” یہ غیراسلامی بات ہے کہ والدین اپنے بچوں کو۔۔۔“زینب قتل کیس میں لیگی رہنما مائزہ حمید کی بات نے ہرپاکستانی غصے سے آگ بگولاکردیا

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) قصور میں اغواءاور بدفعلی کے بعد قتل ہونیوالی زینب کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ایسے میں لیگی رہنماءمائزہ حمید بھی میدان میں آگئیں اور کہاکہ ہے کہ ”یہ اسلام یا کسی دوسرے مذہب میں نہیں کہ اپنے بچوں کو کسی سہارے کے بغیر چھوڑیں“ تاہم بعد میں انہوں نے یہ ٹوئیٹ ڈیلیٹ کرکے معذرت کرلی ۔
مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئیٹر پر مائزہ حمید نے لکھاکہ ”یہ اسلام یا کسی دوسرے مذہب میں نہیں کہ اپنے بچوں کو کسی سہارے کے بغیر چھوڑیں، لوگ بچوں کوکیوں بے آسرا چھوڑ دیتے ہیںجس کی وجہ سے ایسے ناقابل یقین واقعات ہوتے ہیں۔ ایسے والدین سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے “اور ساتھ ہی بہت افسوسناک لکھ کر ’جسٹس فارزینب ‘ کا ہیش ٹیگ لگادیا۔

بعدازاںایک اور ٹوئیٹ میں مائزہ حمید نے لکھاکہ” میں نے اپنی ٹوئیٹ ڈیلیٹ کردی کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ اس سے ایسا تاثر مل رہاہے کہ میں والدین کو مورد الزام ٹھہرارہی ہوں،جو ایسا نہیں تھا۔ زینب کے والدین نہایت کٹھن وقت سے گزررہے ہیں اور میں نے ان کا درد محسوس کیا، میں اپنی ٹوئیٹ پر معذرت خواہ ہوں، اللہ تعالیٰ زینب کے والدین کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت دے ‘۔

مزید : قومی /سیاست

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...