اے میرے پیارے پاکستانیو؟

اے میرے پیارے پاکستانیو؟
اے میرے پیارے پاکستانیو؟

  

پاکستان، جسے اپنی سلامتی کے لالے پڑے ہوئے ہیں،دُنیا کے نقشے پر ایک منفرد عزم اور عجب شان سے نمودار ہوا تھا۔ صحیح یا غلط،اسے مدینہ منورہ کی جانشین ریاست کے طور پر بھی دیکھا جاتا رہا ہے۔ قائدعظمؒ نے علیحدہ وطن کی تشکیل کے سفر میں اسلام کو بطور حوالہ استعمال کیا تھا، یا نہیں۔ امر حقیقت مگر یہ ہے کہ جمہورِ مسلمانوں نے تحریک آزادی کو کُفر و دین کا ہی معرکہ سمجھا۔

اِس لئے اصولاً دیکھا جائے گا کہ قوم کی آدرش کیا تھی؟ اور ان کی بے بہا قربانیوں کا جذبۂ محرک کیا؟ خُدا نخواستہ اس مرکزی نکتے کو نظر انداز کر دیا جائے تو فکراً و نظراً کچھ بھی باقی نہیں بچتا!

مملکتِ خداداد پاکستان کو بہت آگے اور اوپر جانا تھا،جس کی اس کے خمیر و فطرت میں کافی سے زیادہ گنجائش موجود پائی گئی ہے،لیکن پھر کیا ہوا کہ یہ پیچھے ہٹتا اور نیچے گرتا گیا۔سب کچھ اس کے سیاسی و غیر سیاسی حکمرانوں کا کیا دھرا ہے، جو اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے ’’شاہدولہ کے چوہے‘‘ کہے جا سکتے ہیں۔

بابائے قوم سے قطع نظر مسکراتی آنکھوں والے ایک خوبصورت شخص کو اِس فہرست سے نکال کر دیکھا جائے تو باقی کیا رہ جائے گا؟ نام کا سکندر، ایوب کو عیوب، رانی کی کہانی؟ جونیجو کی شرافت، بے نظیر زرداری، جنرل پرویز مشرف کی آنیاں جانیاں، ایک ’’زرداری سب پر بھاری‘‘ اور بھی متعدد نام گنوائے جا سکتے ہیں۔ ان کا لیکن کوئی نام نہیں۔ بس ایک ذرا جمع و تفریق کے کام آ جاتے ہیں۔

کئی حکمران محض ’’کرسیوں‘‘ کی دیمک تھے، جو پورا مُلک کھا گئے۔ اس سے بھی بڑا ظلم،بلکہ جرم یہ ہے کہ انہوں نے قوم کی آدھی سے زیادہ صدی چاٹ لی۔ دُنیا جب آگے بڑھ رہی تھی، وطنِ عزیز پیچھے ہٹ رہا تھا۔ مُلک کا سب کچھ لے لیا اور عوظانہ میں لاقانونیت، دہشت گردی، لوٹ کھسوٹ، تباہی اور بدکرداری کے سوا دیا کچھ بھی نہیں۔ پاکستان میں ایسے ویسے حکمران آتے رہے ہیں کہ ادارے کمزور سے کمزور تر اور افراد مضبوط سے مضبوط ترین ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ ہر ایک مثبت جذبہ رخصت ہوا۔

ستم بالائے ستم، جن لوگوں کا فرض آئینہ دکھانا تھا، وہ بے خطر میراثی بن گئے۔قصیدہ گو اور قصیدہ خوان! پلاٹس،ملازمین، دورے اور لفافے وصول پاتے رہے،جب اور جہاں رونا تھا،وہاں بھی مسکرایا کئے! اُف، پاکستان میں اتنا جھوٹ لکھا اور بولا جا چکا ہے کہ اس میں سے سچ کو کشید کرنا کارِ محال! اندھوں کے شہر میں کون، کیسے اور کس طرح آئینے بیچے گا، جس نے جتنا طومار مارا وہ اتنا ہی مادی طور پر منفعت میں رہا۔ پھر کیا ہوا؟ یار لوگوں میں ایک مقابلہ چل نکلا۔ مقابلۂ ستائش!دینوی سطح پر آج جو جتنا خوشحال ہے، و ہ درحقیقت اتنا ہی زیادہ دروغ گو اور کذب باز کہا جا سکتا ہے!

اے میرے پیارے پاکستانیو! پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ تھی۔

ملک اندر سے بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے،اخلاقی اقدار کا جنازہ نہایت دھوم سے اُٹھا۔ چور بھی چور چور کا شور مچائے پھرتے ہیں۔اپنے نیک نام حکمرانوں کے طفیل ایسے حالات و واقعات پیش آتے رہے ہیں کہ حب الوطنی بس نام کو رہ گئی ہے۔

انسانی اندازِ فِکرلُٹ اور اسلامی زاویۂ نگاہ لٹا گئے۔ فی الحال میرا عزیز مُلک کٹی پتنگ اور ایک یتیم بچے کی مانند ہے!مَیں نہیں چاہتا کہ مایوسی پھیلے، مگر مَیں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ سچائی کے بارے میں بے خبری نہ ہو۔ لازم ہے کہ ہم سب آگے بڑھیں اور اپنا اپنا حصہ ڈال کر وطن کو مزید تباہ ہونے سے بچا لیں،جو فی الوقت بچایا بھی جا سکتا ہے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

مزید : رائے /کالم