” میں ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اتنی خلاف کیسے ہوگئی، ایک دفعہ میں نے ان کے۔۔۔“شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا، ”حملہ“ کردیا

” میں ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اتنی ...
” میں ان لوگوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے اتنی خلاف کیسے ہوگئی، ایک دفعہ میں نے ان کے۔۔۔“شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا، ”حملہ“ کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد / لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب حاضر مزاری کا کہنا ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے خلاف اس لیے بولتی ہیں کیونکہ یہ اپنی کٹھ پتلیوں کے ذریعے اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف مہم چلاتے اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

ٹوئٹر پر ایمان مزاری نے لکھا میں سمجھتی تھی کہ پاکستان کی سب سے بہترین چیز یہاں کی فوج ہے ، اگر آپ ماضی میں میری جانب سے لکھی گئی کوئی چیز پڑھ لیں تو آپ کو ضرور حیرت ہوگی کہ آج میں اس نہج تک کیسے پہنچی۔جب میری بھی برین واشنگ ہوئی تو مجھے فوج کے ساتھ اندھی محبت ہوگئی، اور اسی محبت میں میں نے ان کے ایک میڈیا میں کام کرنے والے بندے سے رابطہ کیا اور کہا کہ میں کس طرح آپ لوگوں کی مدد کرسکتی ہوں، میری تحقیق میں مہارت ”ملکی خدمت“ میں کافی کام آسکتی ہے۔

ایمان مزاری نے کہا جب میں نے اس شخص سے رابطہ کیا تو اس وقت میں بہت چھوٹی تھی اور میں نے بھی پاکستان کی وہی تاریخ پڑھ رکھی تھی جو سب لوگوں کو پڑھائی جاتی ہے جس کی وجہ سے قوم پرست پراپیگنڈے میں آگئی تھی اسی لیے مجھے ملک کی خدمت کرنے کا اس سے بہتر طریقہ نہیں آتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے اس میڈیا کے بندے سے رابطہ کیا تو اس کے بعد اگلے کچھ ہفتوں کے دوران مجھے بعض ای میلز کے ذریعے مواد بھجوایا گیا جسے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ سے شیئر کرنے کی ہدایت کی گئی،بعض اوقات کچھ تبدیلیوں کی بھی ہدایت کی جاتی تھی۔ اپنی اندھی قوم پرستی کے باوجود میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا کیونکہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ تھی اس لیے میں نے کبھی بھی وہ چیزیں پوسٹ نہیں کیں۔

پہلے کام سے انکار کے باوجود میں نے دوبارہ کوئی دوسرا کام کرنے کی آفر کی، شاید میں کشمیر پر کچھ کام کرسکوں؟ جس پر مجھے بتایا گیا کہ ”وہ“ کچھ پاکستانی طلبہ کو کشمیر پر ہونے والی مختلف کانفرنسز میں شرکت کیلئے بھیجنا چاہتے ہیں، یہ سن کر میں بہت خوش ہوئی اور تیاریاں شروع کرنے کی اجازت طلب کی۔

لیکن مجھے جواب دیا گیا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ مجھے کہا گیا کہ آپ کو ایک سکرپٹ دیا جائے گا جس پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، مجھے اس سے اتفاق نہیں تھا اس لیے انکار کردیا۔

ایمان مزاری نے کہا سکرپٹڈ کٹھ پتلی بننے کیلئے کئی لوگوں کو اس طرح کی آفرز کی جاتی ہیں اور آج وہی سکرپٹڈ کٹھ پتلیاں مجھے ٹوئٹر پر نظر آتی ہیں، آج ان کے داﺅ پیچ ذرا تبدیل ہوگئے ہیں، یہ لوگ صحافیوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں اور صحافیوں کو لگتا ہے کہ وہ بہت سپیشل ہیں، جس کے بعد وہ بھی انہی نوجوانوں کی طرح ’جنہیں اختلاف رائے کرنے والوں پر باضابطہ حملہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہوتی ہے‘ برتاﺅ کرتے ہیں۔اگر کسی کے خلاف ایک مہم ناکام ہوجائے تو کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کے پاس معلومات کے بہت سے فولڈر ہوتے ہیں جنہیں غلط طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

شیریں مزاری کی بیٹی نے کہا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے خاموشی کے ساتھ سالوں تک لوگوں کو خوفزدہ کیا ہے اور وہ کبھی بھی رکنے والے نہیں ہے۔ انجم کیانی بھی ایک ایسا ہی شخص ہے جس کے ذریعے نہ صرف مجھے بالواسطہ طور پر دھمکیاں دی گئیں بلکہ بیہودہ پیغامات بھی بھجوائے گئے، اور اسی شخص نے اب مجھے شیطان کی پیروکار ہونے کا بھی طعنہ دے دیا ہے۔

ایمان مزاری نے کا کہنا تھا میں یہ سب اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ آپ لوگوں میں سے بھی بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے اس طرح کی گھٹیا مہم جوئی کے نتیجے میں اپنی جانوںکو خطرے میں ڈالا ہوگا۔اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ مہم جوئی کے نتیجے میں پیچھے ہٹ جانے سے ان کا مقصد پورا ہوجائے گا، اگر آپ اس نہج تک پہنچ چکے ہیں تو برائے مہربانی انہیں خود کو خاموش نہ کرانے دیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد