نیکٹٓ کی دہشتگردی اور شدت پسندی کیخلاف موثر کارروائی کیلئے حکمت عملی تیار

نیکٹٓ کی دہشتگردی اور شدت پسندی کیخلاف موثر کارروائی کیلئے حکمت عملی تیار

اسلام آباد ( آن لائن ) نیشنل کا ؤ نٹر ٹیررازم اتھارٹی(نیکٹا)نے نیشنل ایکشن پلان کے مطابق دہشتگردی، عسکریت پسندی اور شدت پسندی کیخلاف موثر کارروائی کیلئے حکمت عملی تیار کر لی ہے جس کا مرکزی محور پنجاب کے جنوبی اضلاع ہو نگے جبکہ حکومت نینیکٹاکو اپنا ادارتی جاتی ڈھانچہ مضبوط بنانے کیلئے 1 ارب 64 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کئے ہیں جس میں سے 53 کروڑ 8 لاکھ روپے کی ابتدائی رقم جاری کردی گئی ۔ نیکٹا نے اپنا ضروری سٹاف بھرتی کرلیا جبکہ جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (جے آئی ڈی) کا آفس اور سٹاف کے پہلے گروپ کی تعیناتی بھی مکمل ہوگئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نیکٹا کے زیر انتظام کاؤنٹر ٹیررازم فورس میں صرف وہ لوگ شامل کئے جائیں گے جو بطور کمانڈو بہترین تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے خلاف ذہنی طور پر پوری طرح تیار ہونگے۔ پنجاب میں ایسے اعلیٰ پائے کے 1500 کمانڈوز کی فورس بنانے کی منظوری دی گئی ہے جس میں سے1182 کی سلیکشن مکمل ہوچکی ہے۔ ادھر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر احسن غنی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کو نیشنل ایکشن پلان پر خصوصی بریفنگ دی اورآئندہ کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال بھی موجود تھے۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر اے رحمن ملک نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت بشمول ارکان پارلیمنٹ تمام خودکاراسلحہ کے لائسنسز پر پابندی کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اس معاملے کو پارلیمینٹ میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر سینیٹ کمیٹی کے تمام ممبران نے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہ کرنے پر حکومت کو زبردست تنقید کانشانہ بنایا۔چیئرمین کمیٹی رحمنٰ ملک نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ نیکٹا کے ذریعے یورپی سفارتکاروں کو دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کرے۔

نیکٹا/حکمت عملی

مزید : علاقائی