اس ٹشو پیپر کومحفوظ طریقے سے ٹھکانے لگا دیں تا کہ وائرس کا پھیلاؤ کم سے کم ہو۔ مریضوں کے لیے ماسک کا استعمال کرنا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کر سکتا ہے جبکہ مرض کی صورت میں صحت مند افراد سے میل جول کم کر دینے کے علاوہ مناسب آرام کے لیے گھر پر رہنا چاہیے اور پانی زیادہ سے زیادہ پینا چاہیے۔

ماہرین صحت کے مطابق موسمی فلو کے ہائی رسک افراد میں 65برس سے زائد عمر کے افراد اور 5برس سے کم عمر بچوں کے علاوہ حاملہ خواتین شامل ہیں۔ جبکہ دائمی امراض کا شکار افراد ، جگر ،گردہ، دل اور شریانوں کے مریضوں کے علاوہ ایسے افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہو چکی ہے وہ موسمی فلو کا شکار ہو سکتے ہیں۔ایسے افراد کو موسمی فلو سے بچاؤ کے لیے بروقت ویکسینشن کروا لینی چاہیے اور موسمی فلو کے مریضوں سے ملتے وقت گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے گریز کرنا چاہیے۔ مریض کے کپڑے اور بستر اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔ بچوں کو صاف ستھرے دھلے ہوئے کپڑے پہنائیں اور سردی سے بچائیں۔موسمی فلو کے حوالے سے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اس مرض سے ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ احتیاط اور علاج سے موسمی فلو سے نجات ممکن ہے۔کسی بھی شخص میں موسمی فلو کی ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر اسے بنیادی مراکز صحت ، تحصیل و ضلعی ہسپتال یا ٹیچنگ ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔

محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری اور سپیشلائزڈ ہیلتھ نے اس سلسلے میں تما م ہسپتالوں کوموسمی فلو(H1N1)کی گائیڈ لائنزاور حفاظتی تدابیر اپنانے کے لیے نہ صرف مراسلہ جاری کیا ہے بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر ویڈیو لنک سے متاثرہ اضلاع کی ڈزیز سرویلنسررپورٹ کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ موسمی فلو کے علاج معالجے کے لیے پنجاب کے صحت کے دونوں محکمے دن رات کام کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں گذشتہ ہفتے صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر ، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ نجم احمد شاہ اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر اختر رشید نے ملتان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے کے لیے فراہم کی گئی سہولیات اور احتیاطی تدابیر کا جائزہ لیا۔ سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر علی جان خان نے پنجاب کے تمام اضلاع کے چیف ایگزیکیٹو آفیسرز ہیلتھ کو موسمی فلوے کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ موسمی فلو کے حوالے سے آگاہی دفتر قائم کریں اور موسمی فلو کے علاج معالجے میں استعمال ہونے والی تمام ادویات کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا اتنہائی ضروری ہے کہ کہ حکومت پنجاب اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تمام کوششیں کررہی ہے لیکن ہمیں انفرادی طور پر اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا خیال رکھنا چاہیے اور اس سلسلے نہ صرف اختیاطی تدابیر اپنانی چاہیے بلکہ دوسروں کو اس سلسلے میں آگاہی بھی فراہم کرنی چاہیے۔موسمی فلو کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کی ہیلپ لائن0800 9000چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے جس پر مفت کال کر کے آپ تمام معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2