مائنس، پلس، کون اور کہاں، ہوا؟

مائنس، پلس، کون اور کہاں، ہوا؟
مائنس، پلس، کون اور کہاں، ہوا؟

  


یہ جو جمع تفریق یا مائنس پلس کا کھیل ہے یہ آج سے نہیں دیر سے شروع ہے اور دلچسپ امر یہی ہے کہ کبھی پلس والے مائنس نظر آتے تو پھر مائنس والے پلس ہو گئے جبکہ سیاست اسی ڈگر پر چلتی چلی جا رہی ہے۔ ماضی کی طرف لوٹیں تو جب مالی بددیانتی نہیں تھی تو سیاسی جوڑ توڑ ہوتا تھا، قومی اسمبلی میں آئے روز وفاداریاں تبدیل ہوتیں اور وزراء اعظم ہی بدلتے رہتے تھے۔

حتیٰ کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وہ یادگار دن بھی ہے، جب راتوں رات ری پبلیکن کے نام سے نئی جماعت کھڑی ہوئی اور اگلے روز ڈاکٹر خان وزیراعلیٰ تھے۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ پہلے مارشل لاء یا (فوجی آمریت) سے جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور تک احتساب کا نعرہ لگا اور سیاسی حضرات نااہل ہوئے۔ نظر بند اور قید ہوئے ۔

اس کے باوجود وہی سب لوگ پھر سے اقتدار میں آتے رہے، قوم کو یاد ہے کہ خصوصی طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف نے احتساب کا نعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ احتساب آرڈی ننس کے ذریعے قومی احتساب بیورو بھی بنا دیا کہ سب کا حساب لیا جائے۔ ہمیں یاد ہے کہ ابتداء میں بعض بڑے سرمایہ داروں کو بھی حراست میں لے کر تھانوں میں بند کیا گیا کہ قومی خزانے میں دولت لوٹا دو اور باہر آ جاؤ۔

لاہور کینٹ کے ایک تھانے میں ایک بڑے صنعتکار کو بند کیا گیا، وہ وہاں بنچ پر لیٹ گئے اور کہا جب تک چاہے رکھ لو، کچھ کیا نہیں تو دیں گے، کہاں سے ؟ چنانچہ یہ بھی نہ چلا، شریف خاندان کو جلاوطن کیا گیا۔ شرائط عائد کی گئیں، وہ پھر بھی واپس آئے اور یہاں دوبارہ اقتدار ملا،بے نظیر بھٹو بھی ملک سے باہر رہیں، تاہم وہ واپس آئیں، اور ایسا دوبار ہوا۔

دور ضیاء الحق میں بھی جلاوطنی گزاری اور 1986ء میں سول حکومت (دور جمہوریت مگر عبوری) کے دوران واپس آئیں اور وزیراعظم بنیں۔ نوازشریف بھی گئے اور آئے اور تین بار وزیراعظم ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر پہنچا کر مائنس کیا گیا لیکن ان کی نیا بت ختم نہ ہو پائی اور آج بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شریف (دونوں بھائی) مائنس ہوں گے اور دوسری طرف آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا بھی یہی مقدر ہے۔

یہ ممکن ہے لیکن مسئلہ تو وہ جماعتیں ہیں، جو آج موجود ہیں تو کل بھی ہوں گی اور یہ حضرات اہل نہ رہے تو ان کے جانشین اور بھی ہیں، آج نوازشریف ، شہبازشریف اور مریم نواز کو عملی سیاسی دوڑ سے باہر کر دیں، ان کی جماعت موجود ہے اور اب سابقہ دور والی بات بھی نہیں۔ اسی طرح آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے ساتھ کوشش کرکے بلاول کو بھی مائنس کر دیں تو پھر بھی یہ جماعت ختم نہیں ہو گی اور وہاں آصفہ موجود ہوں گی جبکہ شریف خاندان میں حمزہ اور ان کے بھائی بھی ہیں۔ یوں شخصیت کی حد تک آپ کامیاب بھی ہوتے ہیں تو خاندان باہر نہیں نکالے جا سکتے ۔

آج کل زیادہ شور آصف علی زرداری کے حوالے سے ہے۔ اس میں یہاں تک ہوا کہ جے آئی ٹی کا سربراہ چن کر لگایا گیا۔ پیپلزپارٹی نے ان پر عدم اعتماد کیا۔ سنی نہ گئی اور پھر جو رپورٹ انہوں نے بنائی اور سپریم کورٹ میں پیش کی وہ تو کھل گئی عدالت نے اسے دیکھا بھی نہیں تھا کہ بازار میں آ گئی اور دلچسپی رکھنے والوں نے حاصل بھی کی۔ عدالت عظمیٰ نے تعجب کا اظہار کیا کہ رپورٹ کیسے لیک ہو کر نشر اور شائع ہو گئی اور پھر اس پر تبصرے اور تجزیئے بھی شروع ہو گئے۔

جواب تک جاری ہیں اور بڑی بڑی دلچسپ باتیں کی جا رہی ہیں، اسی رپورٹ کی بناء پر یک طرفہ تجزیئے اور تنقید بھی جاری ہے بلکہ سرکار معظم کے اپنے وزیربھی اس میں شامل ہیں اور الزامات لگاتے چلے جا رہے ہیں دوسری طرف سے واضح کیا جاتا ہے ،یہ رپورٹ ہے، صحیفہ آسمانی نہیں کہ تبدیل نہ کیا جا سکے۔

اب ذرا وزراء کا رویہ دیکھ لیں کہ وہ کس طرح سیاسی فتویٰ گری میں مصروف ہیں اور ہر روز حتمی بات کہہ دیتے ہیں کہ فلاں اندر جائے گا اور فلاں باہر رہے گا، حالانکہ ان حضرات کے سامنے بے شمار ریاستی اور سیاسی کام پڑے ہوئے ہیں، اس صورت حال میں ماحول مکدّر ہو چکا اور کسی ٹھوس عمل کے بغیر بات بھی آگے نہیں بڑھ رہی حالانکہ ملک کوسیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے، بہتر ہو گا کہ عدالتی کارروائی اور عدالتی فیصلوں کا انتظار کیا جائے جو جس کے مقدر میں ہو گا اسے مل جائے گا۔

ان حالات میں جو سیاسی عدم استحکام پیدا ہو چکا ہے اس کی وجہ سے معیشت بھی نہیں سنبھل پا رہی۔ بہتر ہو گا کہ ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ افہام و تفہیم کی بجائے قومی سطح پر سیز فائر کرکے احتساب کا عمل جاری رہنے دیں، تاکہ کسی ایک کی تکذیب کرتے کرتے نظام ہی کے لئے نقصان دہ نہ ثابت ہوں۔کیا یہ ممکن نہیں کہ احتساب کے عمل کو موجودہ سیاست سے الگ کر دیا جائے اور جن کے خلاف ریفرنس ہیں وہ عدالتوں کا تحمل سے سامنا کریں اور ان کے جو مقدر میں ہے اسے سمیٹیں، اسی طرح حکمران اپنے فلاحی ایجنڈے پر کام کرتے رہیں اور ’’ریاست مدینہ‘‘ قائم کرکے بھی دکھائیں تاکہ استحکام متاثر نہ ہے۔

اس وقت ہم ایک نازک موڑ پر ہیں اور ہمیں یکسوئی کی ضرورت ہے۔ براہ کرم! ہوش کے ناخن لیں اور جو کام کرنا ہو وہ کریں اور 1973ء کے آئین کی روح کے مطابق ملک کو چلنے دیں اور مائنس، پلس والے حضرات بھی مہربانی فرمائیں، تاکہ سیاسی استحکام پیدا ہو، عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...