بلوچستان اسمبلی کے منحرف مسلم لیگ ارکان نے انٹیلی جنس اداروں کا دباؤ ظاہر کیا : وزیر اعظم

بلوچستان اسمبلی کے منحرف مسلم لیگ ارکان نے انٹیلی جنس اداروں کا دباؤ ظاہر ...

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے پارٹی کے منحرف اراکین نے مجھ سے بات کرنا گوارہ نہیں کی۔ منحرف اراکین نے کہا کہ ان پر دباؤ ہے۔ بلوچستان میں جو کچھ کیا گیا اس سے جمہوریت کو نقصان ہوگا، میں نے بلوچستان کے پارٹی اراکین کو آنے والی جعلی کالز کی تحقیقات کا کہا ہے۔ پنجاب میں چلنے والی تحریکوں سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، لوگوں کے جنازوں پر چلنے والی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ الیکشن قریب ہیں لہٰذاسیاسی جماعتیں الیکشن پر توجہ دیں۔نجی ٹی وی کو گزشتہ روز انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جو کچھ ہوا اس طرح کے حالات جمہوریت کیلئے اطمینان بخش نہیں۔ مسلم لیگ ن بلوچستان کے منحرف اراکین بات کرنا گوارہ نہیں سمجھی۔پوچھنے پر اراکین نے بتایا کہ ان پر دباؤ ہے جب پوچھا کس کا دباؤ ہے تو ہمیں انٹیلی جنس اداروں کا دباؤ بتایا گیا۔ ثناء اللہ زہری کو ہم نے استعفیٰ دینے کا نہیں کہا۔ انہوں نے استعفیٰ دینے میں عزت سمجھی۔ پارٹی فیصلہ کرے گی انہوں نے جو قدم اٹھایا وہ صحیح ہے کہ نہیں، ثناء اللہ زہری کے استعفے پر ہماری رضا مندی نہیں تھی۔ بلوچستان اسمبلی کے باہر وزیر داخلہ سے کہا ایف سی کس کے حکم پر موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ بات اقتدار کی نہیں نظام کے چلنے کی ہے۔ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور عوام کو فیصلے کا موقع ملے۔ اس قسم کے اقدامات ہونگے تو قیاس آرائیاں ہو ں گی۔ 30 سال میں 30 تماشے دیکھے ہیں۔ ایسے اقدام سے کیا بلوچستان کی سیاست میں بہتری آئے گی۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہمیشہ کھل کر سیاست کی ہے۔ میں وزیراعظم کی حیثیت سے 3 بار بلوچستان گیا، وہاں کسی نے ایسی بات نہیں کی۔جمہوری عمل کو جب دبانے کی کوشش کی گئی ملک کا نقصان ہوا۔ پرویز مشرف نے بلوچستان کے علاقوں کو بی کلاس میں تبدیل کردیاتھا۔ بلوچستان کے معاملات کا حل طریقہ کار کے ذریعے چاہتے ہیں۔ کوئی سازش کرنا چاہئے تو اس کا حل میرے پاس نہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جے یو آئی بلوچستان میں اپوزیشن میں ہے۔ جے یو آئی کو فاٹا کے معاملات پر اثر انداز ہونے نہیں دیا۔ فاٹا کے معاملے پر اتفاق رائے چاہتے ہیں۔ ساڑھے 3 سال سے فاٹا پر کام ہو رہا ہے چند دن میں معاملے آگے بڑھے گا۔ جمہوری عمل کو جب دبانے کی کوشش کی گئی نقصان ہوا۔ ہمیں آل پارٹیز کانفرنس والوں سے کوئی پریشانی نہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس والے ملک میں انتشار پیدا نہ کریں۔ اپوزیشن کو الیکشن بروقت کرانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ الیکشن قریب ہے، حصہ لیں عوام کے پاس جائیں۔ دھرنے کی تاریخ لکھی جائے گی تو بڑے پردہ نشینوں کے نام آئینگے۔فیض آباد دھرنے سے متعلق مشکل فیصلہ تھا۔اس کے حق میں نہیں تھا۔ انسانی زندگیوں کی وجہ سے مشکل فیصلہ لیا۔ دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق عدالتی فیصلے سب کے سامنے ہیں۔ ملک میں لوگوں کے جنازوں پر کھلی جانے والی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ نواز شریف سعودی عرب ذاتی طور پر گئے ان کا دورہ نجی تھا۔ ان کے دورے پر قیاس آرائیاں کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس قسم کی قیاس آرائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک ترقی کی طرف گامزن تھا مگر پاناما کیس کے فیصلے کے بعد ملک پیچھے کیا۔

وزیراعظم /انٹرویو

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کیساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی حکومت کی ترجیح ہے، پائیدار حکومتی پالیسیوں کی بدولت کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوا ہے، پائیدار شرح نمو کے حصول کیلئے ملکی معیشت مستحکم راستے پر گامزن کر دی ہے، حکومت کاروبار میں آسانی پیدا کرنے بارے تمام تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ بات گزشتہ روز اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) کی انتظامی کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے تجارت پرویز ملک ، وزیراعظم کے معاون خصوصی علی جہانگیر صدیقی اور سینئر حکام بھی موجود تھے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خالد منصور نے وزیراعظم کو پرسیپشن اینڈ انویسٹمنٹ سروے 2017ء کے نتائج پیش کئے۔ اس موقع پر انہوں نے کاروبار، بین الصوبائی رابطے اور ٹیکس سے متعلق درپیش بعض مسائل کو بھی اجاگر کیا اور کاروبار کے ماحول میں بہتری کیلئے تجاویز پیش کیں۔ وزیراعظم نے او آئی سی سی آئی کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پالیسی سازی کے عمل میں متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کیلئے پرعزم ہے۔ حکومت کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے تمام تجاویز کا خیر مقدم کرے گی۔

شاہد خاقان/وفد

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...