A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

سیاست کو عبادت سمجھنے والوں سے سوال ہے

سیاست کو عبادت سمجھنے والوں سے سوال ہے

Jan 11, 2018 | 15:44:PM

ڈاکٹر شاہد صدیق

سیاست کو عبادت کا درجہ دینے والے آج کل ریاستی وفاداری کی زلفوں میں اسیر خوب پوجا پاٹ میں مصروف ہیں 150 بے خوف ، نڈر ، نہ جھکنے والے اور نہ ہی کسی مول تول میں بکنے والے کبھی بلوچستان کے معاملات میں اپنا کردار نبھا رہے ہیں تو کسی کو فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کھائے جارہی ہے۔ کوئی پچھلے ایک ہفتے سے اشرافیہ کے بے ڈھنگے رویوں پہ تیر برساتا ایک درد اور تکلیف میں مبتلا بلبلا رہا ہے 150 کسی کے لئے عدالتی فیصلے کرب کا باعث ہیں تو کوئی ایک شادی کے جھنجھٹ سے جان چھڑانے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ کسی کو کھانے کی تھالی میں کوئی چھید کرتا ناگوار گزر رہا ہے تو کسی کو صوبے میں مسلسل تقریبا" دس سال حکومت کے بعد بھی بنیادی حقوق میں اصلاحات کرنے کے لئے مزید پانچ سال درکار ہیں ۔ موجودہ حکومتی سالوں میں ٹرینیں ، بسیں دینے کے بعد اب ایک دفعہ پھر کوئی اسی حاکمیت کی کرسی کا طلب گار ہے کہ جو رہی سہی خدمت وہ نہ کرسکا اب کر سکے اور عوام کو صاف پانی دینے کے معاملات کو کچھ ایسے سلجھائے کہ ملکی سیاست میں سب سے اہم صوبے کی کایا ہی پلٹ دے۔

اگلے مجوزہ وزیر اعظم کے ٹائی سوٹ میں واقعی وہ جاذبِ نظر دکھائی دے رہا تھا 150 ایک دکھ میں رندھی آواز اور روہانسی لہجہ ہر کسی کو مجبور کر رہا تھا کہ بس اگلے پانچ سال اور اس کے بعد پاکستان کے دل میں بستے لوگ وہی پانی پی سکیں گے جو گزشتہ تیس سالوں سے وہ خود پی رہا ہے۔ صوبے کی ہسپتالوں کی حالتِ زار بدل دینے والا ہر وہ مشین خرید رہا ہے کہ جس کی ضرورت کسی ہسپتال میں ہو سکتی ہے لیکن اس مشین کے لئے ٹیکنیشن اور اس کو استعمال کرنے کے لئے اگر ان ہسپتالوں میں وہ ڈاکٹر مہیا نہ کر سکا تو کیا ہے 150 جب تک اس مشین پہ کوئی ڈاکٹر تعینات ہو کر آئے گا اس وقت تک شاید اس مشین کا ماڈل ہی بدل جائے گا تو وہ نئی خرید دے گا۔ ویسے بھی اس کے اپنے صوبے کے درالخلافہ میں جو طبی تشخیص اور علاج کی مشینیں دستیاب ہیں وہ بھی کہاں کام کرنے کی حالت میں دکھی انسانیت کا درماں بن رہی ہیں لیکن نئی مشینیں جن پہ خوب مال بنتا ہے وہ تو دھڑا دھڑ خریدی جارہی ہیں۔ وہ مشین جو ایک پرائیویٹ ہسپتال کے مقابلے میں تقریبا" دگنی قیمت میں خریدی گئی ہے اگر وہ کام کرے گی تو پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان کنگال نہ ہو جائیں گے 150 انہیں بھی تو آباد رکھنا ہے ۔صبح شام کام کام اور بس کام کرنا بھی تو ایک بہت مشکل کام ہے جسے وہ ایک عرصہ سے تن تنہا کام کررہے ہیں۔

میرے ملک میں اعلیٰ عدلیہ کے سر براہ جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کہتے ہیں کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے اگر ایک بچہ بھی جان سے جائے گا تو وہ اس کا نوٹس لیں گے اور اگر ہسپتال درست نہ ہوں گے تو اورنج ٹرین جیسے منصوبے بھی روک دیں گے تو کیا یہ فنڈز کے درست استعمال پہ سوالیہ نشان نہیں ہے 150 لیکن سوال تو یہ ہے کہ ہسپتال میں اگر سہولیات نہیں ہیں تو کیا ہے 150 سڑکوں پہ دوڑتے میٹرو بسوں کے قافلے ، موبائل ہسپتال ، ایمبولینسز اور اب تیز رفتار موٹر سائیکل مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کا کام تو سر انجام دے رہے ہیں اور کم از کم اب زیادہ لوگ ہسپتالوں میں ہی مر رہے ہیں ۔ ایک بات ذرا سمجھ سے باہر ہے کہ کیوں صوبائی دارالحکومت کے موجودہ ایم ایس حضرات کو اعلٰی عدلیہ نے تمام ریکارڈ کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا ہے 150 پچھلی کئی دہائیوں سے ہسپتالوں پہ چھاپے۔ ڈاکٹروں کی بر طرفی اور لٹکی ہوئی انکوائریاں تو کسی اور کے دائرہ کار میں تھا 150 وہ جہاں گئے اس ہسپتال کے عملے کو بر طرف کر آئے 150 نظام درست ہوا نہ ہوا جو نیا آیا وہ بھی اگلے دورے پہ گھر بٹھا دیا جائے گا۔ اگر ان کی ناک تلے چلتے ہسپتالوں کا نظام چیف جسٹس صاحب کو بر ہم کر رہا ہے تو ان ہسپتالوں کاسوچئے جو ہیں تو ان کے دل کے قریب لیکن فاصلوں میں دور ہیں۔

سنا ہے لا ہور میں سٹیٹ آف آرٹ جگر کی پیوند کاری کا ایک ہسپتال بن رہا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ اس صوبے میں اور شہر بھی ہیں ۔ویسے بھی جگر کے مسائل جنوبی پنجاب میں زیادہ اور ہیپاٹاٹس کا زور بھی انہی غریب علاقوں میں ہے لیکن شاید یہ ہسپتال لاہور میں زیادہ سجے گا اور لاہور کی طرف سفر کرتے یہ مریض لاہور میں بیٹھے ہی ان کے اقبال کو دعائیں دیں گے کہ شاید قریب سے کی گئی دعا زیادہ سنی جاتی ہے 150 ان مریضوں کے لواحقین جب لاہور میں ترقی کی داستانیں اور اورنج ٹرین کے طلمساتی سفر کی روداد اپنے اپنے علاقوں میں جا کر سنائیں گے تو کون ہے جو ا ن کے اعلیٰ ذوق کا قائل نہ ہوگا 150 باقی سخت کوش تو ہر جگہ رہ لیتے ہیں اپنے گھر کے قریب علاج نہ کروا سکے تو کیا 150 ہسپتالوں کے باہر بستر بچھائے یہ سردی اور گرمی کے ہر موسم میں گزرا کر لیتے ہیں 150 ویسے بھی بجلی ، پنکھے اور گیس کی سہولت کو کسی اور سیارے کی طرزِ زندگی خیال کرتے یہ کب احتجاج کرتے ہیں۔ آپ کے شہر میں آ کر ان کے مریض کو کسی سفارش سے بستر ہی مل جائے تو کیا یہ کافی نہیں ہے ورنہ یہ تو سڑکوں، رکشوں اور شاہراہوں پہ بچے جنتے بھی آپ کو قصور وار نہیں ٹھہراتے۔ ہماری صوبائی ہیپاٹائٹس سی کی ادویات گھر گھر پہنچا رہی ہے۔ مگریہ سن کر دل سے نکلنے والی تمام تعریفیں اس وقت دم توڑ گئیں کہ جب پتہ چلا کہ اس وائرس کی قسم اور خون میں موجود مقدار کو جانچنے کا ٹیسٹ سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب نہیں ہے 150 پوچھنے پہ پتہ چلا کہ ادویات خریدنے پہ تو مال بنتا ہے 150 تشخیصی ٹیسٹ کیا دے گا جس پہ علاج کا دارومدار ہے اور ویسے بھی اگر آپ کی سفارش تگڑی ہے اور آپ راہ و رسم میں ید طولیٰ رکھتے ہیں اور علاقے میں آپ کی خوشامد انہ طبیعت اور چرب بیانی ضرب المثل ہے تو اس دوائی کی منظوری کے بعدبھی اس دوائی تک پہنچنے میں ایک ماہ کا وقفہ درکار ہے 150 یہ نہیں کہ لندن کی فلائٹ پکڑی اور عوامی ٹیکس پہ آپ کا علاج شروع۔

سیاست کو عبادت سمجھتی اشرافیہ پہ تنقید کرتی اور اسے برا بھلا کہتی ایک اشرافیہ ہی تو ہمارے لئے ایک معمہ بنی ہوئی ہے صاحب۔ اگر قارئین کو سمجھ آئے تو ہمیں بھی سمجھائیں کہ نجات کا در کیسے کھلے گا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں