رسول اللہﷺ کی مختلف زبانوں سے واقفیت

رسول اللہﷺ کی مختلف زبانوں سے واقفیت

اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے لوگوں کی زبان ان کے کلمات اور جملوں سے حضوررسول اللہﷺ کو متعارف کرایا تھا تا کہ ان پر حجت تمام ہو جائے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (سورۂ ابراہیم4) اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس قوم کی زبان کے ساتھ یعنی وحی اس قوم کی زبان میں نازل کی جاتی تھی اور وہ رسول اپنی قوم کی زبان سے پوری طرح واقف ہوتا تھا لیکن یہاں حضرت رسول کریمﷺ کو تمام کائنات انسانی کی زبانوں سے واقفیت اور معلومات فراہم کر دی گئیں اور یہ اللہ تعالی کی قدرت کاملہ سے کچھ بعید نہیں ہے۔ جہاں مختلف انبیاء ورسل ؑ کو حیران کن معجزے عطا فرمائے گئے تھے، وہاں حضور رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو ہمہ قسم کے معجزات اور محیر العقول کارناموں اور مافوق الفطرت واقعات سے سرفراز فرمایا گیا ہے۔ ان میں مختلف زبانوں سے واقفیت اور تعارف بھی ہے۔ جب حضرت سرور عالم ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں مختلف علاقوں اور ملکوں کے لوگ حاضر ہونے لگے۔ ایک مرتبہ جماعتی صورت میں کچھ لوگ مسجد الحرام میں داخل ہوئے، وہ حضرت نبی کریم ﷺ کو پہچانتے نہیں تھے مگر ان میں سے ایک شخص نے اپنی زبان میں دریافت کیا: من ابون اسران یعنی تم میں سے رسول ﷺ کون ہیں؟ توان کی یہ بات حاضرین میں سے ماسوائے حضور بنی کریمﷺ کے کسی نے نہ سمجھی۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اشکداور‘‘ آگے آ جاؤ ’’اشکد‘‘ کے معنی ’’تَعَال‘‘ یعنی تشریف لائے اور ’’اور‘‘ کا معنی ’’ھھنا‘‘ یہاں پر۔

حبشی زبان میں حدیث شریف

اسی طرح جب حضرت بلالؓ حضور رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حبشی زبان میں حضور رسول اللہؐ سے گفتگو کرتے ہوئے عرض کیا: ’’ارہ برہ کنکرۃ کری کری منذرہ‘‘ تو لوگ یہ جملے سن کرحیران رہ گئے تھے۔ اس پر حضرت رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت فرمائی تو لوگوں کو معلومات حاصل ہوئیں۔ قاضی عیاض ؒ نے اپنی کتاب الشفاء میں حضوررسول اللہﷺ کی مختلف زبانوں سے واقفیت کے حوالے سے لکھا ہے کہ آپﷺ نے ایک مرتبہ حبشہ کی چھوٹی بچی کو دیکھ کر فرمایا: ’’ سنہ سنہ‘‘ جس کا معنی ہے خوبصورت، حسین وجمیل۔ عربی زبان کے لفظ حسنہ سے سنہ اور پنجابی زبان کا لفظ سوہنا بھی اس سے مشتق معلوم ہوتا ہے۔

فارسی زبان میں حدیث مبارک

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت رسول اللہﷺ نے مجھ سے فارسی زبان میں دریافت فرمایا تھا: ’’یا اباہریرۃ! اشکمت درد؟ یعنی ’’تشتکی بطنک بالفارسیۃ قلت نعم!‘‘ (نسائی) اے ابوہریرہ! کیا تیرے پیٹ میں درد ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ فارسی اور دیگر زبانوں میں ادا کیے گئے ان جملوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ حضرت رسولﷺ نے عربی زبان کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی گفتگو فرمائی تھی اور ثانیاً یہ کہ اسلامی حکومتوں کے سفیروں اور مبلغین اسلام کے لیے یہ ہدایت ملتی ہے کہ وہ دنیا کی محتلف زبانوں میں گفتگو پر عبور اور مہارت حاصل کیا کریں۔

مختلف زبائیں سیکھنے کی تلقین

حضور رسول اللہﷺ کی ذات اقدس چونکہ پوری کائنات انسانی کے لئے باعث رشد وہدایت ہے، اس لئے آپ ﷺ نے عربی زبان کے علاوہ دنیا کی مختلف زبانیں سیکھنے کی خصوصی طور سے امت مسلمہ کو تاکید فرمائی ہے، چنانچہ آپ نے اس دور کی بڑی سلطنت فارس کی زبان سے واقفیت اور مہارت حاصل کرنے کے لیے حضرت سلمان فارسیؓ کو حکم دیا کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فارسی زبان سکھلائیں۔ ہجرت کے چوتھے سال جب ایک شرمناک واقعہ پیش آیا کہ ایک یہودی مرد نے یہودیہ عورت کے ساتھ حرام کاری کی تھی تو حضور رسول کریمﷺ نے شریعت اسلامیہ کے مطابق دونوں کو رجم یعنی سنگسار کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا۔ یہ دونوں چونکہ ذمی تھے انہوں نے کہا کہ ہم تو اپنے دین اور اپنی کتاب تورات کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں اور تورات کا حکم یہ ہے کہ حرام کاروں کا منہ کالا کر کے اونٹ پر بٹھا کہ شہر میں پھرایا جائے۔ حضور رسول کریمﷺْ نے فرمایا تم جھوٹ کہتے ہو، تورات میں بھی اس کی سزا وہی ہے جو قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ یہودیوں کے بہت بڑے احبار اور علماء میں سے تھے اور ابتدائے زمانہ میں ہی اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کر چکے تھے انہوں نے بھی ان مجرموں کے موقف کو جھٹلایا۔ اس پر حضورﷺ نے تورات لاکر پڑھنے کا حکم دیا، وہ یہودی جب رجم کی آیت پر پہنچا تو اس پر ہاتھ رکھ کر چھپا لیا، حضرت عبداللہﷺ نے حضرت زیدین ثابتؓ کو حکم دیا کہ وہ تورات کے انداز تحریر اور عبرانی زبان سیکھیں۔ مبادا یہودی اپنی کتب ورسائل میں تحریف اور تغیر وتبدل کر کے اصل احکام چھپانے کی کوشش کریں۔ چنانچہ انہوں نے پندرہ دن کے اندر اندر عبرانی زبان اور سوادخط سے واقفیت حاصل کر لی تھی۔ ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ حضور رسول کریمﷺ نے حضرت زیدین ثابتؓ سے فرمایا کہ یہودیوں کی جانب سے ہمیں کئی خطوط موصول ہوتے ہیں اور ہماری بھی ان کے ساتھ مراسلت رہتی ہے۔ انہیں فرامین بھیجے جاتے ہیں، ہمیں ان کی دیانت پر اعتماد نہیں ہے اور نہ ہی ان کے لکھنے اور پڑھنے سے ہم مطمئن ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تم ان کا انداز تحریر سیکھ لو تا کہ ہم ان کے مکروفریب سے محفوظ رہیں۔ پھر حضرت زیدین ثابتؓ نے پندرہ دن کے اندر ان کی خط کتابت سیکھ لی۔ حضور رسول کریمﷺ کا یہ اسوہ حسنہ دنیا میں اسلام کی دعوت وتبلیغ تعلیم وتدریس اور سفارتی نظام کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کے لیے رہنما اور مینار نور ہے۔ اقوام عالم کی مختلف زبانوں میں گفتگو اور تحریر و کتابت میں پوری مہارت ہونی چاہیے۔

ہندی اور گورمکھی زبانیں سیکھنی چاہئیں

جب اسوۂ حسنہ سے مختلف زبانیں سیکھنے کا حوالہ مل گیا ہے۔ تو صرف انگریزی سیکھنے کی جانب پوری توجہ مبذول نہیں ہونی چاہئے، جبکہ پاکستان کے مختلف اداروں کی طرف سے چینی، فرانسیسی اور جرمن زبانیں سکھلانے کا عملاً اقدم بھی کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمسایہ ملک ہندوستان میں رائج ہندی، گجراتی اور دیگر زبانیں سیکھنے کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ ہندوستان میں کروڑوں مسلمانوں کے ساتھ رابطے کا یہ موثر اور مفید ذریعہ ہے۔ اس زبان سے محرومی بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بے وفائی ہے۔ ہندی اور بھارت میں دیگر مروجہ زبانیں سیکھنے سے ہمارا ہی فائدہ ہے۔ اس سے روگردانی اور عدم توجہ مسلمانوں کے مفاد میں نہیں بلکہ شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔ جس سے غفلت نہیں برتنی چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...