قصور کے حالات حکومت کے ہاتھ سے نکل گئے ،صبح سویرے شہریوں نے ایسا کام کردیا کہ ہر طرف افرا تفری پھیل گئی

قصور کے حالات حکومت کے ہاتھ سے نکل گئے ،صبح سویرے شہریوں نے ایسا کام کردیا کہ ...

قصور(ڈیلی پاکستان آن لائن )قصور میں معصوم بچی زینب کے قتل کے بعد آج بھی احتجاج ہو رہا ہے اور وہاں انتظامیہ کہیں بھی نظر نہیں آرہی جس کے باعث مشتعل مظاہر ین نے سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے ۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں احتجاج کر تے ہوئے توڑ پھوڑ کی ہے ۔ شہر کے مختلف مقامات پر مظاہرین جمع ہیں اورشہر کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا۔مشتعل مظاہرین کسی بھی شخص کو قصور کی جانب نہیں جانے دے رہے۔

تفصیل کے مطابق قصور میںزینب کے قتل پر آج دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور شہر میں شٹرڈاون ہڑتال کی جارہی ہے۔قصور کا فیروز پور روڈ ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے بند ہے اور مظاہرین کا کالی پل چوک پر دھرنا جاری ہے جب کہ قصور کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔اس وقت شہر میں انتظامیہ کہیں نہیں دکھائی دے رہی ،گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے 2افراد جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد پولیس بیک فٹ پر چلی گئی ہے اوراس وقت قصور میں کل سے بھی زیادہ تعداد میں مظاہرین مشتعل ہو کر احتجاج کر رہے ہیں ،مظاہرین میں زیادہ تعداد سکولوں اور کالجوں کے نوجوانوں کی ہے جنہوں نے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں ،مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک انصاف نہیں ملے گا احتجا ج جاری رہے گا۔

ادھر وکلا نے قصور میں بچی کے قتل کے خلاف آج ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے، پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی جب کہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ہڑتال کی جارہی ہے۔قصور ڈسٹرکٹ کورٹ میں آج مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔

زینب قتل کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ روز پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شعیب اور محمد علی کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا جس کی رپورٹ آج آنے کا امکان ہے اور آج ہی ان کی تدفین کا بھی امکان ہے۔مظاہرین پر فائرنگ کے الزا م میں 2 پولیس اور دو سول ڈیفنس اہلکار گرفتار ہیں جب کہ مقتولین کے بھائیوں کی مدعیت میں 2 مقدمات 16 نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیے گئے جس میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /قصور

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...