عدلیہ بھی شخصیات کے تابع ہے؟

عدلیہ بھی شخصیات کے تابع ہے؟
عدلیہ بھی شخصیات کے تابع ہے؟

  

ہماری سیاست تو شخصیات کی محتاج ہے ہی، کیا اب عدلیہ بھی شخصیات کے حوالے سے پہچانی جائے گی؟یہ سوال میرے ذہن میں اِس لئے کلبلا رہا ہے کہ آج کل چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ قریب آنے پر یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ پچھلے ایک ڈیڑھ برس میں سپریم کورٹ نے جو ایکٹو کردار ادا کیا، وہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا یا ادارے کی سطح پر چلتا رہے گا؟خود چیف جسٹس ثاقب نثار بھی ان دِنوں یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ کچھ لوگ اُن کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہے ہیں، مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب کسی کو مُلک میں بدمعاشی نہیں کرنے دی جائے گی۔

سوال یہ ہے کہ جب وہ چھ دن بعد جا رہے ہیں تو مستقبل کے حوالے سے بیان کیسے دے رہے ہیں،کیا اُنہیں یقین ہے کہ آنے والے چیف جسٹس بھی اس روایت کو برقرار رکھیں گے۔ کیا جوڈیشل ایکٹوازم کا جو دور چیف جسٹس ثاقب نثار نے متعارف کرایا،وہ اُن کے بعد بھی چلتا رہے گا؟ یہ سوال اِس لئے اُٹھ رہے ہیں کہ عدلیہ نے روایت سے ہٹ کر کام کئے ہیں، جو کام انتظامیہ کے تھے،وہ بھی چیف جسٹس نے اپنے ذمے لے لئے،بلکہ انتظامیہ کو سختی سے روک دیا کہ وہ ان میں مداخلت نہ کرے۔

عدلیہ اگر اپنے بنیادی کام کی طرف متوجہ رہے تو شاید کسی چیف جسٹس کے جانے سے یہ سوال نہ اُٹھے کہ اُن کے بعد کیا ہو گا،کیونکہ سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط تو واضح ہیں،اُس نے انہی کے تحت کام کرنا ہوتا ہے۔ صوابدیدی اختیارات کے تحت جو کام چیف جسٹس کی معرفت سپریم کورٹ اپنے ذمے لیتی ہے،وہ سوالیہ نشان بنتے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے اقدامات کے حوالے سے چونکہ عوامی توقعات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا تھا، اِس لئے اب توقعات پوری نہ ہونے کی باز گشت بھی جاری ہے عام تاثر یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار بھی اپنی تمام تر کوشش کے باوجود کوئی ایک بڑا کیس بھی اس طرح فیصلہ کر کے نہیں جا رہے جو عوامی اُمنگوں کے مطابق ہو۔ وہ کافی باتوں پر اُس تصور کے برعکس جا رہے ہیں، جو اُن کے ابتدائی اقدامات سے بن چکا ہے۔ یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ جو طاقتور ہیں، اُن کے لئے قانون بھی نرم ہو جاتا ہے اور جو کمزور ہیں اُن کی سرکار دہائی بھی نہیں سنتی۔ میرے کالم گواہ ہیں کہ مَیں نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی کارکردگی کو ہمیشہ سراہا، مگر اب جس طرح وہ اپنے ازخود نوٹس کیسوں کو نمٹا رہے ہیں،اُس سے لگتا ہے کہ وہ شاید اپنے بعد آنے والوں سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ ان ہائی پروفائل کیسوں کو اس طرح چلائیں گے،جس طرح وہ ان پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے جعلی اکاؤنٹس کیس اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے سخت موقف اختیار کر رکھا تھا۔

کسی کو نہ چھوڑنے کا اعلان کرتے تھے، مگر اب لگتا ہے انہوں نے اس معاملے میں مزید مداخلت کو غیر ضروری سمجھ لیا تھا، اس لئے کیس کو نیب کے سپرد کر دیا۔ اس کیس کے دوران کئی بار ایسے مقامات آئے جب لگتا تھا کہ چیف جسٹس کوئی بڑا فیصلہ کرنے والے ہیں، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور یہ بھی اب معمول کی کارروائی بن جائے گا۔

بس یہی وہ صورتِ حال ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سیاست دانوں کی طرح اعلیٰ عدلیہ کے جج بھی سسٹم کے تحت چلنے کی بجائے اپنی صوابدید پر چلتے ہیں اور جب ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آ جاتا ہے تو انہیں یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ جو مقدمات انہوں نے از خود ڈھونڈے ہیں،انہیں ختم کر کے رخصت ہوں،کیونکہ بعد میں ان کی طرف کسی نے دیکھنا بھی نہیں ماتحت عدلیہ میں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی دیوانی مقدمے کے دوران دس بارہ جج بدل جاتے ہیں، مگر مقدمے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا،وہ اسی طرح کچھوے کی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔ مدعی اور مدعا علیہ دونوں کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ جج بدلنے سے مقدمہ ختم ہو جائے گا یا فیصلے میں کسی قسم کی ڈنڈی ماری جائے گی، لیکن سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور اب میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کو اپنی شخصیت کے رنگ میں رنگ لیا۔ اس سے ان کی شہرت میں تو اضافہ ہوا، لیکن عوام کو کوئی بڑا ریلیف نہیں مل سکا۔

بڑا ریلیف تو صرف اس صورت میں مل سکتا ہے، جب نظام کو درست کر دیا جائے۔ جب عدلیہ بروقت فیصلے کرنے لگے۔ جب نچلی عدلیہ کی کمزوری عوام کو ان کے حق سے محروم کرنے کا ذریعہ نہ بنے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس فرخ احسان کے خلاف جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران خود یہ ریمارکس دیئے کہ ہائی کورٹ کا جج کتنے پانی میں ہوتا ہے، ہم سب جانتے ہیں، سو معاملہ عدلیہ کا نہیں چیف جسٹس کی شخصیت کا ہے۔جو بھی چیف جسٹس آئے گا،عدالت عظمیٰ اس کی شخصیت کا پر تو بن جائے گی۔

اس کی سادہ سی مثال جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان کے ادوار سے دی جا سکتی ہے۔ آج کسی کو معلوم بھی نہیں کہ جسٹس انور ظہیر جمالی کا دور بھی آیا تھا اور تصدق حسین جیلانی بھی چیف جسٹس بنے تھے یا جسٹس ناصر نے بھی چیف کی حیثیت سے کام کیا تھا۔

وہ سب خود کو عدالتی امور تک محدود رکھ کر وقت گزار گئے،عدالتی نظام اسی طرح چلتا رہا۔ ہلچل چیف جسٹس ثاقب نثار کے آنے سے پیدا ہوئی۔ آغاز میں تو انہوں نے بھی معمول کے مطابق کام کیا، لیکن جلد ہی آئین کی شق 184 کو اپنا سب سے بڑا فوکس بنا کر پورا مُلک اپنے سحر میں مبتلا کر لیا۔ ہر دوسرا مظلوم اپنے خلاف ہونے والے ظلم پر چیف جسٹس کو پکارنے لگا۔ اتنے میں پاناما کیس آ گیا۔ اس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے انتہائی سرگرم کردار اپنا لیا۔

سپریم کورٹ کے باہر نوازشریف کے حامی وزراء اور دیگر پارٹی رہنما تنقید کرتے تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاتی۔چیف جسٹس عدالت میں بلا کر اُن کی سرزنش بھی کرتے۔ پھر جب نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا،تو میاں ثاقب نثار جرأت و ہمت کا پیکر بن کر اُبھرے۔ اس کے بعد انہوں نے بریک نہیں لگائی، سب نے دیکھا کہ انہوں نے صحیح معنوں میں پاکستان پر حکمرانی کی، وہ بار بار یہ کہنے لگے کہ اس ملک میں ہو گا وہی جو ہم کہیں گے اور ایسا انہوں نے کر کے بھی دکھایا۔اب سوال یہی ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ کے بعد کیا سپریم کورٹ کا بیانیہ یہی رہے گا کہ اس ملک میں ہو گا وہی جو ہم چاہیں گے یا بدل جائے گا؟ ساری نظریں جسٹس آصف سعید کھوسہ پر لگی ہوئی ہیں،جو 18جنوری کو حلف اٹھائیں گے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نمایاں ہونے کے شوقین نہیں، بلکہ کام کے ذریعے شناخت پر یقین رکھتے ہیں، تو ان کے آنے سے سپریم کورٹ کا موجودہ بلند آہنگ کردار بھی تبدیل ہو جائے گا۔

حکومت تبدیل ہوتی ہے اور ایک کی بجائے کوئی دوسری جماعت حکمرانی کا آغاز کرتی ہے تو بہت کچھ بدل دیتی ہے۔ مثلاً آج کی حکومتوں کو دیکھ کر بآسانی شریف برادران کی حکومتوں کو یاد کیا جا سکتا ہے۔

اُن کے طرزِ حکمرانی اور آج کے طرزِ حکمرانی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ گویا سیاسی جماعتیں بھی شخصیات کی شناخت سے پہچانی جاتی ہیں اور حکومتیں بھی، تاہم اب اس میں ایک اور اضافہ کر لیا جائے کہ عدلیہ بھی اب اپنے چیف جسٹس کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔چیف جسٹس کی عوامی پہچان تب ہی بنتی ہے، جب وہ عدالتی امور سے نکل کر عوامی مسائل پر توجہ دیتے ہیں۔

کسی ہسپتال کا دورہ کیا اور دو چار کی سرزنش کر کے شہ سرخیاں بنوا لیں، کسی خاص مسئلے کا از خود نوٹس لیا اور پوری حکومتی مشینری کو بُلا کر جواب طلبی کی۔ کسی ظالم اور طاقتور شخص کو طلب کیا اور اُسے قوم سے معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔

ایسے کاموں کی وجہ سے چیف جسٹس ایک نجات دہندہ کے طور پر اُبھرتے ہیں، مگر یہ سب کچھ اُن کے جاتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اصل کام تو یہ ہے کہ نظام کو مضبوط بنایا جائے، لوگوں کو خود کار طریقہ سے ریلیف ملے۔ اب میاں ثاقب نثار رخصت ہو رہے ہیں تو اُن کے ساتھ ہی یہ بلند بانگ اندازِ منصفی بھی رخصت ہو جائے گا۔

مزید : رائے /کالم