وسیب میں سرائیکی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کیلئے ظہور دھریجہ کی لاہور ہائیکورٹ میں رٹ دائر

وسیب میں سرائیکی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کیلئے ظہور دھریجہ کی لاہور ...

ملتان (سٹی رپورٹر)پنجاب میں پنجابی اور سرائیکی وسیب میں سرائیکی ابتدائی تعلیم پڑھانے کیلئے ظہور دھریجہ نے لاہور (بقیہ نمبر54صفحہ12پر )

ہائیکورٹ لاہور میں رٹ دائر کر دی ۔ آج 11جنوری 2017ء کو ابتدائی دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس منصور علی شاہ رٹ کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں فیصلہ دیں گے ۔ ظہور دھریجہ کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ نثار صفدر پیش ہونگے سرائیکستان قومی کونسل کے صدر اور معروف سرائیکی دانشور ظہور دھریجہ نے اپنے درخواست میں لکھا ہے کہ پٹیشن نمبر 89126/2017میں درخواست گزار احمد رضا خان ( صدر پنجابی پرچار سوسائٹی ) نے استدعا کی ہے کہ پنجاب میں پنجابی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے ۔ اس سلسلے میں ہماری گزارش ہے کہ پنجاب میں پنجابی کے ساتھ سرائیکی بولنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور پنجاب کے نصف سے زائد اضلاع کی مادری زبان سرائیکی ہے ۔استدعا ہے کہ پنجابی بولنے والے اضلاع میں پنجابی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے اور سرائیکی بولنے والے اضلاع میں سرائیکی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا حکم جاری فرمایا جائے انہوں نے لکھا کہ سرائیکی بہت قدیم زبان ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں بولی جانیوالی قدیم زبان ہے ۔ گزشتہ بلوچستان حکومت نے بلوچی ، پشتو ، براہوی ، سندھی ، فارسی ،پنجابی اور سرائیکی کو پرائمری سطح پر ذریعہ تعلیم بنانے کا حکم جاری کر دیا اور اسی طرح خیبرپختونخواہ حکومت نے بھی بشمول سرائیکی صوبے میں بولی جانیوالی مختلف زبانوں کو پرائمری سطح پر ذریعہ تعلیم بنایا ہے ۔انہوں نے لکھا کہ اس کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباداور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں سرائیکی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرائی جا رہی ہے ‘ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی میں سرائیکی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں ۔ اس وقت سرائیکی میں پی ایچ ڈی ، ایم فل ، ایم اے ، بی اے ، ایف اے اور میٹرک پڑھائی جا رہی ہے ۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ پرائمری سطح پر سرائیکی تعلیم کا آغاز کیا جائے تاکہ اپر کلاسوں کے سلسلے میں سرائیکی تعلیم کی مدد ہو سکے ۔

سرائیکی زبان رٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر