موروثی سیاست کی جڑیں مضبوط ہیں طویل عرصے تک اس کا خاتمہ ممکن نہیں

موروثی سیاست کی جڑیں مضبوط ہیں طویل عرصے تک اس کا خاتمہ ممکن نہیں
موروثی سیاست کی جڑیں مضبوط ہیں طویل عرصے تک اس کا خاتمہ ممکن نہیں

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

میں اور آپ سیاست میں موروثیت کے جتنے بھی خلاف ہوں، لیکن یہ ایسا سکہ رائج الوقت ہے جو نہ جانے کب تک چلتا رہے گا، کیونکہ جو جماعتیں موروثیت کی حامی ہیں، وہ تو ہیں ہی، مخالفوں کی مخالفت بھی محض زبانی کلامی ہے، کر وہ بھی وہی کچھ رہے ہیں جو دوسرے کر رہے ہیں۔ اس لئے آپ تسلی رکھیں کہ یہ سلسلہ ابھی لمبے عرصے تک چلے گا۔ تازہ ترین مثال پی پی 20 کے حلقے سے چودھری حیدر سلطان کی کامیابی ہے۔ جو مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے، ان کا یہ پہلا الیکشن تھا، جو انہوں نے لگ بھگ 30 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتا، اس حلقے میں 2013ء کے الیکشن میں ان کے والد چودھری لیاقت علی جیتے تھے، جن کا 30 اکتوبر 2017ء کو انتقال ہوگیا، جس کی وجہ سے یہ نشست خالی ہوگئی۔ 1985ء سے لے کر 2013ء تک آٹھ انتخابات ہوئے جن میں سے چھ میں چودھری لیاقت علی منتخب ہوئے، 2008ء کا الیکشن البتہ وہ نہیں لڑ سکے لیکن اس میں بھی ان کی اہلیہ عفت لیاقت علی ایم پی اے منتخب ہوگئیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء میں ہار گئی تھیں،اب ان کے بیٹے نے یہاں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس لحاظ سے اس نشست کو ’’خاندانی نشست‘‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔

نواز شریف کے سپریم کورٹ سے نااہل قرار پانے کے بعد یہ پنجاب میں دوسرا الیکشن تھا، پہلا الیکشن تو خود نواز شریف کی نااہلی سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ہوا جہاں بیگم کلثوم نواز کامیاب ہوئیں۔ انتخابی مہم ادھوری چھوڑ کر انہیں لندن علاج کے لئے جانا پڑا تھا، جہاں وہ اب تک زیر علاج ہیں۔ ان کی پانچویں کیموتھراپی ہوچکی ہے، اس وجہ سے وہ اب تک رکنیت کا حلف بھی نہیں اٹھا سکیں۔ چکوال کے حلقہ پی پی 20 کے الیکشن سے بھی ثابت ہوگیا کہ تمام تر منفی پروپیگنڈے، بہت ہی منظم طریقے سے چلائی گئی ڈس انفارمیشن کی مسلسل مہم، گیارہ ٹی وی چینلوں سے روزانہ گھنٹوں کے حساب سے جاری رہنے والی دشنام طرازی کی مہم کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا ووٹر اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ چودھری حیدر سلطان کو اپنے والد سے بھی زیادہ ووٹ مل گئے ہیں جو علاقے کی ہر دلعزیز شخصیت تھے اور چھ مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے تھے، ان کے مدمقابل امیدوار کا تعلق تحریک انصاف سے تھا، جسے پیپلز پارٹی، عوامی تحریک اور جماعت اسلامی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس انتخاب سے جہاں یہ ثابت ہوگیا کہ مسلم لیگ (ن) کا ووٹر اس کے ساتھ کھڑا ہے وہاں یہ بات بھی سامنے آئی کہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے نام سے بننے والی سیاسی جماعت انتخابی میدان میں بتدریج آگے بڑھ رہی ہے۔ این اے 120 لاہور کا ضمنی الیکشن اس کا بطور جماعت پہلا الیکشن تھا، اگرچہ مولانا خادم حسین رضوی پہلے بھی انتخاب میں حصہ لے کر ہار چکے تھے۔ لاہور کے بعد اس جماعت نے پشاور کے ضمنی انتخاب میں زور آزمائی کی، اگرچہ اس کا امیدوار معقول تعداد میں ووٹ لے گیا، تاہم کامیابی سے کوسوں دور رہا۔ اب اس جماعت نے چکوال میں مقابلہ کیا اور 16 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ ایک نئی جماعت کے امیدوار کی یہ بڑی کامیابی ہے۔ یہ الیکشن چونکہ فیض آباد دھرنے کے بعد ہو رہا تھا، اس لئے ممکن ہے امیدوار کو ملنے والے ووٹوں میں کامیاب دھرنے کے اثرات کا بھی حصہ ہو، چند روز پہلے تو اسی نام سے کام کرنے والے دوسرے دھڑے کے رہنما نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اگلے انتخاب میں کامیاب ہوگی۔ دعوے کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں، لیکن میدان میں اترنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ کون کامیاب ہوگا، البتہ اس جماعت نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اگلے انتخابات میں وہ بہت سی جماعتوں کے مدمقابل ہے ورنہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی ضرورت نہ تھی، اس الیکشن میں البتہ ملی مسلم لیگ کہیں نظر نہیں آئی، جس نے لاہور اور پشاور کے دو معرکے لڑے اور اپنا نقش چھوڑا تھا۔ امید کرنی چاہئے کہ اب یہ جماعت لودھراں کے اکھاڑے میں ضرور اترے گی، جہاں 12 فروری کو الیکشن ہونے والا ہے۔ یہ نشست تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی ہے، جہاں تحریک انصاف کے امیدوار علی ترین ہیں، جو جہانگیر ترین کے صاحبزادے ہیں۔ ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ انہیں تحریک انصاف نے ٹکٹ دیا ہے جو خاندانی اور موروثی سیاست کے سخت خلاف ہے، لیکن علی ترین کو ٹکٹ اس لئے دینا پڑا کہ لودھراں کا حلقہ کسی دوسرے امیدوار کے لئے بہت مشکل ثابت ہوتا، کیونکہ یہ وہ حلقہ ہے جہاں 2013ء کے عام انتخابات میں جہانگیر ترین آزاد امیدوار صدیق بلوچ سے ہار گئے تھے، الیکشن جیتنے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ وہ مشہور حلقہ ہے جو ان چار حلقوں میں شامل تھا، جنہیں کھولنے کا مطالبہ عمران خان کرتے رہے۔ حکومت نے تو اس مطالبے کو پذیرائی نہ بخشی، البتہ عدالت نے صدیق بلوچ کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا۔ ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین اور صدیق بلوچ دوبارہ میدان میں اترے اور اول الذکر جیت گئے، لیکن سپریم کورٹ سے نااہل قرار پائے، اب اس حلقے میں تیسری مرتبہ الیکشن ہو رہا ہے۔ مقابلہ کانٹے دار اس لئے ہوگا کہ صدیق بلوچ کو 2015ء میں ہارنے کے باوجود 99 ہزار سے زیادہ ووٹ مل گئے تھے۔ علی ترین پہلی مرتبہ الیکشن لڑ رہے ہیں، انتخابی مہم تو ان کے والد ہی چلا رہے ہیں اور خاصی موثر بھی ہے۔ تاہم کسی امیدوار کی جیت کی پیشگوئی مشکل ہے۔

موروثی سیاست

مزید : تجزیہ