ایک رئیس صحابیؓ کی وہ بیٹی جو شادی کے بعد ایسا کام کرنے لگ گئیں کہ آج کی مسلمان خواتین جان لیں تو انکی آنکھیں حیرت سے کھل جائیں

ایک رئیس صحابیؓ کی وہ بیٹی جو شادی کے بعد ایسا کام کرنے لگ گئیں کہ آج کی ...

آج کے دور میں زیادہ ترخواتین اور بچیاں گھریلو کاموں کو انجام دینے کے لئے نخرے کرتی ہیں خاص طور پر کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھنے والیاں گھر کے بعض کاموں کو کرنا توہین سمجھتی ہیں۔ اسلام توخواتین کی تربیت کے لئے اصول وضع کئے اور ہدایت و رہ نمائی کی ہے،اس کے مطابق زندگی گزارنے والی خواتین نے صالح اور ایسے عمدہ مسلمانوں کی نسل پیدا کی جن میں حیااور اخلاقیات بھی موجود تھی اور جو معمولی کام و خدمت کو عظمت سمجھتے تھے۔خواتین کی اسلامی تعلیمات کا اندازہ لگانے کے لئے ایسی خواتین کے لئے مکہ و مدینہ کے رئیس حضرت ابو بکرؓ کی بیٹی حضرت اسماءؓ کی زندگی قابل رشک مثال پیش کرتی ہے کہ جن کی خاندانی عظمت و شرافت اور حسب نسب میں کوئی شک ہے نہ ان کے باپ کی دولت مندی میں کوئی شبہ تھا ۔ جب اس رئیس زادی کا نکاح حضرت زبیر بن عوامؓ سے ہوا تو وہ اپنے خاوند کے گھر کے تمام کام کاج کرتی تھیں۔ اپنے خاوند کی خدمت کرتی تھیں۔ آپؓ فرماتی ہیں ’’ جب زبیرؓ نے مجھ سے نکاح کیا تو ان کے پاس کوئی زمین تھی نہ غلام۔ پانی لانے والی ایک اونٹنی ،ایک گھوڑے کے سوا ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ ان کے گھوڑے کے لیے میں ہی چارا تیار کرتی، پانی لے کر آتی، مشکیزہ بھی بذات خود سیتی اور آٹا گوندھتی تھی۔ مجھے صحیح طریقے سے روٹی پکانی بھی نہ آتی تھی، لہٰذا میری ہمسائیاں ہماری روٹیاں پکا دیتی تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت زبیرؓ کو زمین کا جو حصہ بطور جاگیر عطا کیا تھا وہاں سے میں اپنے سر پر گٹھلیاں لے کر آتی تھی۔ یہ جاگیر 6 میل کے فاصلے پر تھی میں خود ہی اونٹنی کے لیے ان گٹھلیوں کی کوٹتی تھی‘‘

مزید : روشن کرنیں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...