پنجاب اسمبلی کی نئی نامکمل عمارت میں ہی آخری اجلاس بلانے کا فیصلہ


لاہور(شہزاد ملک سے) پنجاب اسمبلی کی نئی نامکمل عمارت میں ہی رواں سال مارچ 2018میں آخری اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ، دوسری جانب متعلقہ محکموں نے اتنی کم مدت میں نئی عمارت میں اجلاس منعقد کر نے سے معذرت کر لی، اب تک اس نئی عمارت کی تعمیر پر 12سالوں میں 88کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں مگر ابھی تک نئی عمارت کا صرف ڈھانچہ ہی کھڑا ہو سکا ہے ، فنڈز کی عد م فراہمی کے باعث عمارت کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر سے لاگت تخمینہ ایک ارب 38کروڑ سے بڑ ھ کر 3 ارب 50کروڑ 13لاکھ روپے تک پہنچ گیا، پنجاب حکومت نے تین مالی سالوں میں نئی عمارت کے لئے کوئی فنڈز ہی مختص نہیں کئے تھے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کی پرانی عمارت میں اجلاس کے دوران تمام ممبران کے حاضر ہونے پر بیٹھنے کی جگہ کم پڑجاتی ہے جس کے باعث پہلی منزل پر اراکین اسمبلی کے لئے پریس گیلری کے ساتھ بیٹھنے کا انتظام کر دیا گیا مگر اوپر جانے کے لئے اراکین کو لفٹ استعمال کرنا پڑتی ہے جس کے باعث اس حصے میں اراکین جانا اپنی توہین سمجھتے ہیں جس وقت تمام اراکین کسی اہم موقع پر ایوان میں موجود ہوتے ہیں تو بہت سے اراکین کو نشست نہ ملنے کے باعث کھڑا رہنا پڑتا ہے ۔پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ کا منصوبہ 2005 ء میں میں شروع ہوا یہ پراجیکٹ 2006ء میں مکمل ہونا تھا مگر سیاسی رسہ کشی کے باعث عمارت کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر ہو گئی۔بعض وجوہات کی بناء پر تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے ہی اس پرمنصوبے کی لاگت میں دو بار اضافہ کیا گیا جس سے لاگت تخمینہ مجموعی طور پردو ارب 32 کروڑ 13لاکھ روپے ہوگیا اس طرح موجودہ حکومت نے بھی ماہرین کے مشورے پر سنٹرل ائیرکنڈیشننگ ، آئی ٹی ایڈوانس سسٹم اور کنسلٹنٹ فیس کی مد میں مزید32 کروڑ روپے کا اضافہ کرنا پڑا ۔ جب مسلم لیگ ن کی حکومت بنی تو اس حکومت نے یہ منصوبہ مسلم لیگ ق کا ہونے کے باعث بہت کم فنڈز مختص کر نا شروع کر دئیے جو عمارت کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر کا باعث بنا۔ اسمبلی کی نئی عمارت کے لئے 12سالوں میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت کل ایک ارب 86کروڑ 96لاکھ54ہزار روپے مختص ہوئے ان میں 95کروڑ 12لاکھ 29 ہزار جاری ہوئے جبکہ 88کروڑ 60لاکھ 90ہزار روپے خرچ ہوئے ،علاوہ ازیں ٹھیکیدار وں نے بھی روائتی سستی کا مظاہرہ کیا اور منصوبے کو کئی سال آگے لے گئے ۔جب سپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت مارچ تک تیار ہو جائے گی اور مارچ میں ہی اجلاس ہو گا۔عمارت کی تعمیر کی تاخیر کی وجوہات میں ٹھکیدار کا چلا جانا اور پرانی عمارت میں اجلاس کے دنوں میں سیکورٹی مقاصد کے تحت نئی عمارت کی تعمیر کا کام روک دینا تھا، تاہم اب نئی عمارت کی تعمیر کام نہیں روکا جاتا اس کا راستہ ہی الگ کر دیا گیا ہے اور مارچ تک نئی عمارت مکمل ہو جائے گی۔
پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...