سودی قرضوں سے پاکستان ریاستِ مدینہ نہیں بنے گا

سودی قرضوں سے پاکستان ریاستِ مدینہ نہیں بنے گا

(برائے جمعہ ایڈیشن)

پروفیسرحافظ محمدسعید

امیرجماعۃ الدعوۃ

ہماری حکومت کا دعویٰ ہے کہ ہم نے مدینے والانظام پاکستان میں قائم کرناہے ۔یقینی بات ہے اگرایساہوجائے آسمانوں سے برکتیں اتریں گی۔لوگوں کے دل جڑیں گے،ایک صحیح اسلامی معاشرہ تشکیل پائے گا۔ پھرسارے کام اللہ تعالیٰ آسان فرما دے گا۔جبکہ اس وقت مشکلات ہیں، ہمارے مسائل اتنے پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ تنخواہ دینے کے لیے خزانے میں رقم نہیں، ترقیاتی منصوبے بند کرنے پڑرہے ہیں۔پھرآئی ایم ایف جیسے عالمی استحصالی اداروں کارخ کیاجارہاہے۔آئیے!ہم دیکھتے ہیں مدینہ میں بھی ایسی کیا مشکلات تھیں، پھران کوکیسے حل کیاگیا؟

پاکستان کے سارے معاشی ماہرین ،وزارت خزانہ کے ذمہ داران ،بجٹ بنانے والوں کے لئے ضروری ہے کہ مدینہ کے اس دورکی تاریخ کامطالعہ کریں کہ جب آپؐ مدینہ تشریف لائے ،کیاحالات تھے،کیا مشکلات تھیں،کتنی غربت تھی،کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ہفتے گزرجاتے،نبی اکرمؐ کے گھر کے چولہے میں آگ بھی نہیں جلتی تھی۔ صحابہ کرامؓ کا بھی یہی حال تھا۔ ایک ایک کھجور پر دن گزرتا۔ان مشکل ترین حالات میں بھی نبی اکرم ؐنے کیسی تربیت فرمائی۔ مانگنا نہیں سکھایا،کشکول نہیں پکڑایا،امرااوردوسرے ملکوں کے حکمرانوں کے دروازوں پرامدادکے لئے دستک نہیں دی کہ عرب کے فلاں سردار کے پاس جاؤ۔حالانکہ اس وقت بھی بڑے بڑے سرداراور مالدار لوگ موجود تھے،بلکہ آپ ﷺ نے فر مایا جودنیا میں مانگ کے گزارا کرے گا،قیامت کے دن اس کے چہرے کی آب (رونق )ختم ہوجائے گی،اس کے چہرے پرجلد باقی نہیں رہے گی۔ فرمایاقیامت کے دن اس شخص کوسزا ملے گی جومانگتا ہے ،منگتا بنتاہے۔دوسروں کے سامنے دست سوال درازکرتاہے۔ایسے شخص کے لئے نبی اکرمؐ نے بڑی سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں۔آپ ﷺ نے مانگنے کی بجائے مشکلات برداشت کرنے کے طریقے اور مسائل حل کرنے کے سلیقے سمجھائے ہیں۔ نبی اکرمؐ نے مدینہ آکرسب سے پہلے مسجدبنائی۔ مسجد میں صفہ بنایا،تربیت گاہ بنائی،وہاں لوگوں کو تعلیم دیتے، تربیت کرتے،دین سکھاتے۔جونئے لوگ آتے، ان کی بھی تربیت ہوتی اور مدینے کے جوباسی تھے،رہنے والے تھے، ان کی بھی تربیت ہوتی تھی۔سمجھایا جاتا تھاکہ مانگونہیں صدقہ کرو۔فرمایا:کسی کے پاس بہت تھوڑا مال ہے تو وہ ایک کھجور صدقہ کرکے بھی اللہ سے جنت لے سکتاہے۔

آپؐ کو معلوم تھا کہ مدینہ میں وسائل نہیں اور مکہ کے مسلمانوں کے آنے سے مدینہ کی آبادی بھی بڑھ گئی تھی۔ صرف کھجور ہی وہاں کی بڑی فصل تھی۔اسی پر گزارا ہوتاتھا۔ مدینہ میں گندم کاشت نہیں ہوتی تھی۔ان حالات میں اللہ کے نبیؐ صدقے کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جس کے پاس زیادہ مال ہے،وہ زیادہ صدقہ کرے، جس کے پاس تھوڑا مال ہے،وہ تھوڑاصدقہ کرے،اسے بھی اجر بہت ملے گا۔ ابھی زکوٰۃ کاحکم نازل نہیں ہواتھا۔یہ مدنی دور کی ابتداتھی۔اس لئے ابتدامیں آپؐ نے صرف صدقے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تنگی کے وقت کاصدقہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔ جب تمہارے پاس کچھ بھی نہ ہو، اس موقعہ پر جب تم خرچ کروگے ،صدقہ کروگے تواللہ اپنی رحمت کے دروازے تمہارے لیے کھول دے گا،غربت کوتونگری میں،کمزوری کوطاقت میں بدل دے گااورمشکلات کوآسان کردے گا۔ مشکل وقت کاصدقہ بہت سی برکتوں کاباعث بنتا اورمعاشرے میں خوشحالی،رواداری اورکامیابی کے دروازے کھولتاہے۔رسول اللہؐ نے اسی نہج پرصحابہ کرام کی تربیت کی ۔جن لوگوں نے آپؐ سے تربیت حاصل کی اللہ سورۃ الحشرمیں ان کی تعریف اورکرداران الفاظ میں بیان کر تاہے: ’’اور (یہ مال) ان (انصار مدینہ)کے لیے بھی ہے جنھوں نے ان (مہاجرین مکہ)سے پہلے اس گھر میں اور ایمان میں جگہ بنا لی ہے، وہ (انصار مدینہ )ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں اور وہ اپنے سینوں میں اس چیز کی کوئی خواہش نہیں پاتے جو ان (مہاجرین) کو دی جائے اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں،،۔

سورۂ حشرکی اس آیت کا پس منظر اورشان نزول یہ تھی کہ مکہ سے ایک مہاجرنبیؐ کے پاس مدینہ پہنچا اورکہنے لگا اللہ کے نبیؐ مسلسل سفرکی وجہ سے بھوک بڑی شدید لگی ہے، بڑی دیر سے کچھ نہیں کھایا۔آپؐ نے اس کی حالت دیکھی۔انصاری صحابی ابوطلحہؓ کوکہا کہ اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ، کھانا کھلاؤ،یہ تیرا بھائی ہے،مہاجرہے،بھوکا ہے۔ جاؤ اس کواپنے ساتھ لے جاؤ،میں اس کوتیرا بھائی بناتاہوں۔ ابوطلحہؓ اس کو اپنے گھر لے گئے۔ بیوی سے پوچھا کچھ کھانے کے لیے ہے،بیوی کہنے لگی، بچوں کے لیے بس تھوڑا سا کھاناہے۔ابوطلحہؓبیوی سے کہتے ہیں کہ بچوں کوبھوکاہی سلا دو۔ آج ہمارے گھرمیں ایک مہمان آیاہے، اللہ کے نبیؐ نے اس کومیرابھائی بنایاہے۔ وہ بڑی دور کا لمبا سفر کرکے مدینہ پہنچاہے۔ آج ہم اپناسارا کھانا اس کے سامنے پیش کر یں گے۔

ابوطلحہؓ بیوی سے کہنے لگے جب ہم کھانا کھانے کے لیے بیٹھ جائیں توچراغ بجھادینا۔میں مہمان کے سامنے کھانا کھانے کااندازاختیارکروں گا۔ وہاں مہمان بھی اپنے میزبانوں کابڑاخیال رکھتے تھے۔ اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے،یہ تھی نبی اکرمؐ کی تربیت۔ابوطلحہؓنے مہمان کوباتوں میں لگاکر ساراہی کھانا اسے کھلادیا۔یہ ساراکام رات کے اندھیرے میں ہوا۔ اگلی صبح جب مسجدمیں مہمان اپنے میزبان کے ہمراہ اللہ کے نبیؐ کے سامنے آئے تو اللہ کے نبیؐ بڑے ہی خوش ہوئے ،مسکرا کے ملے اور فرماتے ہیں:رات کے اندھیرے میں تم نے جوکچھ کیا، اللہ تعالیٰ نے آسمان سے قرآن نازل کرکے مجھے ساری خبر بتا دی ہے ۔اپنے بھائی کے لئے تیرایہ ایثاراللہ کواس قدرپسندآیاہے کہ آسمان والے نے تیراذکرقرآن مجیدمیں کردیااورتیرے بارے میں آیات نازل فرمادی ہیں:

یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ إِلَیْہِم۔(الحشر:9)

’’ وہ ان سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کی طرف آئیں،،۔۔۔یہ لوگ جولٹے پٹے،اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کرکے سب کچھ ،گھربار ،برادری،خاندان چھوڑکے ، مال و دولت ،تجارت سب چھوڑ کے اللہ کے دین کے لیے آئے ہیں اور پھر وہ لوگ ( تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَالْإِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ )جنہوں نے ایمان بھی قبول کیا اورمدینے میں پہلے سے آباد ہیں یعنی انصار:یہ انصار ان لوگوں سے بڑی محبت کرتے ہیں جوان کی طرف اللہ کے دین کی خاطرہجرت کرکے آئے ہیں۔ان لوگوں کے دلوں میں ایثار کے بڑے جذبے ہیں۔انہیں خود تو بھوک لگی ہوتی ہے لیکن اپنے مہمان کی خاطر اپنی بھوک کوکنٹرول کرتے،مہمان کو کھانا کھلانے کے لیے اپنی ضروریات کوروک لیتے اوراپنے بھائی کی حاجات پوری کرتے ہیں۔

وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا أُوْتُوْا

صرف یہ نہیں ہے کہ ظاہری طورپر یہ سب کچھ کررہے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کی قلبی کیفیت کی گواہی قرآن مجیدمیں دے رہا ہے کہ یہ دل سے ایمان والوں کے ساتھی اور محبت کرنے والے ہیں۔اے برادرانِ اسلام!یہ ہے مدینہ کی ریاست جہاں اللہ تعالیٰ کے نبیؐ نے پہلے دلوں کی حالت کو بدلا۔پہلی تبدیلی یہ لائے کہ تربیت کرکے مثالی لوگ تیار کردیئے ۔بھوکے کوکھاناکھلانابظاہر ایسا کوئی کارنامہ نہیں تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی بہت اہمیت ہے۔اس لئے قرآن مجید میں اس واقعے کے بارے میںیہ آیات نازل کی گئیں کیونکہ قرآن مجید نے قیامت تک باقی رہناہے، اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ قیامت تک آنے والوں کے لیے بھی یہ واقعہ مثال بن جائے۔

وَالَّذِیْنَ جَآءُ وْا مِنْ بَعْدِہِمْ ۔(الحشر:10)

صحابہ کرامؓکے بعدجولوگ قیامت تک آئیں گے ،ان میں سے جن کاطریقہ صحابہؓ والاہوجائے گا، اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح نعمتوں سے نوازدے گا۔

بھائیو!یہ کرنے والے کام ہیں۔جب تک ایسی تربیت نہیں ہوگی، ہمارے تعلیمی اداروں میں جب تک نبی اور صحابہ کرامؓ کی سیرت نہیں پڑھائی جائے گی، قرآن مجید نہیں پڑھایاجائے گا،قرآن مجید کے سچے واقعات نہیں پڑھائے جائیں گے،ہمارے تربیتی اداروں میں مدینہ کامعاشی نظام نہیں پڑھایاجائے گا،سودی نظام اورقرضوں سے چھٹکاراحاصل نہیں کیاجائے گا،تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے،پاکستان معاشی مشکلات اورقرضوں کے گرداب سے نہیں نکلے گا۔آج ہمارے وزیراعظم کشکزل لے کرملک ملک پھررہے ہیں۔ہمارے وزیرخارجہ امریکہ سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی امداد(کولیشن سپورٹ فنڈ)جو آپ نے روکی ہے، بحال کریں۔جواب میں وہ شرطیں لگاتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کومارو۔ ان کوقتل کرنے میں ہماراساتھ دو۔پاکستان میں سودی نظام قائم کرو۔کشمیرکانام نہ لو ۔اس لئے کہ کشمیرکانام لینا دہشت گردی ہے۔جو پاکستان میں کشمیرکانام لیتے ہیں، ان کو پکڑو۔ان پرپابندیاں لگاؤ۔پاکستان کو امریکہ کی ایک ریاست بناؤپھرامداد بحال ہو گی۔اب یہ فیصلہ ہمارے وزیراعظم نے کرناہے کہ پاکستان کوامریکہ کی ریاست بناناہے یامدینہ کی ریاست۔اگرہمارے وزیراعظم پاکستان کوریاستِ مدینہ بنانے میں واقعی مخلص اورسنجیدہ ہیں توپھر خود میں جرأت پیداکریں۔پاکستان کومدینہ جیسی ریاست بناناہے تو موجودہ ماحول کوچھوڑ کر مدینہ والاماحول تیار کریں۔ہم نے نبی اکرمؐ اورصحابہ کرامؓ کی سیرت کے جو واقعات عرض کیے ہیں،یہ اس وقت کے ہیں جب ابھی زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی تھی۔حلال وحرام کے ضابطے ابھی لازم نہیں ہوئے تھے، اسلامی معیشت کی بنیادیں کیا ہیں، ابھی قرآن مجید میں اس کے بارے میں ہدایات نہیں اتری تھیں،یہ مدنی زندگی کا بالکل ابتدائی دورتھا۔چنانچہ پہلے مرحلے پر مہاجرین اور انصارکے درمیان مؤاخات کا سلسلہ قائم کیاگیا۔۔۔تربیت کاماحول بنایاگیا۔

سچی بات ہے کہ آج بھی کرنے والاپہلاکام یہی ہے ،تربیت کریں،تربیت گاہیں بنائیں،نبیؐ کی سب سے پہلی تربیت گاہ مسجد تھی۔نبیؐ نے مدینہ آکر سب سے پہلے مسجدبنائی۔ مسجد کے ساتھ چھوٹے چھوٹے سادہ گھربنائے گئے۔ آج ہم کئی کئی کنال اور ایکڑوں کے گھر بناتے ہیں اور دنیا بھر کی آرائشیں وہاں جمع کرتے ہیں۔ہماری بربادی کی اصل وجہ یہی پُر تعیش رہن سہن ہے۔مدینہ کی ریاست میں مسجد بھی کچی، گھربھی سادہ ،چھوٹے اور کچے تھے۔کھجور کے پتے ڈال ڈال کر مسجدکی چھت بنائی گئی۔یہ نبیؐ کی مسجد کاحال تھا۔ان مسجدوں میں کیے گئے سجدے اللہ کو بڑے پسندتھے۔اللہ نے ان سجدوں کانقشہ قرآن مجیدمیں ان الفاظ میں بیان کیاہے:

تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا ۔(الفتح:29)

کچی مسجدمیں کئے گئے رکوع اورسجودنہ صرف اللہ کوپسندتھے بلکہ وہ اللہ کو بڑے پسند تھے،ان کی ایک ایک حرکت پہ اللہ راضی ہوگیااورسجدے کرنے والے اللہ سے راضی ہوگئے۔،،اس طرح مدینہ میں ایک ایسامعاشرہ تشکیل پایا جس کی بنیاد اللہ کی رضا تھی لیکن ہمارا معیار کیاہے ، ہم کس کی رضاچاہتے ہیں۔ہمارا معیاریہ ہے کہ اگرامریکہ ہم سے خوش ہے توملک میں خوشحالی آئے، امداد بھی ملے گی، معاہدے بھی چلیں گے، دنیا بھی ساتھ دے گی۔مغربی ملکوں سے بھی سہولتیں بھی ملیں گی۔ آئی ایم ایف اور ورلڈبنک سے قرضے بھی ملیں گے۔ برادران اسلام!آیئے دیکھتے ہیں ریاست مدینہ کا معیار کیاتھا؟ ریاست مدینہ کی کامیابی کامعیار اس بات پرتھا کہ تم سے اللہ راضی ہے ۔۔۔۔یانہیں۔ یہ ہے کامیابی کی بنیاداور اصل فرق جوہم بھول چکے ہیں۔جب مدینہ میں نبیؐآئے تووہاں سب سے پہلے مسجد تعمیر کی اور،دوسری طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کوا نس بن مالکؓ کے گھر میں جمع کیاوہاں آپؐ نے انصار ومہاجرین کے درمیان مؤاخات کاایک سلسلہ قائم کیا۔ ایک وثیقہ لکھااس وثیقہ میں بسم اللہ لکھنے کے بعد جوپہلی سطرلکھی، آیئے!ہم اس کا مطالعہ کریں۔ وثیقہ کی پہلی سطر یہ تھی ’’یہ وثیقہ نئے اسلامی معاشرے کی تشکیل کی بنیادہے،،۔ اس میں اللہ کے نبی ؐ لکھوارہے ہیں کہ یہ انصارومہاجرین جو لاالٰہ الااللہ کی بنیاد پر ،ایک کلمے کی بنیاد پر مسلمان بن کے مدینہ میں اکٹھے ہوئے ہیں،ان سب کی حیثیت ایک امت کی ہوگی۔ آج کے بعد نہ کوئی انصاری ہے نہ کوئی مہاجرہے نہ کوئی کسی قبیلے کی بات کرے گا،نہ اپنے خاندان کی عظمت کی بات کرے گا،سب مسلمان ایک امت ہیں۔

حضرت بلالؓ غلام تھے،حبشہ سے بکتے ہوئے آئے ان کا سوشل سٹییٹس ابوبکرؓ کاسٹیٹس اور باقی سب مسلمانوں کاسٹیٹس ایک قرار دیا گیا۔ یہاں تک کہ خاندانوں، قبیلوں، علاقوں کافرق ختم کردیاگیا، میں فلاں علاقے سے ہوں،میرا علاقہ اونچاہے، میراصوبہ بڑاہے، میرا خاندان اونچا ہے،یہ سب فرق کلمے نے ختم کردیئے۔ یہ سب وثیقہ کی پہلی سطرکی برکت تھی جس کے مطابق مدینہ کی ریاست تشکیل دی گئی۔ اللہ کے نبیؐ نے یہ سب لکھوایااورتحریرکروایا حالانکہ اللہ کے نبی اکرمؐ جو زبان سے کہتے ، وہی کافی ہوتا تھااورصحابہ کرامؓ کے دلوں میں سیدھااترتاچلاجاتاتھا۔میں سمجھتاہوں کہ میرے رب نے اس میں حکمت یہ اختیارکی کہ نبی اکرمؐ کے لکھوانے سے ایک دستاویز تیارہو جائے۔صحیح بخاری اوراحادیث کی دیگر کتابوں میں نبی اکرمؐ کی یہ تحریریں محفوظ ہوجائیں تاکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے رہنما بن جائیں۔

ذرا ایک منظر ذہن میں لائیں۔امیرالمؤمنین حضرت عمربن خطابؓ بیٹھے ہیں، لو گ آرہے ہیں ،مل رہے ہیں،ملاقاتیں جاری ہیں۔اچانک بلالؓ آگئے ، عمرؓ اٹھے،آگے بڑھے،بلالؓ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ لوگوں نے کہا :امیرالمؤمنین، فلاں گورنر آیا، فلاں سردارآیا،فلاں علاقے کا اتنابڑا ذمہ دار آیا، انہوں نے سلام کہا،آپؓنے صرف جواب دیا لیکن بلالؓ آئے تو آپ اپنی جگہ سے اٹھ گئے۔ آگے بڑھ کراستقبال کیا، معانقہ کیا، اس فرق کی کیا وجہ ہے، بائیس لاکھ مربع میل پراسلامی سلطنت و خلافت قائم کرنے والے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اتنی عظمت سے نوازا، جواب میں کہتے ہیں لوگو!جب ہم اسلام قبول کرنے کی بجائے اسلام کے خلاف باتیں کرتے تھے،اس وقت بلالؓ اسلام کے لیے ماریں کھایا کرتے تھے،یہ ہم سے افضل ہیں۔ یہ تھا صحابہ کرامؓ کا معیاراورنبی ﷺکی تربیت کی برکت۔جب اسلامی ریاست میں یہ معیار و کردار ہوگا توپھران شاء اللہ پاکستان مدینہ کی ریاست بن جائے گا لیکن اگر یہاں کچھ امریکی آجائیں ،سب کے چھکے چھوٹ جائیں،سارے لائن میں ائیرپورٹ پرحاضر ہوجائیں ،حکم کے منتظر ہوجائیں وہ آکے کہے دینی مدرسوں والے غلط ہیں، ان کو بند کرو۔ سورۂ توبہ ،سورۂ انفال،جہادی غزوات نصاب کی کتابوں سے نکالوکیونکہ اگر مدرسوں میں یہ سب پڑھایاجائے گا توپاکستان میں بدری لوگ پیدا ہوں گے۔امریکہ اگریہ حکمنامے جاری کرے،آپ اس کو مطمئن کرنے کے لیے کہیں، جناب بالکل ایسے ہی ہوگا۔ ہم نے نصاب بدل دیئے ہیں۔ہم نے آپ کے حکموں پرپوراپوراعمل کیاہے ۔آپ جن کو دہشت گرد کہتے ہو، ہم نے ان پر پابندی لگارکھی ہے، مزید پابندیاں بھی لگائیں گے،وہ اگرمطمئن ہوں اورتھوڑے سے پیسے دے دیں جس میں تمہارا چند دنوں کاگزارہ ہوجائے تو اس طرح مدینے کی ریاست نہیں بنے گی۔امداد کے لیے امریکی ڈکٹیشن لینابندکرناہوگی۔ میرایقین وایمان ہے ،پاکستان میں اتنی خیرہے ،لوگوں میں ایسے جذبے ہیں کہ اگر حکمران سچے پکے مسلمان بن جائیں توعوام ان سے زیادہ ان شاء اللہ سچے بن کے دکھائیں گے، ان سے زیادہ ایثاروقربانی کے مظاہرے کریں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران،امراء وزرا ء بھوک ،تکلیفیں اورمشقتیں اٹھانے کے لیے تیارنہیں۔وہ قوم سے تو قربانیوں کامطالبہ کرتے ہیں خودقربانی نہیں دیتے۔ہمارے حکمرانوں کے قول وفعل کایہ تضادپاکستان کوفلاحی ریاست بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بخاری میں ہے،حضرت ام المؤمنین عائشہؓ بیان فرماتی ہیں ،ایک عورت کے ساتھ دوبچے تھے ۔وہ آکر دروازہ کھٹکھٹاکرکہتی ہے، میرے بچے بھوکے ہیں ،ہم نے کچھ نہیں کھایا۔عائشہؓ دیکھتی ہیں، گھرمیں ایک کھجور پڑی ہے،عائشہؓ وہ کھجور اٹھاکراس عورت کودے دیتی ہیں۔وہ عورت اس کھجور کے دوحصے کرتی ہے۔ ایک حصہ ایک بچے کے منہ میں ،دوسرا حصہ دوسرے بچے کے منہ میں ڈالتی ہے اور دعائیں دیتی ہوئی واپس چلی جاتی ہے۔اس واقعہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکاایثاردیکھیں گھرمیں ایک کھجورتھی وہ بھی ضرورت مندکودے دی۔

یہ تھے وہ حالات جن میں مدینہ کی ریاست قائم ہوئی،کیاہمارے حالات اتنے مشکل ہیں،ہماری اکثریت تو تین وقت پیٹ بھرکر روٹی کھاتی ہے۔ ہوٹلوں میں روزانہ کروڑوں کاکھاناضائع ہوتاہے، پھر بھی ہم خودکو انتہائی غریب سمجھتے ہیں اور دہائیاں دیتے ہیں،مدینہ میں ہم سے ہزار گنازیادہ غربت تھی لیکن اتنے سخت معاشی حالات میں بھی کسی سے بھیک نہ مانگی گئی ۔میں حکمرانوں کو صاف کہتاہوں،تمہارے خزانے خالی ہوجائیں، کوئی پروا نہ کرو۔تمہارے دل ایمانوں سے خالی نہیں ہونے چاہئیں ۔ یادرکھو!خزانے خالی ہوں گے تومیرارب بھر دے گا۔دل ایمان سے خالی ہوگئے توان کے اندر نفاق آئے گا اورجب ایمان کی جگہ نفاق آتاہے توملکوں ، معاشروں میں بربادیاں آتی ہیں۔ پھراصلاح بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔ یہ بڑے بنیادی مسئلے ہیں۔کوئی پروا نہ کرو، ڈٹ کرکھڑے ہوجاؤ ان شاء اللہ آپ کاکوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا،بھارت حملہ کرسکتاہے نہ امریکہ۔امریکہ نے افغانستانمیں اپنی حیثیت کودیکھ لیاہے۔ افغانیوں نے مار مار کر امریکہ کاحلیہ بگاڑدیاہے۔اللہ نے ہمارے جوانوں کو جو قوّت بخشی ہے، قربانی وشہادت کے جوجذبے عطا فرمائے ہیں، واللہ! ایسی قوت دنیامیں نہ کسی فوج میں ہے نہ معاشرے میں۔اللہ نے اس ملک کوبہت کچھ دیاہے۔ اس ملک کو صرف ایک سچے اوراللہ سے ڈرنے والے حکمران کی ضرورت ہے جونبی اکرمؐ کی سیرت کے مطابق تربیت کر کے اس ملک کو،معاشرے کو اور مسلمانوں کو تیارکرے۔ہم اپنے حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ اگرآپ پاکستان کومعاشی مسائل سے نکالنا،معیشت بہترکرنا،سودی قرضوں سے جان چھڑانا اوریہاں مدینے والا معاشرہ قائم کرناچاہتے ہیں توپھر اپنے تربیتی تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصابوں کی اصلاح کرنا ہو گی۔قرآن وحدیث ،سیرتِ رسولؐ اورسیرتِ صحابہ کرامؓ کو اہمیت دیناہو گی۔ جب یہ نصاب پڑھے جائیں گے توان شاء اللہ العزیز ذہن سازی ہو گی۔ معاشرے کی اصلاح ہو گی۔ پھر ہمارے سارے سیاسی، معاشی ،معاشرتی،دفاعی مسائل حل ہوں گے اوردنیامیں ہم کامیاب اورباوقارقوم کے طورپہچانے جائیں گے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...