چنیوٹ میں 2 سال پہلے ملنے والے سونے کے ڈھیروں ذخائر جن سے حکمرانوں نے ملک کی تقدیر بدلنے کا وعدہ کیا تھا، ان کا کیا بنا ؟ حقیقت جان کر ہر پاکستانی کے ہوش اڑجائیں گے

Jan 11, 2018 | 13:20:PM

اسلام آباد (ڈیلی پاکستا ن آن لائن) سینئر صحافی و اینکر پرسن ارشد شریف نے انکشاف کیا ہے کہ چنیوٹ سے سونا تو نکل رہا ہے لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں جا رہا ہے، پاکستان سارا ہی سونے کی چڑیا ہے جسے گدھ نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

اپنے پروگرام پاور پلے میں ارشد شریف نے انکشاف کیا کہ 2015 میں چنیوٹ میں سونا، چاندی اور تانبے کے ذخائر دریافت ہوئے۔ فروری 2015 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ چنیوٹ میں سونے کے ذخائر نکل آئے ہیں، جس سے ہمارے سارے مسائل حل ہوجائیں گے، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ کشکول کو اوپر سے پھینک کر توڑ دیں گے تاکہ آئندہ کبھی کشکول استعمال نہ کرنا پڑے۔ اسی تقریب میں شہباز شریف نے بھی اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا تھا کہ آئرن تلاش کرنے نکلے تھے لیکن تانبا اور سونا نکل آیا ہے، ”لیکن وہ سونا کہاں گیا ؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے“۔

ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے چنیوٹ کے منصوبے کے بارے میں تصدیق کی کہ وہاں سونے اور کاپر کا بڑا ذخیرہ ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا جب چنیوٹ سے معدنیات کے ذخائر ملے تو ہمیں بتایا گیا کہ چنیوٹ میں سونا، چاندی، تانبے سمیت دیگر معدنیات ہیں، بعد میں پنجاب منرل کمپنی کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ یہاں پرڈرلنگ کرکے دیکھیں کہ کتنا بڑا ذخیرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت میاں منشا اس کمپنی کو ہیڈ کر رہے تھے لیکن چونکہ وہ ٹیکنیکل آدمی نہیں تھے اس لیے یہ ذمہ داری مجھے دے دی گئی ، میں نے یہ کام اعزازی طور پر کیا۔ بطور کمپنی چیئرمین انٹرنیشنل ٹینڈر کیا اور بین الاقوامی کمپنیوں کو 28 مربع کلومیٹر کا ٹھیکہ دیا گیا جنہوں نے ڈرل کیا تو وہاں پر کاپر اور سونا نظر آیا۔

ارشد شریف نے کہا کہ چنیوٹ میں کافی علاقے کو نو گو ایریا بنادیا گیا ہے، منصوبے سے سونا تو نکل رہا ہے لیکن وہ کہاں جا رہا ہے اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ بعض لوگ ماڈل گرل ایان علی کی طرح بیرون ملک سونے کی سمگلنگ کے کام میں مصروف ہیں ، اور جولوگ سونا سمگلنگ کرتے ہیں وہ نواز شریف کو سالگرہ پر ایک ہزار پاﺅنڈ کا کیک بھی گفٹ کرتے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے اپنے پروگرام میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک رپورٹ بھی دکھائی گئی جس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور ایئر پورٹ سے مئی 2015 میں 93 ملین کا سونا اور غیر ملکی کرنسی بیرون ملک سمگل کرنے کی کوشش کی گئی ، الیکٹرانک میڈیا نے 30 مئی 2015 کو اس کی خبر دی اور عبدالباسط نامی بندہ پکڑا گیا جس نے اعتراف کیا کہ اسے یہ سب چیزیں توفیق عرف توفی بٹ نے دی تھیں، توفیق بٹ کی لاہور ایئر پورٹ پر 6 دکانیں ہیں لیکن جب سول ایوی ایشن حکام سے توفی بٹ کے خلاف کارروائی کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

ارشد شریف نے اپنے پروگرام میں توفیق عرف توفی بٹ اور میاں نواز شریف کی کچھ تصویریں بھی دکھائیں اور بتایا کہ 25 دسمبر 2017 کو جب میاں نواز شریف نے اپنی سالگرہ منائی تو اسی توفی بٹ نے انہیں ایک ہزار پاﺅنڈ کا کیک تحفے میں دیا تھا۔

ارشد شریف نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر سونے اور کرنسی کی سمگلنگ بڑی شخصیت کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں ہے ، ریکوڈک ، سینڈک اور دیگر منصوبوں سے سونا بھی نکل رہا ہے اور پاکستان سونے کی چڑیا کی بجائے پورے کا پورا سونا ہے لیکن اس چڑیا کو گدھ نوچ نوچ کر رکھا رہے ہیں۔

۔۔۔ ویڈیو دیکھیں ۔۔۔

مزیدخبریں