یا اللہ رحم!

یا اللہ رحم!
 یا اللہ رحم!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہماری سیاسی قیادت بے توقیر ہے، نواز شریف کو عدالت نے نااہل قرار دے دیا ہے تو آصف زرداری کو عوام نااہل جان کر مسترد کرچکے ہیں جبکہ عمران خان اپنی شامت اعمال کے سبب بنی گالا میں چھپے بیٹھے ہیں ....یا اللہ رحم!

ہمارے بچے والدین کی پاکدامنی اور نیک چال چلن کی قسمیں اٹھارہے ہیں اور ہمارے والدین بچے بنے ہوئے ہیں....یا اللہ رحم!

ہمارے ملکی ادارے متنازع ہو چکے ہیں، ایک چوتھائی قوم ان اداروں کے ساتھ اور تین چوتھائی قوم ان کے خلاف کھڑی ہے، ہمارے گلی کوچوں میں ادارہ جاتی حاکمیت و برتری پر بحثیں چھڑی ہوئی ہیں ....یا اللہ رحم!ہم اپنے ہمسایوں میں غیر مقبول ہیں، ہماری دوستی، ہماری دشمنی عیاری سے عبارت ہے۔ ہم امریکہ کے یار تھے اور ہم امریکہ کو یارمار گردانتے ہیں ۔ ہم چین کی گود میں جا بیٹھے ہیں اور چینی بے یقینی کا شکار ہیں کہ خداجانے کب ہم ان کی داڑھی بھی نوچیں گے....یا اللہ رحم!

ہمارے ہاں تعلیم اور صحت کے ادارے تجارت گاہیں بن چکے، ہم ہر شے بیچنے پر آمادہ ہیں ، شرم بھی ، بے شرمی بھی....یا اللہ رحم!

ہم سترہ برس سے سود کے خلاف فیصلہ لئے بیٹھے ہیں ، بھٹو کے عدالتی قتل کا مقدمہ لئے بیٹھے ہیں ، بے نظیر بھٹو کے قاتلوں سے صرف نظر کئے بیٹھے ہیں ، ہمارے ملک کے تین وزرائے اعظم کے قتل کاکھرا ان شرپسند عناصر کے دروازوں پر ملتا ہے جو جنرل مشرف کے بقول ہمارے اداروں میں بیٹھے ہوئے ہیں ....یا اللہ رحم!

ہم خدا کی حاکمیت کے بعد اس ارض پاک پر اپنی اپنی حاکمیت کا جھنڈا گاڑنے میں اوتاولے ہوئے جارہے ہیں۔ ہم اپنی برتری کے قائل ہیں اور اپنے سوا ہر کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش اور خواہش میں مرے جا رہے ہیں اور عوام تقسیم در تقسیم کے ایسے عمل سے گزررہے ہیں کہ بات شیعہ سنی کی تفریق سے آگے نکل گئی ہے ، اب ہماری لڑائی خود اپنے آپ سے ہے....یا اللہ رحم!

ہم اپنی سیاسی قیادت کو بے توقیر کرنے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں ، ہم انہیں چور، ڈاکو، کرپٹ اور سیکورٹی رسک قرار دینے میں ذرہ برابر تامل نہیں کرتے ، ہم پولیس یونیفارم کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ اس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے اور فوجی یونیفارم چومتے ہیں کہ اس کے ہاتھ میں بندوق ہے....یا اللہ رحم!

ہم پاکستانیوں کے امریکی ،برطانوی، کینیڈین اور آسٹریلوی بچے ہمارے لئے ناکارہ ہو چکے ہیں ، ہم خدا سے شکوہ کرتے ہیں کہ ایسے خودغرض اور خودسر بیٹوں کی جگہ ہمیں بیٹیاں ہی دی ہوتیں حالانکہ ہم نے خود انہیں اپنا پیٹ کاٹ کر انہیں امریکی، برطانوی، کینیڈین اور آسٹریلین بچے بنایا ہے....یا اللہ رحم!

ہمارے معاشرے کے بڑے گدھوں کو سر پر بٹھائے گھوڑوں کو سرپٹ دوڑارہے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے ڈاک کا نظام قائم کرتے ہوئے ہر بارہ میل کے فاصلے پر سرائے بنائی تھی کہ گھوڑا بارہ میل تک ایک رفتار سے دوڑ سکتا ہے اور اس کے بعد مسلسل دوڑنے سے اس کا دل پھٹ سکتا ہے مگر ہمارے معاشرے کے بڑے اس حقیقت سے بے نیاز گھوڑوں سے گدھوں کی طرح اور گدھوں سے گھوڑوں کی طرح کام لینے کے درپے ہیں ....یا اللہ رحم!

ہمارے ریستورانوں پر فوڈ کے نام پر زہر بکتا ہے اور ہم ان ریستورانوں کے باہر قطار لگائے کھڑے ہیں ....یا اللہ رحم!

ہمارے ہاں انتہا پسند طبقے اسٹیبلشمنٹ کا ہتھیار بنے ہوئے ہیں جو منتخب حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے ہر تماشہ لگانے کو تیار ہیں ، ہمارے ملک کے وزیر داخلہ کو اس کی ماتحت فورس نیب عدالت کے اندر نہیں جانے دیتی اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی....یا اللہ رحم!

ہمارے ریٹائرڈ جرنیل ٹی وی چینلوں پر جس قسم کی گفتگو اور جو انداز تخاطب اختیار کرتے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے حاضر سروس جرنیل ہمارے منتخب نمائندوں کے ساتھ کیا کرتے ہوں گے....یا اللہ رحم!

ہمارے ادارے جمہوریت کے تسلسل پر یقین رکھتے ہیں اور جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کو بحفاظت جلاوطن کرتے ہیں ....یا اللہ رحم!

ہمارے جج ٹیلی فون پر گفتگو کرکے سزائیں سناتے ہیں مگر ہم مجرم صرف سیاسی مخالفین کو گردانتے ہیں کیونکہ اس ملک میں اقتدار میں آنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ اس کی مخالفت کرو اسٹیبلشمنٹ جس کی مخالف ہے ....یا اللہ رحم!

ہم انصاف کے لئے سڑکوں اور دھونس دھاندلی کے لئے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں ....یا اللہ رحم!

ہمارے ہاں کسی ٹی وی چینل کے خبرنامے سے پہلے اور بعد میں قائد کے فرمودات اور اقبال کے اشعار کا رواج نہیں رہا ، ہم مادر پدر آزاد معاشرہ بن چکے ....یا اللہ رحم!

ہماری صحافت راہ و رسم بڑھانے اور جائز ، ناجائز کروانے سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ ہمارے ہاں صنعتکار مسند صحافت پر براجمان ہو چکے اور ہم ملکی مسائل کا اپنا اپنا حل چاہتے ہیں ، ہمارے تجزیہ کار تخریب کار اورہمارے دانشور سیاسی جماعتوں کے مجاور....یا اللہ رحم!

مزید : رائے /کالم