زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا ، مجھے ملزمان کی گرفتار ی چاہیے : شہباز شریف

زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا ، مجھے ملزمان کی گرفتار ی چاہیے : شہباز شریف

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں قصور کے علاقے میں بچی کے قتل کے واقعہ پر پولیس حکام کی سرزنش کی گئی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مجھے ملزمان کی گرفتاری چاہیئے، زبانی جمع خرچ نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ غفلت پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ ایسے اندوہناک واقعات کسی بھی صورت برداشت نہیں کئے جاسکتے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس، آر پی او شیخوپورہ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔شہبازشریف نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے پسماند گی کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین تر جیح ہے اور جنوبی پنجاب میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں ۔ جنوبی پنجاب کی ترقی مجھے بے حد عزیز ہے۔ علاقے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے آبادی کے تناسب سے زیادہ وسائل فراہم کئے گئے ہیں ۔ رحیم یار خان میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔ مظفر گڑھ سے ڈیرہ غازی خان اورلودھراں خانیوال روڈ کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ ملتان اور بہاولپور میں سیف سٹیز پراجیکٹس بھی شروع کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت عبدالرحمن کانجو اور مسلم لیگی رہنما صدیق بلوچ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ان سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ پسماندہ علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم کے حصول کیلئے پیش آنے والی مشکلات کو ختم کرنے کیلئے ’’زیور تعلیم‘‘ پروگرام متعارف کرایا گیا ہے۔ ترقی کے سفر میں روڑے اٹکانے والوں کو عوام کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔جھوٹ، الزام تراشی ، دھرنوں اور انتشار کی سیاست کرنے والوں نے عوام کے ساتھ ظلم کیا ہے اور عوام انہیں 2018 کے عام انتخابات میں اپنے ووٹ کی طاقت سے مسترد کردیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائیونڈ کے توسیعی منصوبے کا افتتاح کیا۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت یہ توسیعی منصوبہ مکمل کیاگیاہے اوراب اس ہسپتال میں بستروں کی تعداد60سے بڑھ کر100کردی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائیونڈ کے توسیعی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں جدید مشینری ،طبی آلات،جدید آپریشن تھیٹر،آرتھوپیڈک اورگائنی کے شعبے قائم کیے گئے ہیں جہاں رائیونڈ اورملحقہ علاقوں کے لوگوں کو علاج معالجہ کی جدید اورمعیاری سہولتیں میسر آئیں گی اوریہ ہسپتال دکھی انسانیت کیلئے ایک مسیحا کا کردارادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر کے شہروں میں نئے ہسپتال بنا رہے ہیں جہاں علاج معالجہ کی جدید سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں نصب کی جارہی ہیں اورہر ضلع میں ہیپاٹائٹس فلٹر کلینکس بنائے جارہے ہیں۔اب مریضوں کو سی ٹی سکین اورایم آرآئی کیلئے ملتان ،لاہور،سرگودھا اوردیگر بڑے ہسپتالوں میں جانا نہیں پڑے گابلکہ انہیں یہ سہولت اپنے علاقے میں ہی ملے گی۔ہم نے فرسودہ نظام کو بدل دیا ہے اوراب کوئی مریض کو یہ نہیں کہے گا کہ سی ٹی سکین مشین خراب ہے یا اس کی ڈیوٹی ختم ہوگئی ہے جو کمپنی سی ٹی سکین مشینیں نصب کررہی ہے وہی ان کو چلانے کی ذمہ دار ہوں گی اور مریضوں کو سی ٹی سکین کی سہولت 24گھنٹے دستیاب ہوگی،اب کوئی غریب مریض کا معاشی قتل نہیں کرسکے گا۔انہوں نے کہاکہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ مریض تڑپ رہا ہو اورسرکاری ہسپتال میں سی ٹی سکین مشین چلانے والا اسے یہ کہے کہ مشین خراب ہے یا دو بج چکے ہیں کل آنا،اب ایسا نہیں ہوگا اور ہم نے اس نظام کو دفن کر دیاہے۔اب ہسپتالوں میں عوام کو علاج ملے گا،ہڑتالیں نہیں ہوں گی اوردکھی انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہوگا۔ہسپتالوں میں معیاری ادویات کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ میری سوچ اور خواہش تھی کہ سرکاری ہسپتالوں میں وہی ادویات مریضوں کوملیں جو اگر خدانخواستہ میں بیمار ہوجاؤں تو استعمال کروں ۔آج میرا یہ خواب پورا ہوچکا ہے اوریہ ملک کی 70سالہ تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو وہی ادویات مفت مل رہی ہیں جو اشرافیہ استعمال کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کے رکن پنجاب اسمبلی طاہر سندھو چند روز قبل مجھ سے ملے تھے ،گزشتہ روز حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے،میں نے ان کے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ زندگی ایک بلبلہ ہے پھر یہ دھرنے اورلاک ڈاؤن اوراحتجاج کس بات کے؟ ہم غریب کی زندگی میں خوشحالی کاانقلاب لار ہے ہیں تو آپ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے ؟۔اس سے بڑی پاکستان کے خلاف کوئی اور سازش ہونہیں سکتی۔جو قوم کو گمراہ کرتے ہیں اوردھوکہ دیتے ہیں میں ان سیاسی کاریگروں کو خبردار کرتاہوں کہ باز آجاؤ، ورنہ آپ کا گریبان ہوگا اورقوم کا ہاتھ ہوگا اوریہ قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے گزشتہ ساڑھے چارسال کے پی کے میں کیا کیا؟صرف جھوٹ بولا،یوٹرن لیے اورعوام کو دھوکہ دیا۔آپ نے کہاتھا کہ میں کے پی کے میں میٹروبس نہیں بلکہ ہسپتال اورسکول بناؤں گا۔ساڑھے چار سال گزرنے کے بعد آپ کو پھر کے پی کے میں میٹروبس منصوبہ لگانے کا خیال آیالیکن ابھی تک آپ اس کی ایک اینٹ نہیں لگاسکے۔آپ نے ووٹرزکی لاج رکھنے کی بجائے تضحیک کی ہے۔آپ ہی نے ایک قابل احترام صحافی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اگلے پانچ سال میں نہ صرف کے پی کے میں لوڈ شیڈنگ ختم کردوں گا بلکہ پورے پاکستان سے بجلی کے اندھیرے دور کردوں گا۔کے پی کے میں پن بجلی سے ہزاروں میگاواٹ بجلی بنانے کے مواقع موجود ہیں لیکن آپ نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں ایک کلو واٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے صوبے میں پانچ ہزار میگاواٹ بجلی کے کارخانے مکمل کرلیے ہیں جبکہ دیگرمنصوبوں پر کام جاری ہے ۔نیازی صاحب آپ نے صرف قوم کو دھوکہ دیا ،جھوٹ بولاہے اورانتشار پیدا کیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے فلٹرکلینک میں جا کر مریضوں سے بات چیت کی اور فلٹرکلینک میں مریضوں سے وہاں مہیا کی جانے والی علاج معالجے کی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا ۔وزیراعلیٰ نے کمیٹی روم میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آؤٹ ڈور مریضوں کیلئے کاؤنٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ انہیں انتظار نہ کرنا پڑے۔

وزیراعلیٰ پنجاب

مزید : صفحہ اول