بچوں کاادب توجہ کا طالب ادب اطفال کے تخلیق کاروں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے

بچوں کاادب توجہ کا طالب ادب اطفال کے تخلیق کاروں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بچوں کا ادب ، ادب کی ایک مشکل ترین صنف سمجھی جاتی ہے۔کیوں کہ یہ ادب ایک مقصدی ادب ہوتا ہے ، اس کے ذریعے بچوں کو مسرت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان میں تخیل کی صلاحیت پیداکرنے، جذبہ اور حوصلہ پروان چڑھانے،مختلف النوع تجربات سے روشناس کرانے، دنیااور لوگوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنے، ان میں ثقافتی و تہذیبی ورثے کو منتقل کرنے اوراخلاقی اوصاف کے نشوونما کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس ادب کے ذریعے ان میں پڑھنے اور لکھنے کی مہارتیں اورمختلف میدانوں سے متعلق علم کو بھی پیدا کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے ان تمام مقاصد کے ساتھ بچوں کے لیے دلچسپ ادب پیش کرنانہایت ہی مشکل کام ہے، اسی لیے اس صنف میں بہت ہی کم ادیبوں نے طبع آزمائی کی ہے۔ خاص طور پرموجودہ دور میں اردو زبان میں بچوں کے ادب پر بہت کم توجہ دی جارہی ہے۔ حالانکہ اردو میں بچوں کے ادب کی ایک توانا روایت رہی ہے۔انیسویں صدی کے دوران محمدحسین آزاد ، ڈپٹی نذیر احمد اور مولوی اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لیے کافی کتابیں تصنیف کی تھیں۔موجودہ زمانے میں لکھی جانے والی تمام تحریریں اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی اہم ہونے کے باوجود نئی نسل کی امنگوں، ان کی خواہشوں ، دلچسپیوں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔

پاکستان میں بچوں کا رویہ لٹریچر کے تئیں بڑا مایوس کن ہے۔ کتابیں پڑھنے کا شوق ویسے بھی کئی وجوہات کی بنا پر کم تھا، اور اب میڈیا کی بدلتی شکلوں نے کتابوں کے پڑھنے کے ذوق کو اور بھی کم کردیا ہے۔ بڑوں کا معاملہ ہی دگرگوں ہے۔ اس کے اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔ والدین کا رویہ یہ ہے کہ جن کتابوں کا تعلق نصاب یا سکول سے ہے وہی کتابیں خریدیں گے۔ نصابی کتب سے ہٹ کر دیگر لٹریچر ابھی اکثر والدین کے نزدیک ’’فضول خرچی‘‘ ہے۔ اگر کوئی بچہ پڑھنے کا ذوق بھی رکھتا ہے تو والدین اس کی ہمت افزائی نہیں کرتے۔

تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے زندگی کے جس شعبے میں مشترکہ کوششیں کی وہاں انہوں نے ترقی کی، مگر افسوس کہ بچوں کے ادب نے ترقی کے بجائے تنزلی ہی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ آج کل بچوں کا ادب جن حالات سے گزر رہا ہے وہ کسی اہل قلم سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ایک ادیب روشنی کو سیاہی اس لیے کہتا ہے کہ کیونکہ وہ معاشرے کی سیاہیوں کو سفید صفحے پر پھیلا کر معاشرے کے سفید اور سیاہ کو اجاگر کرتا ہے اور دور کرنے کی سعی کرتا ہے اور آج یہ سیاہی اسی ادیب پر الٹ دی گئی ہے۔اردو ادب کی کئی نامور شخصیات نے بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں اور ترجمہ بھی کیں۔ بچپن میں جب یونانی ادب سے لے کر جاپانی ادب تک سے ترجمہ کی گئی ملک ملک کی لوک داستانیں پڑھتا تو آخر میں "مرکزی خیال ماخوذ" یا "ترجمہ" لکھا دیکھائی دیتا تھا اور ایسے لگتا تھا کہ جیسے میرے ملک کی کہانیاں ہیں۔ آج ہم بچوں کے ادب میں بانجھ ہوتے جا رہے ہیں، اسے سرکاری و نجی دونوں سطح پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

پرنٹ میڈیم بہت تیزی کے ساتھ اب ڈیجیٹل میں تبدیل ہورہا ہے۔ ہمیں مستقبل کی فکر کرتے ہوئے بچوں کے لیے ڈیجیٹل مواد تیار کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس میدان میں ایران نے بہت کام کیا ہے۔ مغرب بالخصوص امریکہ کی بعض اسلامی تنظیمیں بھی اس میں کام کررہی ہیں۔ ملیشیا میں بھی کچھ کام ہوا ہے۔ ہمیں اس سرمایہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہ پاکستانی تناظر میں کام کرنا چاہیے۔ اس میدان میں ہمیں ابھی تک کوئی نمایاں کام نظر نہیں آرہا ہے جو ہمارے ملک میں ہوا ہو۔ ایک مشہور چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ ایک سال کا منصوبہ بنا رہے ہو تو کاشتکاری کرو، دس بیس سال کا منصوبہ بنارہے ہو تو باغبانی (پھلدار درخت لگانے) کا منصوبہ بناؤ اور اگر آپ اس سے طویل مدت کا منصوبہ بنا رہے ہو تو اپنی نسلوں کو تیار کرو۔افسوس کہ ہمارے پاس پہلے تو طویل المعیاد منصوبہ نہیں ہے کہ ہم اس ملک میں اگلے پچاس برسوں میں اپنے آپ کو کس پوزیشن میں لائیں گے، اور جن کے پاس یہ منصوبہ ہے وہ اپنی نوخیز نسل کی نگہداشت، تعلیم و تربیت ویسے نہیں کررہی ہے، جو انھیں مقصد کی طرف لے جاسکے۔ ہم تو اپنے بچوں کو مستقبل میں پیسہ روپیہ کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور انھیں اتنا ہی پڑھاتے ہیں، جتنا کہ پیسہ کمانے کے لیے ضروری ہے۔ اگر زاویہ نگاہ تبدیل ہوتا ہے تو پھر ملت بچوں پر investکرے گی اور اس میں بچوں کے لٹریچر کی تیاری کا ادارہ بھی شامل ہوگا۔

وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب میں بھی نئے نئے اسلوب اختیار کیے جانے لگے ہیں،اور بچوں میں بھی الگ الگ عمر کے گروپ کے بچوں کے لیے الگ الگ موضوعات پر ، الگ الگ زبان اور اسلوب میں کتابیں تیار کی جارہی ہیں۔12سال کے کم عمر بچوں کی کتابوں کی طباعت اور ڈیزائیننگ انتہائی خوبصورت اور دلکش ہوتی ہے۔ ان میں الفاظ کم اور تصاویر زیادہ ہوتی ہیں۔ تصاویر ہی کے ذریعے بہت ساری باتیں بیان کردی جاتی ہیں۔نئے زمانے کے بچوں میں ٹیلی ویڑن اور ویڈیو گیمز کی وجہ سے تصویروں پر مبنی کتابوں میں ہی زیادہ دلچسپی دیکھی جارہی ہے۔ تیرہ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کی کتابوں کا انداز اور ان کے موضوعات الگ ہوتے ہیں۔ انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں تو ’ینگ ایڈلٹ لٹریچر‘ کے نام سے ایک الگ صنف موجود ہے جس میں نوبالغوں کے لیے ان کے ذوق کے مطابق کتابیں موجود ہیں۔نوبالغوں کے ادب میں کثیر موضوعاتی کہانیاں، تحیر خیز واقعات کا تسلسل،یاد رکھے جانے والے کردار،دلچسپ مکالمے،موثراور واضح اسلوب تحریر، حسن مزاح، حیرت انگیز آغاز اور انجام وغیرہ جیسی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ان میں پیش کیے جانے والے کردار اور موضوعات ایسے ہوتے ہیں جن سے نوعمر بچوں کو اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کرداروں اور موضوعات کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ بچے انہیں جھٹلانہ سکیں، نہ انہیں چھوٹا کرسکیں اور نہ ان کی قدرمیں کمی ہو۔ ان کرداروں اور موضوعات کو ایسی زبان میں پیش کیا جاتا ہے کہ نوعمر بچے انہیں آسانی سے سمجھ سکیں۔ ان کہانیوں میں پلاٹ کو تمام چیزوں سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ انگریز ی میں مقبول عام ہیری پوٹر سیریز اسی نوبالغوں کے ادب کا ایک نمونہ ہے۔

اس وقت خاص طور پر اسلامی نقطہ نظر سے بچوں کے لیے ایسی کہانیوں اور ناولوں کی سخت ضرورت ہے جو آج کی نئی نسل کی ضرورتوں اور دلچسپیوں کے مطابق بھی ہوں،اور اس کے ذریعے بچوں میں مثبت اقدار بھی نشوونما پاسکیں۔

علمی دنیا میں یہ رواج عام ہے کہ جو موضوع یاشعبہ علم اپنی تخلیقی حیثیت ا ور معنویت فراموش کر دیتا ہے تحقیق کا موضوع بن جاتا ہے۔یہ بات اردو زبان میں ادبِ اطفال کی صورتحال پر بھی صادق آتی ہے۔اردو میں ان دنو ں جتنا وقت ادبِ اطفال پر تحقیق میں صرف ہو رہا ہے اتنا تخلیق پر نظر نہیں آتا۔ جو تخلیقات ہو بھی رہی ہیں، وہ قارئین کی نظرِالتفات سے محروم ہیں،اور اس بے التفاتی کے ذمہ دار تخلیق کار اور قاری دونوں ہیں۔

مطالعہ کا شوق بچپن سے پروان چڑھتا ہے اور بڑھتی عمر کے ساتھ جنون کی شکل اختیار کرلیتاہے،بچپن کامطالعہ بچوں میں نہ صرف اخلاقی اقدار کو فروغ دیتا ہے بلکہ زبان وبیان کی درستگی اور اظہار کے سلیقے بھی سکھاتا ہے۔دورِحاضر میں ترسیل کے ذرائع بڑھے ہیں،کمپوٹر اور ملٹی میڈیا تعلیمی عمل میں دلچسپی کا سامان فراہم کررہے ہیں۔ لیکن بچوں کا وہ وقت جو کہانیاں پڑھنے یا سننے سنانے میں صرف ہوتا تھا، اس کی جگہ کارٹون موویزیا کمپوٹر گیمزلے چکے ہیں،جس کے سبب بچے نہ صرف نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ اقدار کے زوال کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کا معیار بھی پست ہورہا ہے۔نسلِ نو کو تباہی سے بچانے کے لیے ان کا تعلق تکنیکی وسائل کے ساتھ ساتھ علم وادب سے جوڑنا بھی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ یہ کام اس صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جبکہ ادبِ اطفال کو دورِ حاضر کے ان تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے جو ہمہ پہلو ہیں تا کہ بچوں کا ہمہ جہت ارتقاء ہو سکے۔ انگریزی ادب میں اس سلسلے میں خاصی پیش رفت ہورہی ہے جبکہ اردو ادبِ اطفال اب بھی محض پند ونصائح کے مجموعے کا نام سمجھا جاتا ہے۔

اردو زبان میں بچوں کے لیے معیاری ادب کی تخلیق میں جہاں دوسری زبانوں میں کیے جارہے تجربات سے استفادہ کی ضرورت ہے وہیں اس بات کو بھی ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا لٹریچر دوسری زبانوں کا چربہ نہ ہو،بلکہ ہم خود موضوعات کے تنوع کے ساتھ ساتھ ہیئتی اور تکنیکی تجربات کو بھی رواج دیں تاکہ بچوں میں دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کے رجحان کو پروان چڑھانے میں مدد ملے۔اس سلسلے میں اردو رسائل کا رول بہت اہم ہے کہ وہ نہ صرف قارئین سازی کا بلکہ مصنفین سازی کا بھی کام کرتے ہیں۔

بچوں کا ادب تخلیق کرنا،ا ور اس میں کام کرنا ہمیشہ اہم مگر نازک مسئلہ رہا ہے۔ کیونکہ اس کے لیے جہاں بچوں کی نفسیات، رجحانات، اور معاشرت وماحول کا دقیق علم درکار ہے، وہیں ان تمام چیزوں کو بچوں کی سطح پر اتر کر بیان کرنے کا، اور سمجھانے کا فن بھی نہایت ضروری ہے، جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔

سائنس وٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی گزرے زمانے کے سنگ ہائے میل کو بڑی تیزی کے ساتھ پیچھے چھوڑتی جارہی ہے۔ نسلوں کے درمیان خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سماجی ومعاشرتی اقدار وروایات تیزی سے اتھل پتھل ہورہی ہیں، دیہی سادہ زندگی پر شہری مگر پر تصنع زندگی غالب آتی جارہی ہے، اور اس سے سے سب سے پہلے اور براہ راست نوعمر نسل متاثر ہورہی ہے۔ چنانچہ محض بیس پچیس سال قبل کا بچوں کا ادب موجودہ نسل کے لیے آؤٹ ڈیٹیڈ معلوم ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ دنیا بدل گئی ہے، ماحول بدل گیا ہے، اور اقدار وروایات تبدیل ہوگئی ہیں۔

اس سیاق وسباق کا مقصد یہ ہے کہ ادب اطفال کے تخلیق کاروں کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اب انہیں ایک تیزطرار ’بولڈ‘ الیکٹرانک دور کی ایسی نسل کو مخاطب کرنا ہے جو وعظ ونصیحت سننے کے لیے تیار نہیں اور جو ابتدا ہی سے تقابل کا رجحان اور صلاحیت رکھتی ہے۔ تقابلی رجحان کا مطلب ہے کہ جب انٹرٹینمنٹ کے لیے اس کے پاس ٹی وی، ویڈیو، کمپیوٹر اور دیگر الیکٹرانک دلچسپ آلات موجود ہیں تو وہ کتاب کا مطالعہ کیوں کرے۔

ظاہر ہے اسے اب اگر لٹریچر پڑھانا ہے تو ان تمام چیزوں سے زیادہ دلچسپ اور زیادہ معلوماتی چیزیں اس کے سامنے پیش کرنا ہوں گی، تاکہ وہ اسے قبول کرسکے۔ ادب اطفال کا یہ سب سے بڑا چیلنج ہے ۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہایک زمانے میں بچوں کے رسالوں سے بچوں کی ذہن سازی کاکام بخوبی انجام دیا جاتا رہا۔ان رسالوں کے ذریعہ بچوں کی دینی ،اخلاقی، ذہنی و علمی تر بیت کا کام بھی خوب ہوا، لیکن اب ان رسالوں کا زور مستقل ٹوٹتا جا رہا ہے۔ ادب اطفال معاشرے کی ایک ویسی ہی ضرورت ہے جیسی کسی دیوارکی تعمیر کے لیے گارے یا پتھر اور اینٹ کی ہے۔ کسی خوبصورت اور بلند دیوار کا منصوبہ ان بنیادی عوامل کے بغیر پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ ٹھیک ایسے ہی کسی بہتر اور معیاری معاشرے کی تشکیل کا خواب ادب اطفال کی بنیاد پر اٹھائے بغیر شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے، اور ادب اطفال بھی ایسا جس کی تخلیق صالح اور تعمیری فکر اور جذبے کے ساتھ کی گئی ہو۔

ملک بھر میں پھیلی ہوئی اردو اکیڈمیاں، کونسلیں ،تنظیمیں اور ادبی و سماجی ادارے بھی اپنی اپنی سطح پر ادب اطفال کے فروغ کی عملی کوششیں کریں تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو شعر و فن کے حوالے سے تابناک منزلوں کی طرف گامزن رکھ سکیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...