’حمل کے دوران پیراسیٹامول کھانے کا یہ خوفناک نقصان ہوتاہے‘ سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ جان کر حاملہ خواتین غلطی سے بھی اسے ہاتھ نہ لگائیں گی

’حمل کے دوران پیراسیٹامول کھانے کا یہ خوفناک نقصان ہوتاہے‘ سائنسدانوں کا ...
’حمل کے دوران پیراسیٹامول کھانے کا یہ خوفناک نقصان ہوتاہے‘ سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ جان کر حاملہ خواتین غلطی سے بھی اسے ہاتھ نہ لگائیں گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) حاملہ خواتین درد کش دوا ’پیراسیٹامول‘ کا اکثر استعمال کرتی ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے اس کے ایسے نقصان کا انکشاف کر دیا ہے کہ جان کر حاملہ خواتین اسے ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔ دی مرر کی رپورٹ کے مطابق سویڈن کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”جو خواتین دوران حمل پیراسیٹامول استعمال کریں ان کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹیوں کی ذہنی استعداد کار شدید متاثر ہوتی ہے اور وہ بولنا بھی بہت دیر سے شروع کرتی ہیں۔“ اس تحقیق میں بیٹوں پر پیراسیٹامول کے ان مضر اثرات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 754خواتین کے دوران حمل پیراسیٹامول کھانے کے معمول اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے ، جن میں انکشاف ہوا کہ ”جن خواتین نے حمل کے آغاز میں 6سے زائد بار پیراسیٹامول کھائی تھیں ان کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹیوں نے پیراسیٹامول نہ کھانے والی ماﺅں کے ہاں پیدا ہونے والی بچیوں کی نسبت 6گنا زیادہ تاخیر سے بولنا شروع کیا۔ ان میں سے اکثر بچیوں نے پیدائش کے 30ماہ بعد بولنا شروع کیا۔اس کے علاوہ ان بچیوں کا آئی کیو لیول اور سیکھنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی کم تھیں۔تاہم پیراسیٹامول کھانے والی ماﺅں کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں پر اس کے کوئی مضراثرات مرتب نہیں ہوئے۔ “ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ پروفیسر شانا سوان کا کہنا تھا کہ ”دوران حمل پیراسیٹامول کھانا پیٹ میں موجود بچیوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ ہم نے اس تحقیق میں بچیوں کے بولنے کی صلاحیت کو اس لیے اہمیت دی کیونکہ اس سے ان کے دیگر عصبی مسائل کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔“ واضح رہے کہ ایک الگ تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جو خواتین دوران حمل پیراسیٹامول کھائیں ان کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹیوں کے بانجھ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت