اورنج ٹرین۔۔۔ اہل لاہور کے لئے تحفہ

اورنج ٹرین۔۔۔ اہل لاہور کے لئے تحفہ

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اورنج لائن ٹرین منصوبہ مقررہ تاریخ پر مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ اورنج ٹرین اہل لاہور کے تحفہ ہے۔انہوں نے منصوبے کے ڈائریکٹر فضل سبطین کی تعریف کی اور کہا مجوزہ تاریخ تک منصوبہ مکمل کریں، مقررہ تاریخ پر کام مکمل نہ ہونے کو عدالتی حکم کی عدم تعمیل سمجھا جائے گا،اِس لئے منصوبے کے تمام سنگِ میل مقررہ تاریخ پر مکمل کئے جائیں،ہم بھی اورنج ٹرین کی گاڑی میں بیٹھیں گے،جس دن اورنج لائن بنے ہمیں بھی بتائیں، جس پر فضل سبطین نے کہا آپ کو سواری کی دعوت دی جائے گی۔اس موقع پر منصوبے کے ٹھیکیدار کے وکیل نے فاضل عدالت کو بتایا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کام کے پیسے نہیں ملتے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایل ڈی اے چیک سپریم کورٹ میں جمع کرا دے اور ٹھیکیدار بینک گارنٹی جمع کرا کے چیک لے سکتے ہیں۔ جناب چیف جسٹس نے اورنج ٹرین کے بارے میں ریمارکس منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیئے ۔

اورنج ٹرین منصوبہ اہلِ لاہور کے لئے واقعی ایک تحفہ ہے،لیکن جب سے یہ شروع ہوا ہے اس پر بُری نظر ڈالنے والوں کی بھی کمی نہیں رہی، بلکہ بقول شاعر صورت اس شعر سے ملتی جلتی ہے ’’ اچھی صورت بھی کیا بُری شے ہے، جس نے ڈالی بُری نظر ڈالی‘‘ ابھی منصوبے کے روٹ کا اعلان ہی ہوا تھا تو متوقع متاثرین اس کے خلاف احتجاج کرنے لگے، روٹ کے راستے میں جن لوگوں کی جائیدادیں گرانی پڑی تھیں نہ صرف اُنہیں مارکیٹ ریٹ سے ادائیگیاں کی گئیں،بلکہ دکانوں کے کرایہ داروں کو ’’تالیف قلب‘‘ کے لئے بھاری رقوم بھی دی گئیں، کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ موجودہ جگہوں پر تو اُن کا کاروبار چل رہا ہے، نئی جگہ معلوم نہیں چلے نہ چلے، پھر راستے میں بعض تاریخی مقامات بھی آتے تھے جن کے تحفظ کے دعویدار بھی ایکا ایکی جاگ گئے اور اُنہیں انتہائی بُری حالت میں اِن تاریخی مقامات کے تحفظ کا خیال آ گیا،حالانکہ اس معاملے میں اُن کی حساسیت اِس سے پہلے کبھی نہیں جاگی تھی۔

کچھ تاریخی مقامات تو واقعی ایسے تھے جن کے تحفظ کی بھی ضرورت تھی اور شاید اِس کا اہتمام بھی کیا گیا تھا کہ اُنہیں کوئی نقصان نہ پہنچے،لیکن بعض ’’تاریخی مقامات ‘‘صرف اورنج لائن کی وجہ سے ’’دریافت‘‘ ہوئے اِن میں ایک تاریخی مقام لکشمی مینشن ہے، جس کی وجہ سے میکلوڈ روڈ اور ایبٹ روڈ کا چوک لکشمی چوک کہلاتا ہے، یہ بلڈنگ ایک ہندو کی ملکیت تھی، جو قیام پاکستان کے وقت نقل مکانی کر گیا اور بلڈنگ متروکہ املا ک قرار دے کر کسی مہاجر کو الاٹ کر دی گئی،جس کے مختلف حصوں میں بطور کرایہ دار بہت سے لوگ رہائش پذیر تھے اور مرورِ ایام کے ہاتھوں اس عمارت کی حالت خراب ہو رہی تھی، یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ محکمہ آثارِ قدیمہ یا کسی اورمتعلقہ ادارے نے اس عمارت کو کبھی قومی ورثہ قرار دیا ہو، البتہ جب یہ محسوس کیا گیا کہ پرانی عمارتیں اپنی اصل حالت میں بحال رکھی جائیں تو اس کی ایلیویشن کو ضرور قائم رکھنے کی کوشش کی گئی،اس سے زیادہ اس عمارت کی کوئی تاریخی حیثیت نہ تھی، یہ معاملہ جب عدالتوں میں پہنچا تو لکشمی چوک سمیت گیارہ مقامات ایسے تھے جن کے قریب تعمیراتی کام روک دیا گیا اور بائیس ماہ تک رُکا رہا، جب عدالتی احکامات پر دوبارہ کام شروع ہوا تو فاضل عدالت نے بعض پابندیاں بھی عائد کر دیں جن کا مقصد تاریخی عمارتوں کی حفاظت تھا۔ دوبارہ کام شروع تو ہو گیا، لیکن جو وقت ضائع ہو چکا تھا اس کا ازالہ آسانی سے نہیں ہو سکتا تھا۔پھر بھی سابق حکومت نے تیز رفتاری سے کام شروع کرایا اور اورنج ٹرین کے مقامِ آغاز سے لے کر لکشمی چوک تک آزمائشی ٹرین چلا کر بھی دکھا دی۔

مئی میں نگران حکومتیں بنیں تو کام کی رفتار سست ہو گئی۔ 25جولائی 2018ء کے انتخابات کے بعد نئی حکومت میں بھی کام کی سست رفتاری جاری رہی اس منصوبے کے بارے میں پنجاب کی حکومت کے اپنے تحفظات ہیں سیاستدانوں اور وزراء کی بھی اپنی اپنی رائے ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ منصوبہ بہت مہنگا نظر آتا ہے لیکن ماس ٹرانزٹ ریل روڈ منصوبے پوری دنیا میں ہی مہنگے ہوتے ہیں اور وقت سے پہلے ان کے متعلق سوچنا پڑتا ہے تاخیر کی وجہ سے بھی اس کی لاگت بڑھی ہے اور اگر یہ منصوبہ آج سے پانچ دس سال بعد بنے تو لاگت دوگنا تِگنا ہو جائے گی۔ ویسے بھی اس منصوبے کی مخالفت میں سیاسی رنگ شروع ہی سے غالب رہا ’’کریڈٹ‘‘ کا معاملہ بھی تھا جوبہت سی نگاہوں میں کھٹکتا تھا، لیکن یہ منصوبہ اپنی نوعیت کے حساب سے اتنا فائدہ مند تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی پشاور میں اس سے ملتا جلتا منصوبہ شروع کر دیا اس فرق کے ساتھ کہ اس کا ٹریک زمین کے اوپر ہے ایلیوٹیڈ نہیں ہے۔ ویسے یہ سوال تو بنتا ہے کہ اگر اورنج لائن منصوبہ اتنا ہی مہنگا غیر ضروری اور بے وقت تھا تو پشاور میں اس کی بھونڈی نقالی کی کیا ضرورت تھی؟

آج بھی پنجاب کے سینئر وزیر یہ فرما رہے ہیں کہ حکومت منصوبے کو رواں رکھنے کے لئے 120 ارب سالانہ کی سبسڈی نہیں دے سکتی اس لئے اس کے تمام سٹیشن کمرشلائز کئے جائیں گے لیکن انہیں ساتھ ہی یہ بھی بتانا چاہئے کہ ان کی حکومت کے پاس دو کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں ان لوگوں کی آمد و رفت کے لئے جن کے پاس اپنی گاڑیاں نہیں ہیں کوئی متبادل منصوبہ بھی ہے؟ اورنج ٹرین جس روٹ پر چلے گی کوئی وی آئی پی اپنی حفاظتی گارد کے بغیر اپنی نجی لگژری گاڑی میں اس روٹ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر شروع کرے اور ٹریفک کہیں بھی پھنسی ہوئی نہ ہو تو اسے یہ فاصلہ طے کرتے ہوئے ڈیڑھ دو گھنٹے لگ جائیں گے۔ لیکن اگر راستے میں کہیں کہیں ٹریفک جام ملے جو آج کل معمول بن چکا ہے۔ تو زیادہ وقت بھی صرف ہو سکتا ہے جبکہ اورنج لائن یہ فیصلہ صرف 45 منٹ میں طے کرے گی۔ اس ایک مثال سے اس منصوبے کی افادیت سامنے آ جاتی ہے اور اگر یہ مکمل ہو کر چل پڑا تو لوگ اس کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے خود بھی کرلیں گے وزیر صاحب کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کیا کسی بھی دوسرے طریقے سے واڑہ گجراں سے ٹھوکر تک 45 منٹ میں پہنچنا ممکن ہے۔اِلاّ یہ کہ آپ کے پاس 55روپے کلو میٹر کے خرچ سے چلنے والا ہیلی کاپٹر ہو، جوظاہر ہے کسی کو بھی میسر نہیں ہو سکتا۔

جناب چیف جسٹس کا یہ اہل لاہور پر خصوصی احسان ہے کہ انہوں نے اورنج لائن منصوبہ وقت مقررہ پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور نہ صرف لاہوریوں کے لئے تحفہ قرار دیا ہے بلکہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ خود بھی اس میں سفر کرنا چاہیں گے اس لئے حکومت کو نہ چاہتے ہوئے بھی یہ منصوبہ مکمل تو کرنا پڑے گا اور جب اس روٹ پر آمد و رفت شروع ہو گی تو پھر اندازہ ہوگا کہ جن لوگوں نے یہ منصوبہ سوچا اور اس پر کام کا آغاز کیا وہ قبل از وقت سوچنے کی صلاحیت رکھتے تھے کیونکہ جدید دور میں اگلے پچاس برسوں کی منصوبہ بندی آج ہی کرنا پڑتی ہے لاہور میں ٹریفک کا جو حال ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ جو ’’گھڑ مس‘‘ بڑھتا جا رہا ہے اس کا اندازہ تو لوگوں کو بخوبی ہے لیکن جن وی آئی پیز کے ساتھ ’’ہٹو بچو‘‘ کی صدائیں لگانے والی گاڑیاں اور ان کا سٹاف چلتا ہے انہیں شاید اس کی افادیت کا اندازہ نہیں بڑے منصوبوں پر اخراجات تو اٹھتے ہیں لیکن ان کے فائدوں، وقت اور پٹرول کی بچت کے مقابلے میں یہ رقم کوئی معنی نہیں رکھتی، ویسے جو بھی منصوبے اب تک مکمل ہوئے ہیں وہ بھی جب شروع ہوئے تھے تو ان کی بھی اورنج ٹرین اور میٹرو بس سروس کی طرح مخالفت ہوئی تھی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ منصوبے بہت بروقت شروع کئے گئے اور ضرورت کے عین مطابق تھے۔ ڈیم بنانے میں تاخیر کا جو خمیازہ ہم اب بھگت رہے ہیں مواصلات کے یہ منصوبے بھی شروع نہ ہوتے تو ہم اس شعبے میں بھی ایسی ہی صورت حال سے دو چار ہوتے جیسے ڈیم کے معاملے میں ہوئے یہاں تک کہ سپریم کورٹ کو خود ڈیم بنانے کے لئے آگے آنا پڑا اور اس کے لئے عطیات کی تحریک بھی چلانی پڑی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...