نواب آف کالاباغ کے دور میں بچہ اغواہوا اور ڈیڈلائن کے اندر پولیس بچے کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی تو انہوں نے کیا کیا ؟ جان کر آپ کو بھی طرز حکمرانی پر فخر ہوگا

نواب آف کالاباغ کے دور میں بچہ اغواہوا اور ڈیڈلائن کے اندر پولیس بچے کو ...
نواب آف کالاباغ کے دور میں بچہ اغواہوا اور ڈیڈلائن کے اندر پولیس بچے کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی تو انہوں نے کیا کیا ؟ جان کر آپ کو بھی طرز حکمرانی پر فخر ہوگا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نواب آف کالا باغ امیر محمد خان نے اپنے دور حکومت میں مغوی بچہ بازیاب نہ کرانے پر پولیس کے تین اعلیٰ افسران کے بچے اغوا کرالیے اور حکم دیا کہ جب تک مغوی بچہ بازیاب نہیں ہوگا افسران کے بچے واپس نہیں ملیں گے۔ نواب آف کالاباغ کے اس اقدام کے بعد پولیس نے 24 گھنٹے سے بھی پہلے مغوی بچہ بازیاب کرالیا۔

رپورٹ کے مطابق  نواب آف کالا باغ امیر محمد خان 1960 میں مغربی پاکستان کے گورنر بنے جس کا مطلب وہ آج کے پورے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ نواب آف کالاباغ اپنے سخت گیر طرز حکمرانی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ ان کے دور حکومت میں لاہور سے پانچ سال کا ایک بچہ اغوا ہوگیا ۔ نواب آف کالا باغ نے ایس ایس پی کو بلو ا کر 24 گھنٹے کے اندر بچہ بازیاب کرانے کا حکم دیا لیکن پولیس نے مغوی بازیاب نہ کرایا۔

بچہ بازیاب نہ ہونے پر نواب آف کالاباغ نے اگلے دن اے ایس پی ، ایس پی اور ایس ایس پی کے بیٹوں کو اٹھوا کر کالاباغ بھجوادیا اور اعلان کردیا کہ جب تک مغوی بچہ نہیں ملے گا تب تک افسران کے بچے واپس نہیں ملیں گے،ان کا یہ نسخہ کامیاب ہوا اور پولیس نے اسی دن بچہ بازیاب کرالیا۔

مزید : قومی /جرم و انصاف