مویشی منڈیوں کا کلچر

مویشی منڈیوں کا کلچر
مویشی منڈیوں کا کلچر

  

تحریر: ڈاکٹر محمد ابرار اختر

مویشی منڈیاں نہ صرف جانوروں کی خرید و فروخت کا مرکز ہیں بلکہ ان کے فوائد کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔یہ ہماری ثقافت بن چکی ہیں۔مویشی منڈیوں کا کلچر فروغ پانے سے بہت سے لوگوں کے کاروبار کا ذریعہ ہے جسے حکومت کو پروان چڑھانے میں خاص دلچسپی لینی چاہئے۔ان منڈیوں میں نہ صرف طرح طرح کے جانور اور پرندے فروخت کے لائے جاتے ہیں بلکہ مویشیوں کی سجاوٹ کے لئے مختلف اشیا کے سٹال بھی لگائے جاتے ہیں۔ ان میں گلے کی رسیاں ،موتیوں کے ہار، جانور قابو کرنے کے پٹہ جات ، گھنگرو ،نائلون اور دھات کی بنی ہوئی مختلف اشیا بھی شامل ہیں۔ ان کو بنانے والے کاریگر اور گھریلو خواتین بھی ان اشیا کی وجہ سے اپنے لئے روزگار حاصل کرتے ہیں اور ان کو فروخت کرنے والے بھی اپنا حصہ وصول کر لیتے ہیں۔ یہ دستکاریاں لوگوں کے ذوق شوق اور جانوروں کے ساتھ دلچسپی اور محبت کا ثبوت دیتی ہیں۔یہ چیزیں ہمارے عوام کی صلاحیتوں کی آئینہ دار ہیں۔ ان منڈیوں کے ساتھ لگنے والے عارضی بازار بھی عوام کی ضروریات زندگی پورا کرنے کے ساتھ انہیں تفریح کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں ۔یہاں پر موسم کے مطابق کپڑے،دیسی جڑی بوٹیا ں ،عطر اور خوشبو کے علاوہ موبائل تک مل سکتے ہیں۔ ایک نہایت اہم شعبہ کھانے اور پینے کی اشیا کا بھی ہوتا ہے جہاں سستے کھانے دستیاب ہوتے ہیں اور انہیں زمین پر بیٹھ کر مزے سے کھایا جاتا ہے اور موسم کے مطابق گرم یا سرد مشروب، یخنی سوپ ،چائے یا گنے کارس پینے والے کی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ جہاں پھول وہاں کانٹے کی مثل، کچھ جعلساز فراڈئے، ٹاؤٹ اور نو سرباز بھی اپنے داؤ لگانے کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔ان سے ہوشیار رہنا چاہئے اور نوٹ اچھی طرح چیک کر کے لینے چاہئیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ