قصور، بچی سے بد اخلاقی ، قتل کیخلاف احتجا ج ، مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ ، 2جاں بحق

قصور، بچی سے بد اخلاقی ، قتل کیخلاف احتجا ج ، مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ ، ...

لاہور، قصور(بیورورپورٹ،کر ا ئم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) 8سالہ معصوم زینب کو بدخلاقی کے بعد قتل کے واقعہ نے پورے شہر کی فضاکو سوگوار بنا دیا اور پورا شہر سراپا احتجاج رہا۔شہر کی تمام مارکیٹیں،بازار مکمل بند رہے۔ احتجاجی مظاہرین نے ڈسٹرکٹ بار اور ڈپٹی کمشنر آفس میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی ۔ جس پرپولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے فائرنگ کر دی ،مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور تین شدید زخمی ہو گئے۔ لواحقین نے نعشوں کو فیروز پور روڈ پر رکھ کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کرکے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انصاف کی فراہمی تک تدفین نہیں کی جائے گی۔امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے رینجر طلب کر لی گئی۔پروفیسر طاہر القادری نے معصوم زینب کا نماز جنازہ پڑھایا جس میں سیاسی، سماجی،وکلاء صحافی اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔شام گئے تک معصوم زینب کی بھی تدفین نہیں کی گئی ۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او قصور کو عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا جبکہ آر پی او ذوالقار حمید کو معظل کر دیا ہے،دوسری جانب اس واقعہ میں جاں بحق ہونیوالے محمد علی اور طالب علم کے لواحقین نے دونوں نعشوں کو سٹیل باغ چوک قصور فیروز پور روڈ پر رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں،احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ جب تک نہتے لوگوں پو گولیاں چلانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں ہو تی اور مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار نہیں کیا جاتا تب تک ان کا احتجاج جاری رہے گا ۔اسی طرح ملنے والی اطلاعات کے مطابق زینب کے والدین عمرہ کی سعادت کے بعد اپنے گھر پہنچ گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت تک اپنی معصوم بیٹی کی تدفین نہیں کریں گے جب تک اس کے قاتل کو گرفتار نہیں کیا جاتا ،تا ہم آج بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا ،بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر رینجرز کو طلب کر لے اگیا ہے مظاہرین معصوم زینب کے علاوہ اس سے قبل ہونے والے گیارہ معصوم بے گناہوں کے قاتلوں کی بھی گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی از خود نوٹس لے لیا ۔تفصیلات کے مطابق پانچ روز قبل 8سالہ معصوم زینب گھر سے قرآن پاک پڑھنے کے لیے گئی اور واپس نہ آنے پر گھر والوں نے ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ مگر پولیس معصوم زینب کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی ۔گذشتہ روز شہبازخاں روڈ پر واقع اڈہ کے بیک سائیڈ پر معصوم کی نعش ملنے کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔گذشتہ ایک سال کے دوران گیارہ ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کا آج تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا ۔قصور میں کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کئے جانے کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں اور اب تک 12 معصوم بچیاں ہوس کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کی جا چکی ہیں۔جن کمسن بچیوں کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، ان میں ساڑھے چار سالہ ایمان فاطمہ، گیارہ سالہ فوزیہ، سات سالہ نور فاطمہ، ساڑھے پانچ سالہ عائشہ آصف، 9 سالہ لائبہ، سات سالہ ثناعمر اور پانچ سالہ کائنات بتول سمیت دیگر شامل ہیں۔ریکارڈ کے مطابق زیادتی اور قتل کے زیادہ واقعات تھانہ اے ڈویڑن کی حدود میں پیش آئے جبکہ تھانہ صدر ایسے واقعات میں دوسرے نمبر پر رہا۔ ان واقعات میں ملزمان کا طریقہ واردات ایک جیسا ہے، ملزمان بچیوں کو اغوا کرتے ہیں اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر دیتے ہیں اور لاش کسی ویران علاقے یا جوہڑ میں پھینک کر فرار ہو جاتے ہیں۔۔اس دلخراش واقعہ پر پورے شہر نے احتجاج کیا۔شہر بھر کے چوکوں،چوراہوں میں ٹائر جلا کر احتجاج کرتے رہے قصور میں فضا سوگوارتھی اس لیے لوگ اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں رکھ سکے ۔احتجاجی مظاہرین جلوس کی صورت میں جب ڈسٹرکٹ بار قصوراور ڈپٹی کمشنر آفس پہنچ کر جب توڑ پھوڑ کی تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے ۔جنہیں طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور پہنچا دیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کوٹ میرباز خاں کا رہائشی اورڈی سی آفس کا چوکیدار محمدعلی اور وارث جاں بحق ہو گئے ۔لواحقین نعشوں کو اٹھا کر فیروز پور روڈ پر رکھ کر احتجاج کر تے رہے ۔معصوم زینب کے والد نے عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس آنے پر میڈیا کو بتایا کہ چار روز سے پولیس نے میرے رشتہ داروں کے ساتھ تعاون نہیں کیااور نہ ہی سفاک ملزم کی گرفتاری کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے انہوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صرف حکمرانوں کے پروٹوکول کے لیے ہی رہ گئی ہے ۔پولیس سے انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی۔پولیس کے عدم تعاون کے نتیجہ میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔زینب کی والدہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’میری زینب نہیں رہی میں کیا کہوں، مجھے انصاف چاہیے‘۔ ۔جبکہ آئی پنجاب نے قصور میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے قصور میں مزید پولیس کی نفری بجھوادی ہے۔ عوام نے کچہری چوک، کالی پل،اڈہ للیانی، چاندنی چوک، بھٹہ گوریانوالہ،بائی پاس بستی قادر آباد، سمیت ریلوے اسٹیشن،پتوکی روڈ، مصطفی آباد سمیت دیگر علاقوں میں ٹائر جلا کر ٹریفک بند کرکے احتجاجی مظاہرے کیے ۔شرکاء پولیس ،ضلعی انتظامیہ اورحکمرانوں کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔ دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا، جس کی تصدیق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہوئی۔پولیس کی جانب سے کمسن زینب کے اغواء ، زیادتی اور قتل میں ملوث مبینہ ملزم کا خاکہ جاری کردیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی پنجاب اور دیگر افسران پر مشتمل کمیٹی تحقیقات کیلئے تشکیل دے دی۔ بدھ کو شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ وزیراعلیٰ نے قصور واقعے پر پولیس حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ قصور میں بچی کا قتل انتہائی افسوسناک ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے قصور واقعے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا جبکہ کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب، آر پی او شیخوپورہ اور سپیشل برانچ کے افسران شامل ہیں۔اس سے قبل معطل ہونے والے ڈی پی او قصور نے بتایا کہ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش جاری ہے جبکہ بچی کے لواحقین نے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی ہے۔ڈی پی او کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کو ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ 'مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونے والی یہ آٹھویں بچی ہے اور زیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملا ہے'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'قصور کے واقعات پر 5 ہزار سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی ہے جبکہ 67 افراد کا میڈیکل چیک اپ کروایا جاچکا ہے'۔جبکہ آر پی او شیخوپورہ رینج ذوالفقار حمید نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بچی کی موت زیادتی کے بعد گلا دبانے کے نتیجے میں ہوئی اور اس واقعے پر ہر کوئی سوگوار ہے۔آر پی او نے اس تاثر کو رد کردیا کہ پولیس نے واقعے کے بعد تفتیش میں غفلت کا مظاہرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بچی کے اہلخانہ نے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی اور اہل محلہ نے بھی معاونت کی، لیکن پولیس کی غفلت کا تاثر درست نہیں۔آر پی او کے مطابق علاقے میں نصب درجنوں سی سی ٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینا ایک مشکل کام ہے، لیکن پولیس نے کافی دور تک جاکر سرچ کیا، فوٹیجز دیکھیں اور پھر اس میں سے متعلقہ فوٹیج نکالی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے سیکیورٹی کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔آر پی او کے مطابق ڈی این اے کے 96 نمونے ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گئے، جن میں سے 5 کیسز ایسے ہیں جہاں ہمیں شک ہے کہ ڈی این اے ایک جیسا ہے۔دریں اثناوزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور میں مبینہ زیادتی کے بعد بچی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی۔شہبازشریف نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سے رپورٹ طلب کرلی اور ہدایت کی کہ قاتلوں کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ قاتل قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے مقتول بچی کے لواحقین سے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کیس پر پیش رفت کی وہ ذاتی طور پر نگرانی کریں گے۔وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ قصور میں کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا جائے گا۔جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پیش آنے والے واقعات کے ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا اور اب بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزم کے ساتھ بچی اس طرح جارہی ہے جیسے وہ بچی کا رشتہ دار یا محلہ دار ہے تاہم ملزم کو چند گھنٹے میں گرفتار کرلیا جائے گا۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے نا تو پہلے کوتاہی کی گئی اور نہ اب کی جائے گی اور یہ کہنا غلط ہے کہ پولیس نے اس کیس پر کوئی کام نہیں کیا۔صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا ہماری ذمہ داری ہے کہ ملزم کو گرفتار کیا جائے اور اسے سزا ہو، یہ سنگین واقعہ ہے۔پرتشدد احتجاج پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ لوگوں کو اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن املاک کو نقصان پہنچانا مناسب نہیں، معاملے کو سلجھانے اور ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔دریں اثنا درندگی کا شکار ہونے والی معصوم زینب کو گزشتہ رات سپرد خاک کر دیا گیا ۔تدفین کے موقع پر علاقے کی بجلی بند کر دی گئی ،آئی جی پنجاب قصور پہنچ گئے جہاں دی پی او آفس میں ان کے زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں شہر میں امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔آئی جی پنجاب نے بعد ازاں دھرنا دینے والوں سے مذاکرات بھی کئے مگر مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کردیا

قصور احتجاج

مزید : صفحہ اول