زینب ہم شرمندہ ہیں

زینب ہم شرمندہ ہیں
زینب ہم شرمندہ ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اب خدا بھی شاید ہماری نہیں سنتا، آخر اتنا ناراض کردیا ہے ۔وہ ربّ جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ،لیکن وہ کیوں نہیں سن رہا؟ کیا قیامت کی گھڑیاں آچکی ہیں کہ اب سب کا ربّ کسی کی نہیں سنے گا ؟اللہ نے کہا ہے کہ وہ کسی ظالم کی نہیں سنتا تو پھر یا تو یہ گھڑیاں قیامت کی ہیں یا ہم ظالموں میں سے ہیں کیونکہ کہ میرا ربّ سچا ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کیونکہ زینب ہر گھر میں ہے ،ہر محلے میں ہے، ہر معاشرے میں ہے ،کسی کی بیٹی ہے تو کسی کی بہن ہے اور کسی کے مستقبل کی جنت ہے۔ اس جنت کی بے توقیری نے ہمارے معاشرے کے درودیوار ہلا کررکھ دئیے ہیں۔ آہ و بکا کا ایک سمندر معاشرے کی آنکھوں سے رواں ہے۔ ساری ریاست تو کیا پوری دنیا غم کی چادر میں دبکی بیٹھی ہے۔ ساری دنیا کو اپنی اپنی زینب کی فکر پڑ گئی ہے۔ شاید چودہ سو سال پہلے کا زمانہ جاہلیت لوٹ آیا ہے۔ 

یہ دھرنا فیم پارٹیا ں یا لبیک، پی ٹی آئی، پیٹ، آج اس اہم قومی ایشو پر دھرنا کیوں نہیں دیتیں ؟کیا کرسی کے علاوہ انہیں کچھ نظر نہیں آتا! خاندان شریفیہ وزرداریہ ایسے درناک, شرمناک اذیت ناک مسائل کی جانب نظر کیوں نہیں کرتے ؟ وہ وقت دور نہیں رہا کہ یہ بپھری مقہور و مجبور روتی پیٹتی ماتم کناں عوام سیاستدانوں کے محلات کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر مجبور ہوجائے گی ، یہ بے زبان مشتعل لوگ مسولینی کی طرح ان کو سڑکوں پر گھسیٹتے پھریں گے،اس وقت سے ڈرنا چاہئے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ