سرکادرد۔۔۔وجوہات ،علامات ، احتیاطی تدابیر

سرکادرد۔۔۔وجوہات ،علامات ، احتیاطی تدابیر

سر کا درد ایک بہت عام اور اہم مسئلہ ہے۔دنیا میں شاید یہ بیماری سب سے زیادہ ہے۔ ایک ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ دنیا میں 100میں سے 99افراد کو زندگی میں کبھی نہ کبھی سرکا درد ضرور ہوتا ہے۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ یہ علامت نہایت بے ضرر وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور نہایت خطرناک بیماری کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے۔بنیادی طور پر ہر معالج کو سردرد کی مناسب تشخیص اور علاج سے واقفیت ہونی چاہیے ۔

سرکے درد کی وجوہات :

بڑوں میں سر کے درد کی کئی وجوہات ہیں۔ ہم بنیادی طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ سرکا درد جسم کے کسی دوسرے نظام کی خرابی کی وجہ سے ہے یا سرکا بنیادی درد ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تووہاں سردرد کی شکایت کافی کم ہے۔ ہمارے ملک میں یہ علامات بہت عام ہیں۔ ہمارے شہر پھیلتے جارہے ہیں، شور ‘ ماحولیاتی آلودگی‘ ذہنی دباؤ‘ لڑائی جھگڑا‘ ٹریفک کی زیادتی نہایت اہم مسائل ہیں۔ ان سب سے ذہن پر دباؤ بڑھتا ہے اور سرکا درد شروع ہوجاتا ہے۔کچھ اہم اور خطرناک نوعیت کی بیماریاں بھی ہیں جو سردرد کا باعث بن سکتی ہیں۔ فالج ‘ دماغ کی چوٹ معمولی یا بڑی‘ دماغ کی رسولی اور کینسر‘ یا سوزش ایسی وجوہات ہیں جن میں سرکا درد ہوسکتا ہے۔

فالج اور سرکا درد:

فالج میں سر درد کے ساتھ متلی یا قے بھی آ جاتی ہے اور مریض کو مرگی کے جھٹکے لگ سکتے ہیں اگر فالج کی وجہ خون کی نالی کا پھٹنا ہے تو مریض کو دوائیوں کے ساتھ مناسب حد تک محفوظ حالت میں رکھا جاتا ہے اور فوراً آپریشن کر کے جمے ہوئے خون کو نکال دیا جاتا ہے۔

سی ٹی سکین کے نقصانات:

چونکہ یہ ایک کمپیوٹرائزڈ ایکسرے مشین ہے اس لئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایکسرے انسانی جسم کے لئے نقصان دہ ہیاور بچوں میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ان کے گردن پیٹ اور نچلے دھڑ کو مکمل طور پر ایکسرے سے بچانا ضروری ہے اور صرف اس صورت میں سی ٹی سکین کروایا جائے جب کسی سپیشلسٹ کے مطابق یہ بہت ناگزیر ہو۔ حاملہ خواتین میں سی ٹی سکین مکمل طور پر منع ہے اس کی اجازت صرف تب ہو گی جب ماں کی جان کو خطرہ ہے۔ سر میں درد تو بہت مریضوں میں ہوتی ہے مگر چند بنیادی علامات یاد رکھیں سی ٹی سکین صرف تب کروائیں جب مندرجہ ذیل میں سے کوئی علامت موجود ہو۔ سر میں درد کا دن بدن بگڑتا جانا ،سر درد کے ساتھ الٹی قے آنا یا مرگی کے جھٹکے لگنا، سر درد کے ساتھ ہاتھ پاؤں کا سن ہو جانا یا کمزور ہونا، سردرد کے ساتھ ساتھ گردن میں درد اور بخار کا ہونا، صبح صبح سو کر اٹھتے وقت چکر آنا یا مریض کا گر پڑنا چونکہ یہ ایک مہنگا اور رسک والا ٹیسٹ ہے اس لئے میں کہوں گا بہت اچھی طرح مریض کا معائنہ کر کے اسے کیا جائے تاکہ بیماری بھی پتہ چل جائے اور ٹیسٹ دوبارہ نہ کرنا پڑے۔

بچوں میں سر درد

اگر بچے ہر وقت کھیل کود میں مشغول ہوں تو وہ کھانے پینے سے جان چراتے ہیں ۔اگر جسم میں پانی کی مقدار اگر ایک خاص حد سے کم ہو گی تو بچے کو سر کا درد ہو سکتا ہے ۔بچوں میں ایک عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ رفع حاجت کے لئے جانے کو پسند نہیں کرتے اس کے نتیجے میں بھی سرکا درد ہو سکتا ہے۔ بچوں میں ناک کان گلہ کی بیماریاں کافی عام ہوتی ہیں زکام کا ہو جانا ناک کا بہنا ایک عام سی چیز ہے اس کی وجہ کچھ بھی ہو اس طرح سے بچوں میں سر کا درد شروع ہو جاتا ہے۔خطرناک بیماریوں سے ہماری مراد وہ بیماریاں ہیں جن کا علاج ممکن ہے اور آسانی سے کیا بھی جا سکتا ہے بشرطیکہ وقت پر صحیح تشخیص ہوسکے سب سے اہم بیماری گردن توڑ بخارہے۔ اس بخار کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جسے ہم یا فوراً ہونے والا گردن توڑ بخار کہتے ہیں اور دوسری قسم کی دائمی گردن توڑ بخار کہا جاتا ہے ۔۔ اس بیماری میں بچے کے سر اور گردن میں درد ہوتا ہے، بخار چڑھتا ہے، بچہ غنودگی میں جاتا ہے ،مرگی کے جھٹکے لگ سکتے ہیں اور بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے ۔اگر چھوٹے بچے میں سر درد کے ساتھ بخار ہو، نظر کمزور ہو جائے بچہ ڈھیلا پڑ جائے ،متلی یا الٹی کی شکایت ہو تو فوراً کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے ویسے تو بچوں میں بخار کے ساتھ سر درد کا ہو جانا کافی عام ہے، چھوٹے بچوں میں اس کے ساتھ مرگی کے جھٹکے بھی لگ سکتے ہیں اوراگر بروقت علاج نہ ہو تو بچہ بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں میں سر کے درد کی وجوہات میں کئی سادہ باتیں شامل ہیں ۔اگر بچے کا لباس موسم کی مناسبت سے نہ ہواور اسے گرمی یا سردی زیادہ لگے تو یہ بات سر درد کا باعث بن سکتی ہے ۔اگر بچہ زیادہ دیر بھوکا رہے اور کھیل رہا ہو تو اس کے جسم میں گلوکوز کی مقدارگر سکتی ہے اور بچے کو سر کے درد کی شکایت ہو گی۔

دماغ کی ٹی بی:

دماغ میں تپ دق (TB) کی وجہ سے ہونے والی گردن توڑ بخارکو ہم نے نہایت متمول خاندان کے بچوں میں ہوتے دیکھا ہے ۔ان گھروں میں کام کرنے والے ملازمین بچوں کو اس بیماری میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ دماغ کی TB نہ صرف غریب افراد بلکہ امیر گھرانوں میں بھی موجود ہے اگر اس کی تشخیص اور علاج بر وقت اور مناسب وقت پر نہ کیا جائے تو دماغ کے اندر موجود پانی کا پریشر بڑھتا جاتا ہے، بچے کی نظر کمزور ہو سکتی ہے،بچہ سکول میں پڑھائی میں پیچھے رہ جائے گا ،چھوٹے بچوں میں سر بڑا ہونا شروع ہو جائے گا اس حالت کو (Hydorcphalus) کہتے ہیں ۔اس میں دماغ کے اندر پانی کا بہاؤ رک جاتا ہے اعر سر درد بھی لاحق ہو جاتا ہے ۔اس حالت کا علاج کچھ خاص قسم کی ادویات سے کیا جاتا ہے جن سے دماغ کے اندر دباؤ کم ہو جاتا ہے ۔کچھ حالات میں دوائیاں کامیاب نہیں ہوتیں تو نہایت نازک قسم کی ٹیوب ڈالی جاتی ہے۔ یہ ٹیوب دماغ کے خلیے سے پانی اس وقت نکالتی ہے جب پریشر بہت بڑھ جائے پھر اس فالتو پانی کو جلد کے نیچے نیچے سے گردن اور چھاتی سے گزار کر پیٹ تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ نہایت احتیاط سے کیا جاتا اور آپریشن سے اور اس کے بعد مریض کے دماغ کو ہونے والا نقصان رک جاتا ہے۔

دماغ کا کینسر اور رسولی:

آج کل دماغ کی رسولیاں اور کینسر سے لوگ زیادہ پریشان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکا درد ایک عام مرض یا علامت ہے اور اکثر لوگ خوف کی بنا پر سی ٹی سکین کروانا چاہتے ہیں ۔دماغ کی رسولی اور کینسر ایک عام مرض ہرگز نہیں ہے ۔اگر کسی کو برسوں پرانا درد ہو تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے دماغ میں رسولی ہو گی۔ ان حالات میں زیادہ علامات نہایت مخصوص ہیں، سرکا درد اگر ہو گا تو ہلکا ہلکا ہو گا، روزانہ ہو گا، زیادہ درد صبح کے وقت ہو گا ،مریض کو متلی کم ہو گی لیکن قے فوراً آ جائے گی۔

***

مزید : ایڈیشن 2