حکومت پنشنرز کو دربدر ٹھوکریں کھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ،بخت افسر

حکومت پنشنرز کو دربدر ٹھوکریں کھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ،بخت افسر

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن شا نگلہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن ملاکنڈ ڈویژن کے سینئرنائب صدر حاجی بخت افسرنے کہا کہ پنشنرز نے اپنی قیمتی زندگیاں وطن عزیز کی خدمت میں کھپائی اور اب حکومت ان بزرگ اور بے سہارا ملازمین کو خوار وذلیل کررہی ہے ۔ اجلاس میں ضلعی صدر عبدالکبیرخان،سیکرٹری اطلاعات ما لا کنڈ ڈویژن محمد یونس ،مشتاق احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی بخت افسر نے اس امر پر انتہائی دکھ اورافسوس کا اظہار کیا کہ پنشنرز نے ملک و ملت کیلئے گران قدر خدمات انجام دی ہیں، لیکن حکومت ان کے جائز مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے ، پنشنرز کے سلگتے مسائل کے بارے میں ارباب اختیار کی توجہ ایک بار پھر مبذول کرائی اور مطالبہ کیا کہ پنشنرز کے مسائل بلا تاخیر حل کئے جائیں۔ ہائی کورٹ پشاور میں 6.11.2014سے قبل ریٹایرڈ ملازمین کیلئے گروپ انشورنس سے مالی استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ صادر کیا ہے۔ اس فیصلے پر عمل در امد کی بجائے صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرکے ضعیف العمر ملازمین کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ بی فنڈ سے ریٹائرڈ ملازمین کو 2010سے 20ہزار تا 55ہزار گرانٹ ملتا تھا جس میں جنوری 2017سے معقول اضافہ بھی کیا گیا ہے لیکن جولائی 2010سے قبل ریٹائرڈ ملازمین اس فائدے سے تا حال محروم ہیں ۔ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے فنڈ سے 2013کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کو تیس ہزار گرانٹ ملتا ہے لیکن اس تاریخ سے قبل ریٹائرڈ اور فوت شدہ ملازمین اپنے اس جائز حق سے تاحال محروم ہیں جو سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔ فوت شدہ ملازمین کی بیواؤں اور یتیموں کے منہ سے نوالہ چھیننے سے باز آجائے اور وفاقی حکومت کی طرح یہ پیکج 2015سے منظور کرے ۔ اجلاس میں بجٹ میں پنشنرز کیلئے 10فیصد اضافہ ہی ہوتا ہے جبکہ ایم پی اے ۔ایم این اے کی تنخواہوں میں 300فیصد اضافہ ہوتا ہے ان کیلئے خزانہ میں گنجائش ہے لیکن پنشنرز کیلئے نہیں ہے۔اجلاس میں شرکاء نے وزیراعلیٰ کے پی سے گزارش کی ہے کہ ایسوسی ایشن کی قیادت کو ملاقات کا موقع دیا جائے تاکہ بالمشافہ مسائل پر بحث ہو سکے اور ان کی دلجوئی ہوسکے۔اجلاس میں اکاؤنٹ افس شانگلہ سے پنشنرزفسلیٹیشن کے عملہ کو ٹرانسفرکرنے پر افسوس کا اظہار کیا گیا کیونکہ یہ عملہ پنشنرز کو فسلیٹیٹ کررہے تھے یہ اجلاس حکومت خیبرپختونخواسے مطالبہ کرتا ہے کہ پنشنرز فسلیٹیشن عملہ کو شانگلہ میں بحال کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر