چیف جسٹس سپریم کورٹ ، ہائیکورٹ کا از خود نوٹس ، جنرل باجوہ کی فوج کو ہر ممکن مدد کی ہدایت


اسلام آباد ،راولپنڈی،لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،نمائندہ خصوصی)چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے قصور واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قصور میں مبینہ طور پر بداخلاقی کے بعد قتل ہونیوالی 8 سالہ معصوم بچی زینب کے واقعہ کی سخت مذمت کی ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور انہیں عبرتناک سزادلوانے کیلئے فوج کو سول انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری طرف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے سیشن جج قصور اور پولیس افسران سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
چیف جسٹس نوٹس

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر،نیوزایجنسیاں) سیاسی رہنماؤں نے قصور میں بداخلاقی کے بعد زینب کے بہیمانہ قتل کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ درندہ صفت ملزمان کوسخت سے سخت سزا دیکر معاشرے کیلئے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بیٹیوں کی بے حرمتی کرنیوالے درندوں کو فوری سزا دی جائے۔ایسے درندوں کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسے گھناؤنے عمل کی ہمت نہ ہوسکے۔مریم نواز نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ قصور میں ہونیوالے سانحہ کے ملزمان کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دے کر مثال قائم کرنی چاہیے۔اپنے ردعمل میں سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ قصور میں معصوم بچی کا اغواء اور بداخلاقی ناقابل معافی جرم ہے۔ جرم کے مرتکب درندوں کو گرفتار کر کے سخت سزا دلوائی جائے۔ انہوں نے معصوم بچی کے والدین سے ہمددری اور افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔چیئرین تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ننھی زینب کے قتل نے ثابت کردیامعاشرے میں بچے کتنے غیرمحفوظ ہیں،ان کا کہناتھا کہ ایسا پہلی بارنہیں ہوا،ایسے خوفناک واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے مجرموں کوسزادیناہوگی۔وزیرمملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے قصور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گھناؤنے فعل کا مرتکب درندہ سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے، متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، ظالم کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ معصوم بچی کو اغواء کے بعد بداخلاقی کانشانہ بنانااور قتل کردیناحکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کیلئے شریف برادران کا برداشت کا رویہ ناقابل قبول ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ معصوم بچوں کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، صدمے کی اس گھڑی میں تمام متاثر خاندانوں کے ساتھ ہیں۔چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے قصور میں سات سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے اندوہناک واقعہ پر شدید دکھ اور تشویش کا اظہارکر تے ہو ئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ہماری معاشرتی پستی اور اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے، اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو ملکر کام کرنے اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے، بچوں کے ساتھ زیادتی اور بالخصوص اس قسم کے واقعات کے تدارک کیلئے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے انسانیت سوز واقعات کا قلع قمع کیا جا سکے۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ قصور سانحے پر ملک بھر کے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، پولیس نے ملزمان کو پکڑنے کی بجائے مظاہرین پر گولی چلائی، اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان کو سزا دی ملتی تو آج پولیس کو فائرنگ کی جرات نہ ہوتی۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے قصور میں 8 سالہ زینب کیساتھ زیادتی و قتل کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ واقعہ انتہائی افسوس ناک، دردناک اور ناقابل برداشت ہے،پنجاب پولیس 5 دنوں کے اندر زینب کیساتھ زیادتی و قتل کا رپورٹ کمیٹی کو جمع کرائے۔ انہوں نے کہا کہ زینب کا قتل پنجاب پولیس بطور چیلنج قبول کرکے مجرموں جلد گرفتار کرے،آئی جی پنجاب پولیس واقعے کی تفتیش کی خود نگرانی کرکے ایک مثال قائم کریں اور انسانوں کی شکل میں ان درندوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لاکر کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔سینیٹراعتزاز احسن نے کہا کہ قصور کا واقعہ پنجاب حکومت کی بدتر حکمرانی کی مثال ہے ۔مسلم لیگ(ق) کے مرکزی رہنما پرویزالٰہی نے کہا کہ قصور میں انصاف مانگنے والوں کو انصاف کی بجائے سیدھی گولیاں ماری گئیں جس سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے زخم تازہ ہو گئے، اب پنجاب کے عوام کے ساتھ اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ قصور واقعہ درندگی ہے جو شہبازشریف کیلئے چیلنج ہے ۔قصور کے لوگ سراپا احتجاج ہیں پرامن احتجاج ان کا حق ہے لاٹھی چارج نہ کیا جائے۔ قصور کے لوگ اور افسران ایسے درندوں کو ڈھونڈیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے قصور میں 7سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل اور قصور میں اس زیادتی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ملزمان کوفی الفور گرفتارکر کے سزا دیں،تحریک انصاف کے رہنماؤں شیریں مزاری اور مراد سعید نے کہا کہ قصور میں یہ 12واں واقعہ ہے بچیوں کی جانوں کی کیا وہاں کوئی قیمت نہیں ہے۔یہ کوئی سیریل کلر ہے جسے پولیس اب تک گرفتار کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔آصف بھٹو زر داری نے ٹوئٹر پر بچی کیلئے انصاف کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے لکھا کہ زینب ایک معصوم بچی تھی جسے بے دردی سے زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ٗمیرا دل ٹوٹ گیا ہے ٗ اللہ بچی کے گھر والوں کو صبر عطا فرمائے۔انہوں نے ہیش ٹیگ میں لکھا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان اور صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم زینب کے ساتھ ظلم و بربریت کی انتہاء کی گئی ہے ننھی زینب کے واقعے نے پورے معاشرے کو جھنجوڑ دیا ہے واقعے کی فوری تحقیقات کرکے ذمہ دار کو عبرت ناک سزا دی جائے ایسے واقعات کا رونماء ہونا عظیم قومی المیہ ہے ۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے قصور میں معصوم بچی کیساتھ زیادتی اور بے رحمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے واقعہ کو انسانیت سوز اور وحشیانہ قرار دیا ہے آج یہاں سے جاری ہونے والے ایک مذمتی بیان میں پرویز خٹک نے کہا کہ معاشرے میں انصاف کا نہ ہونا المیہ ہے اس سے معاشرے میں حیوانی اور غیر انسانی رویے پروان چڑھتے ہیں ۔ دوسری طرف جماعت اسلامی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی سانحہ قصور کیخلاف تحاریک التوا جمع کرادی ، تحریک التواسینٹر سراج الحق، صاحبزادہ طارق اللہ جبکہ قومی اسمبلی میں صاحبزادہ محمد یعقوب، عائشہ سید نے جمع کرائیں ۔
سیاسی رہنماؤں کا رد عمل

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...