منی بجٹ حکومت

منی بجٹ حکومت
منی بجٹ حکومت

  


جولائی کی 25 تاریخ کو الیکشن کے موقع پر کسے اندازہ تھا کہ عنقریب ایک ’منی بجٹ حکومت‘ مسلط ہونے جا رہی ہے،جو ہر دوسرے تیسرے مہینے منی بجٹوں کے ذریعے قوم کو مہنگائی کے پاٹوں میں پیسے گی۔ پی ٹی آئی حکومت کے پانچویں مہینے میں’منی بجٹ وزیر خزانہ، اپنا دوسرا منی بجٹ پیش کریں گے اور ڈیڑھ سے دو کھرب روپے کے نئے ٹیکس عوام پر لادے جائیں گے۔

یہ فنانس ترمیمی بل 2019ء ہو گا، اس سے پہلے اکتوبر میں انہوں نے فنانس ترمیمی بل 2018ء پیش کیا تھا۔اس ’نیک کام ‘کی تکمیل کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس 14جنوری کو طلب کیا جا چکا ہے،جس کے دوران17 یا 18 جنوری کو منی بجٹ کی منظوری کا امکان ہے۔

اس فنانس بل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بھی نہیں بھیجا جا سکے گا کیونکہ تقریباً پانچ ماہ گزرنے کے باوجود بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں ابھی تک تشکیل نہیں پا سکی ہیں، حالانکہ آئین کے مطابق ان کمیٹیوں کو اسمبلی قائم ہونے کے ایک ماہ کے اندر بنانا ضروری ہوتا ہے۔ پارلیمانی محاذ پر یہ پی ٹی آئی حکومت کی ایک بڑی ناکامی ہے۔

عمران خان کی مخلوط حکومت کے پاس قانون سازی کے لئے سینیٹ میں مطلوبہ اکثریت موجود نہیں ہے اِس لئے ان پانچ مہینوں میں اور کوئی قانون سازی تو ہوئی نہیں۔ البتہ دوسرا فنانس ترمیمی بل ہی منظور کیا جا سکے گا، کیونکہ فنانس بل سینیٹ میں نہیں بھیجا جاتا۔

اگرچہ اس فنانس ترمیمی بل (منی بجٹ) کی سینیٹ سے منظوری درکار نہیں ہو گی، لیکن آئین کے آرٹیکل 73(1) کے تحت سینیٹ دو ہفتوں کے اندر تجاویزات دینے کا پابند ہے اور یہ مرحلہ حکومت پہلے ہی شروع کر چکی ہے تاکہ کسی تاخیر کے بغیر منی بجٹ کو منظور کرا لیا جائے۔ پی ٹی آئی حکومت کی مجبوری یہ ہے کہ اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے صدارتی آرڈی ننسوں اور فنانس بلوں کے علاوہ کوئی اور قانون سازی حکومت کے لئے اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک وہ اپوزیشن کو ساتھ نہ لے کر چلے، لیکن ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کی ضد کے ہوتے ہوئے ایسا ہونا عملی طور پر نا ممکن نظر آتا ہے۔

اگر پی ٹی آئی حکومت قائم رہتی ہے تو کم از کم اگلے ڈھائی سال بھی ایسے ہی چلے گی جیسے پچھلے ساڑھے چار مہینوں سے چل رہی ہے۔ مارچ 2021ء میں سینیٹ کے الیکشن کے بعد کوئی تبدیلی ہوئی تو ہو گئی، ورنہ سیاسی اور حکومتی معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے۔

وزیر خزانہ کو منی بجٹ اس لئے بھی لانا پڑ رہا ہے کہ آخری سہہ ماہی میں حکومت کے ریونیو میں 170 ارب روپے کا شارٹ فال آیا ہے اور اب وہ اپنی اس ناکامی کا مداوا عوام کی جیبوں سے 170 ارب نئے ٹیکسوں کی صورت میں نکال کر کرنا چاہتی ہے۔

مُلک میں کاروبار کا پہلے ہی بھٹہ بیٹھا ہوا ہے، اس منی بجٹ کے بعد مزید بھٹہ جائے گا، کیونکہ اتنے بھاری نئے ٹیکسوں کا بوجھ عوام کے لئے بہت حد تک ناقابلِ برداشت ہو گا۔ عذر یہ پیش کیا جائے گا کہ حکومت برآمدات بڑھانے کے لئے یہ اقدامات کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ درآمدی خام مال پر کسٹم ڈیوٹیاں کم کرکے دوسری چیزوں پر بڑھا دی جائیں تاکہ پیداواری لاگت میں کمی آئے ۔ اسی طرح zero rating والے پانچوں سیکٹروں کی مقامی فروخت پر سیلز ٹیکس بڑھا دئیے جائیں گے، جس کا تمام ناروا بوجھ پہلے ہی مہنگائی میں بری طرح پسے ہوئے عوام پر پڑے گا۔

منی بجٹ وزیر خزانہ ڈیڑھ پونے دو ارب کے نئے ٹیکس برآمدات میں اضافے کا لالی پاپ دے کر لگائیں گے اور بیس بائیس کروڑ عوام یہ لالی پاپ چوسنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے کہ جب تک حکومت موجود ہے وہ اس کے تمام ناروا اقدامات کو سہتے رہیں۔

ورلڈ بینک نے 2019ء کی سالانہ رپورٹ 9 جنوری کو جاری کی ہے، جس میں پاکستان کی معیشت کے بارے میں زیادہ اچھی تصویر نظر نہیں آتی ہے۔ یہ264 صفحات پر مشتمل بہت جامع رپورٹ "Global Economic Prospects, Darkening Skies" کے نام سے ہے جس میں موجودہ سال کے لئے پوری دنیا کی اقتصادی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

جیسا نام سے ظاہر ہے کہ شروع ہونے والے سال 2019ء کے دوران دُنیا کی معیشت پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں۔ اس میں پاکستان سے متعلق بنیادی تجزیہ یہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح (ورلڈ بینک کے مطابق) 3.7 فیصد رہے گی جو اس کے پچھلے اندازے سے بہت کم ہے جو دو ماہ قبل اکتوبر 2018ء کی رپورٹ میں لگایا گیا تھا۔ پچھلے دو ماہ میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی دنیا بھر کے تمام اندازوں سے زیادہ مایوس کن رہی ہے۔

اِس لئے ورلڈ بینک نے بھی دو ماہ قبل کے اندازے پر نظرثانی کرکے اسے 4.8 فیصد سے 3.7 فیصد کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بھی تین ماہ پہلے کے اندازوں پر نظر ثانی کی ہے اور پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح میں پچھلے اندازوں سے بہت کم ترقی کی پیش گوئی کی ہے۔

اسی طرح دوسرے کئی اورعالمی مالیاتی اداروں کا تخمینہ اس سے بھی کم ہے اور وہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح کو رواں سال 3فیصد کے لگ بھگ دیکھ رہے ہیں۔ اقتصادی ترقی کی شرح آدھی رہ جانے کا خمیازہ اب عوام کو بھگتنا پڑے گا، کیونکہ حکومت منی بجٹ پر منی بجٹ لاکر نئے نئے ٹیکس لگاتی رہے گی۔

لوگوں کا حافظہ چونکہ کمزور ہے اس لئے ایک دفعہ اور یاد دلانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ مسلم لیگ نواز دور میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح نہ صرف 5.8 فیصد برقرار تھی،بلکہ 2019ء میں اس کے 6.2 فیصد یا اس سے بھی اوپر جانے کی پیش گوئیاں دُنیا کے تمام مالیاتی ادارے اپنی رپورٹون میں کر چکے تھے۔

اگر پاکستان کی تین یا ساڑھے تین فیصد کا موازنہ پڑوسیوں سے کیا جائے تو پاکستانی حکومت کے لئے یہ شرمندگی کا مقام ہے کہ 2019ء میں بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح 7.3 فیصد اور بنگلہ دیش کی 7.1 فیصد رہے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے عوام اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ وہاں کسی نے انہیں تبدیلی کے نام پر جھانسہ نہیں دیا اور نہ ہی کسی نے نئے بھارت یا نئے بنگلہ دیش کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنایا۔

یہ پاکستانی عوام کی قسمت ہی ہیں لکھا تھا اور اب وہ اس تبدیلی کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے اگلے ہی دن 10جنوری کو انٹرنیشنل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے رپورٹ جاری کی ہے کہ پاکستان کے پاس اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کے لئے رقم نہیں ہے۔ یہ بہت تشویشناک بات ہے، کیونکہ اس طرح پاکستان کی پہلے سے گرتی ہوئی کریڈٹ ریٹنگ مزید نیچے گر جائے گی، جس کے بعد قرضوں کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔ چین نے جولائی میں ہمیں امداد کے طور پر ایک ارب ڈالر دئیے تھے جو کب کے خرچ ہو چکے۔

اسی طرح سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کا جو قرضہ آنا تھا اس میں سے ایک ایک ارب ڈالر کی دو اقساط آکر خرچ بھی ہو چکی ہیں اور اب تیسرے ارب ڈالر کی قسط کا انتظار ہے۔ یہ والا ایک ارب ڈالر اور اگر متحدہ عرب امارات سے بھی کچھ امداد ملتی ہے تو وہ بھی چند ہفتوں یا مہینوں میں خرچ ہو جائے گی ۔

اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات یا کوئی اور ملک ہمیں پیسے دیتے رہیں، جو کچھ ملنا ملانا تھا وہ ہضم ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں موڈیز اور دوسری کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں پاکستان کی ریٹنگ کم نہ کریں تو اور کیا کریں اور وہ کر بھی رہی ہیں جیسا کہ موڈیز اور فچ کر چکی ہیں اور پاکستان کی ریٹنگ پہلے ہی منفی میں جا چکی ہے۔

موڈیز نے زرمبادلہ کے موجود ذخائر پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جو موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سے لگا تار کم ہو رہا ہے اور اب خطرناک حدوں سے بھی نیچے گر چکے ہیں۔ پاکستان کے پاس اس وقت جو زرمبادلہ کے ذخائر ہیں وہ اس رقم سے کم ہیں جو پاکستان نے قرضوں کی واپسی کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔

اپنی تازہ ترین رپورٹ میں موڈیز نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم ہو چکے ہیں کہ وہ دو ماہ کے درآمدی بلوں کو پوراکرنے کے لئے بھی کافی نہیں ہیں۔ فی الحال منی بجٹ حکومت کے منی بجٹ وزیر خزانہ کی طرف سے ڈیڑھ دو کھرب کے نئے ٹیکسوں کا استقبال کیجئے، افاقہ نہ ہو تو انڈے، مرغیاں اور بچھڑے پال کر گذارہ کرنے کی کوشش کیجئے کہ نئے پاکستان کی معاشی پالیسیاں یہی ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...