زینب کیس, حکومت، اپوزیشن اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں

زینب کیس, حکومت، اپوزیشن اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں

تحریر: عدنان جمیل

صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں رونما ہونے والا انسانیت سوز واقعہ انتہائی قابل مذمت اور ہر پاکستانی کے لئے درد ناک ہے۔ حوا کی بیٹی کو جس طرح زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر کے پھینک دیا گیا اسے سن کر خود انسانیت بھی شرما گئی۔ایک ہی شہر میں ایسے واقعات کا بار بارجنم لینا پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اگر ایسے واقعات پر بہت پہلے ایکشن لے لیا جاتا تو آج زینب ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے درندہ صفت لوگوں کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ نا بنتی لیکن ایسے واقعات رونما ہونے کے بعدہم ساری ذمہ داری پولیس اور صوبائی انتظامیہ پر نہیں ڈال سکتے۔ پولیس کا کام ہے بروقت کارروائی کرنا اور عوام الناس کی حفاظت کرنا لیکن احتیاطی تدابیر لینا، گھر کے ارد گرد نظر رکھنا اور اپنے بچوں کی حفاظت کرنا تو ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم ایسے حالات اور معاشرے میں اپنی ذمہ داریوں سے کیسے آنکھیں چرا سکتے ہیں جہاں ہمارے محلہ اور گھرکے ارد گرد کئی درندہ صفت لوگ معصو میت کا لبادہ اوڑھے پھرتے ہیں؟ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایسی واردات کرنے والے ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں جو ہمارے آس پاس موجود ہوتے ہیں جنھیں پولیس سے پہلے ،ہم نے خود ہی پہچاننا ہے۔ والدین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے وہ کیسے اپنے نابالغ بچوں کو کسی اور کے سہارے چھوڑ کر کئی کئی دنوں، مہینوں کے لئے باہر چلے جاتے ہیں؟اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پولیس اور صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے درندہ صفت لوگوں کو گرفتار کر کے انہیں سزا دلوائے لیکن پولیس وہاں کیا کرے جب عدالت ایسے مجرموں کو ثبوت نہ ہونے اور ورثاء کے معافی نامے کی وجہ سے کھلے عام چھوڑ دیتی یا ضمانت پر رہا کر دیتی ہے؟۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام کو بھی ٹھیک کرنا ہوگا،  اپوزیشن کو بھی ایسے نازک واقعہ پر سیاسی اور منفی کردار ادا کرنے کی بجائے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔زینب صرف پنجاب کی بیٹی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی بیٹی تھی اور بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ ایسے واقعات روز کسی نہ کسی صوبے میں ہوتے ہیں،  کبھی کسی زینب کو زیادتی کے بعد تو کبھی غیرت کے نام پر اورکبھی ونی کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے ۔ اس انسانیت سوز واقعہ پر صرف وزیراعلیٰ پنجاب جواب دہ نہیں ہیں بلکہ ہر صوبائی وزیراعلیٰ، وزیراعظم بلکہ پوری پالیمنٹ اس قوم کو جواب دہ بنتی ہے۔ ایسے واقعات کیوں بار بار جنم لیتے ہیں ؟ ہمارا اجتماعی قصور تو ہے ہی ساتھ ساتھ قانونی پیچیدگیوں کے علاوہ ہمارا کمزور عدالتی نظام بھی اتنا ہی قصوروار ہے۔ اگر اس معاشرے میں انصاف کی بر وقت فراہمی اورایسے مجرموں کو پہلے ہی ان کے کفیر کردار تک پہنچایا گیا ہوتا تو آج کوئی زینب پھر سے درندگی کا نشانہ نہ بنتی۔ ایسے واقعات رونما ہونے کے بعداداروں کو اپنا کام ٹھیک طریقے سے کرنا ہوگا اور ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا، نہ کہ ایک ہجوم کی شکل میں باہر نکل کر توڑ پھوڑ اور انتظامی اداروں پر حملہ کرنا چاہئے۔ ایسی صورت حال میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار مارے جائیں یا عام عوام لیکن اصل مجرم بچ نکلتا ہے۔ ہمارے ڈنڈوں اور بندوقوں کا رخ عام معصوم لوگ یا پولیس اہلکار نہیں بلکہ انسان دشمن عناصر کی طرف ہونا چائیے۔

خوش آئندہ بات ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس نازک موقعہ پر متاثرین کے گھر کا دورہ کیا اور ان کو انصاف کا پورا یقین دلایا اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے بذات خود نگرانی کا وعدہ بھی کیا یہ اور بات ہے کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب اگلی صبح دیر سے اٹھنے کے بعد پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ پنجاب کا متاثرین کے پاس چل کر داد رسی نہ کرنے پر احتجاج کر رہے تھے۔اسی دوران کسی بھلے بندے نے ان کے کان میں آہستہ سے کہا کہ ’سراج الحق صاحب ہم ہی دیر سے آئے ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب توعلی الصبح ہی متاثرین کے گھر سے تعزیت کر چلے گئے ہیں‘۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...