فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر326

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر326
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر326

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ناہید نے گلوکارہ کے طو ر پر کئی ایوارڈز حاصل کئے اور ان کے متعدد گانوں نے بے حد مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے ملّی نغمے اور قومی ترانے بھی گائے۔ جدید مغربی انداز کے نغمے بھی ریکارڈ کرائے۔ مگر ان کا ذاتی رجحان کلاسیکل اور نیم کلاسیکل کی طرف رہا۔ ناہید کو شعر و شاعری کا شوق بھی ہے اور شاعروں کے دیوان اور مجموعے ہمیشہ ان کے زیر مطالعہ رہے۔ یہاں تک کہ کچھ عرصہ قبل انہیں دہلی میں منعقد ہونے والی عالمی اردو کانفرنس میں شاعرہ کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں اردو کے نامور اور ممتاز شعرا نے حصّہ لیا تھا۔ موسیقار نوشاد اور اداکار دلیپ کمار بھی اس کے شرکا میں شامل تھے۔ ایسی ایسی کانفرنس میں بطور شاعر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا امتیازی اعزاز ناہید اختر کے حصّے میں آیا۔ عالمی کانفرنس کے شرکا خصوصاً موسیقار نوشاد اور دلیپ کمار نے ان کی بہت تعریف اور حوصلہ افزائی کی۔ ناہید اختر کی آواز میں جو چَمک‘ کَھنک‘ نغمگی اور مخصوص کیفیت ہے وہ انہیں دوسری گلوکاراؤں سے نمایاں کرتی ہے۔ ان کی آواز بے شمار گانے والیوں میں سب سے الگ پہچانی جاتی ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر325 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ناہید اختر کے کیریئر کا خاتمہ بالکل اچانک‘ غیر متوقع بلکہ پُراسرار انداز میں ہوا۔ انہوں نے اچانک گانوں کی ریکارڈنگ میں حصّہ لینا بند کر دیا۔ اس کی وجہ ان کی طبیعت کی ناسازی بیان کی گئی مگر جب یہ بہانہ پرانا ہو گیا تو یار لوگوں کو تشویش پیدا ہو گئی۔ اس زمانے میں وہ گلوکارہ کی حیثیت سے پورے عروج پر تھیں۔ تقاریب اور نجی محفلوں میں بھی ان کی آؤ بھگت کی جاتی تھی۔ ایسے میں اچانک غیر حاضر ہو جانا ہر ایک کیلئے اچنبھے کی بات تھی۔ پہلے قیاس آرائیاں شروع ہوئیں۔ اس کے بعد افواہوں نے جنم لیا۔ کسی نے کہا کہ وہ شادی کر کے گھر بیٹھ گئی ہیں۔ کسی نے کہا کہ شادی کے مسئلے پر ان کے اپنے گھر والوں سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور وہ ضد کر کے بیٹھ گئی ہیں کہ جب تک ان کی بات نہ مانی جائے گی وہ گانے نہیں گائیں گی۔ عروج کے عہد میں یہ بے اعتنائی ایک عجیب اور انہونی سی بات لگی۔ ان کے والد نے بھی اس معاملے میں پُراسرار خاموشی اختیار کر لی تھی۔ لوگ ان کے منتظر ہی رہے اور ان کی آمد کے انتظار میں گھڑیاں گنتے رہے۔ ان کے حوالے سے مختلف خبریں شائع ہوتی رہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ وہ عنقریب گلوکاری کا آغاز کر دیں گی مگر ایسا نہ ہوا۔ پھر معلوم ہوا کہ انہوں نے ملتان کے ایک جاگیردار اوربڑے سیاستدان سے شادی کر لی ہے۔

وقت گزرتا گیا مگر ناہید اختر کی واپسی کی امید ان کے پرستاروں اور فلمی حلقوں میں ختم نہ ہوئی۔ پانچ سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا تو یہ خبر آئی کہ ناہید اختر اس تعلق کو ختم کر کے دوبارہ گلوکاری کے میدان میں آ رہی ہیں۔ اس خبر سے ان کے منتظروں کو بہت خوشی ہوئی۔ سوکھے دھانوں پانی پڑا اور امید کی فصل پھر لہلہانے لگی مگر ناہید اختر منظر عام پر نہ آئیں۔

پھر خبر آئی کہ انہوں نے ایک صحافی آصف علی پوتاسے شادی کر لی ہے۔ یہ صاحب پہلے ہی سے شادی شدہ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ دراصل ناہید اختر اس صحافی کی محبت میں گرفتار تھیں اور اس سے شادی کی خواہاں تھیں مگر حالات کے جبر نے انہیں جاگیردار سے شادی کرنے پر مجبور کر دیا۔ ناہید اختر کی اس شادی میں شو بزنس کے کسی فرد نے شرکت نہیں کی۔ سنا کہ قریب ترین لوگوں کے سوا اس نجی تقریب میں کوئی اور شریک نہ تھا۔ یعنی پھروہی پُراسرار کیفیت طاری ہو گئی۔ اس کے بعد یہ خبر آئی کہ ناہید اختر اپنے شوہر کے ساتھ ہنی مون منانے کے لئے بیرون ملک جا رہی ہیں۔ ناہید سے ملنے یا انہیں دیکھنے کا موقع تو کسی کو نہیں ملا مگر ان کے شوہر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اگر ناہید اختر دوبارہ گلوکاری کرنا چاہتی ہیں تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ وہ بڑی خوشی سے گا سکتی ہیں۔ اس انٹرویو کے بعد یہ امید دوبارہ تازہ ہو گئی کہ ناہید اختر ایک بار پھر اپنی آواز کا جادو جگائیں گے۔ مگر ؂

اے بسا آرزو خاک شدہ

وہ دن اور آج کا دن۔ ناہید اختر آج بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں اور خالص گھریلو زندگی بسر کر رہی ہیں۔

ناہید اختر کو ہم نے بھی دیکھا اور گاتے ہوئے بھی سنا۔ جب وہ اپنا پہلا گانا ریکارڈ کرانے کے لئے ایورنیو اسٹوڈیو میں داخل ہوئیں تو ہم بھی نئی آواز کی جستجو میں وہاں پہنچ گئے۔ ہماری طرح اور بھی کئی فلم ساز اور موسیقی کے شائق وہاں موجود تھے۔ ایک دُبلی پتلی، دھان پان سی نازک نوعمر لڑکی ہماری آنکھوں کے سامنے تھی۔ کتابی چہرہ، گورا رنگ، سیاہ بال، ناک نقشہ بہت مناسب، متوّسط قد، بڑی بڑی متاثّر کرنے والی آنکھیں جو خاموشی میں بھی کلام کرنے پر قادر تھیں۔ اس شرمیلی لجاتی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر کسی کو بھی یہ گمان نہ تھا کہ موسیقی کی دنیا میں یہ کوئی دھماکہ کرے گی۔ مگر جیسے ہی ناہید نے نغمہ چھیڑا سب کے کان کھڑے ہو گئے۔ بول تھے۔۔۔

دل، دیوانہ دل

طرز مناسب تھی، سازوں کی ترتیب بھی اچّھی تھی مگر سب سے نمایاں چیز ناہید کی کھنکھتی ہوئی ،لگی لگی آواز تھی۔ جیسے ہنڈیا لگ جاتی ہے۔ یا نزلے زکام، کھانسی کی وجہ سے بعض اوقات آواز لگ جاتی ہے۔ ناہید کی آواز میں بھی یہی کیفیت تھی جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ موسیقار ایم اشرف حسب معمول مسکراتے ہوئے کبھی میوزک ہال میں تو کبھی ریکارڈنگ کے کمرے میں آمدورفت میں مصروف تھے۔ ان کی مسکراہٹ اور خوش مزاجی نے کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لگ بھگ تیس سال سے تو ہم بھی انہیں دیکھ رہے ہیں۔ مگر اس شخص کو کبھی ناراض یا غصّے میں نہیں دیکھا۔ جب دیکھا مسکراتے ہی دیکھا۔ ان میں اور دوسرے موسیقاروں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ ایم اشرف کے شوق اور لگن میں کبھی کمی نہیں آئی۔ فلم سازوں کے ساتھ تعاون اور شوق و لگن ان کی عادت ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ بطور موسیقار سلور جوبلی منا چکے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ مگر آج بھی مقبول اور کامیاب موسیقار ہیں۔

فلم ساز انکل نورالدین نے ہم سے پوچھا ’’آفاقی صاحب۔ کیا خیال ہے؟‘‘

ہم نے تعریف میں سر ہلا دیا۔

ایک صاحب نے تبصرہ کیا ’’آواز تو اچّھی ہے مگر لڑکی کی صحت کمزور ہے۔ دم نہیں ہے۔ اونچے سُروں تک نہیں جا سکے گی۔‘‘

مگر اس کمزور لڑکی نے انتہائی اونچے سُروں تک بھی نغمے گائے اور ان سے پورا انصاف کیا۔

ناہید اختر سے ہماری بھی ملاقات رہی مگر کام کی حد تک۔ انہوں نے ہمارے ساتھ برائے نام ہی کام کیا۔ لیکن اسٹوڈیوز میں آمنا سامنا ہوتا رہتا تھا۔ ان کے مزاج میں سنجیدگی، متانت اور وقار بہت زیادہ تھا۔ فلمی معمول کے مطابق ہم نے انہیں بے تکلّفی اور بے باکی سے لوگوں سے باتیں کرتے اور ہنستے بولتے نہیں دیکھا۔ گفتگو کے معاملے میں وہ خاصی کنجوس واقع ہوئی تھیں۔ فلمی ماحول میں ہمیشہ لئے دیے رہتی تھیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود کو ارزاں نہیں کیا اور نہ ہی دوسروں کو بے تکلّف ہونے کا موقع دیا۔ اس رکھ رکھاؤ میں بہت زیادہ دخل ان کے والد محمد اختر صاحب کا بھی تھا۔ وہ نہایت بااخلاق، بااصول اور معتدل مزاج انسان تھے۔ انہوں نے حفظ مراتب کا ہمیشہ خیال رکھا۔ دوسروں کی عزّت بھی کی اور اپنی عزّت بھی کرائی۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر327 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ