تفہیمِ اقبال: فردوس میں ایک مکالمہ

تفہیمِ اقبال: فردوس میں ایک مکالمہ
تفہیمِ اقبال: فردوس میں ایک مکالمہ

  

شکوہ، جوابِ شکوہ کی تفہیم کے بعد بوجوہ یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔دریں اثناء قارئین نے اس طرف توجہ دلائی کہ اس کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے توسط سے ہفتے میں ایک بار تو اقبال شناسی کا موقع مل جاتا تھا۔۔۔ چنانچہ یہ سلسلہ دوبارہ آغاز کرتا ہوں۔

زیرِ نظر نظم اقبال کے پہلے اردو مجموعہ ء کلام بانگِ درا کے حصہ ء سوم سے لی گئی ہے۔

اس میں 13اشعار ہیں اور یہ شیخ سعدی شیرازی کے ایک شعر کی تضمین ہے۔ تضمین اس نظم کو کہتے ہیں جو کسی مشہور شاعر کے کسی مشہور شعر سے ماخوذ ہو۔ شاعر اس شعرسے متاثر ہوتا ہے اور وہ دوسروں کو بھی اس تاثر میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ بانگِ درا کے اس تیسرے حصے میں یکے بعد دیگرے تین چھوٹی چھوٹی نظمیں ایسی ہیں جو تضمین ہیں اور جن کے عنوانات بالترتیب یہ ہیں۔۔۔ (1) تضمین برشعرِ صائب۔۔۔ (2) فردوس میں ایک مکالمہ ۔۔۔(3) تضمین برشعرِ مرزا بیدل۔

اس نظم (فردوس میں ایک مکالمہ) کی شرح لکھنے کی کوشش دو وجوہات کی بناء پر کی گئی ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ ان شعروں پر بالعموم بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ چونکہ اس نظم میں دو فارسی کے اشعار بھی ہیں اس لئے ان کا حوالہ دینے سے شائد تامل برتا جاتا رہا ہے۔

فارسی ویسے بھی رفتہ رفتہ ہماری اردو لغت سے فارغ ہوتی جا رہی ہے۔ اس نظم میں پہلا فارسی شعر اقبال کا ہے اور دوسرا شیخ سعدی کا ہے جس پر تضمین کی گئی ہے۔ اور یہ شعر واقعی لفظی اور معنوی اعتبارات سے اتنا کثیر الجہات ہے کہ اس پر مزید لکھنے کی ضرورت اقبال نے محسوس کی۔۔۔ اور دوسری وجہ یہ کہ اقبال نے جس موضوع کو ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے قارئین کے سامنے رکھا تھا، وہ آج بھی اسی طرح ’’تر و تازہ ‘‘ اور گویا (Un-touched) ہے۔

حیرانی اس بات کی ہے کہ اس موضوع کو اتنا عرصہ قبل مسلمانانِ برصغیر کے سامنے رکھا گیا تھا اور آج بھی وہ اسی ’’آب و تاب‘‘ سے لائقِ توجہ ہے۔ اقبال کی روح اپنی لحد میں بھی جن محرومیوں پر تڑپ تڑپ جاتی ہو گی ان میں ایک محرومی یہ بھی ہے جس پر قوم نے پاکستان بننے کے بعد بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ آج بھی پاکستانی مسلمان، مذہب سے اتنا ہی بیگانہ ہے جتنا ایک صدی پہلے تھا۔

اب اس نظم کے پہلے دو اشعار لیتے ہیں:

ہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز

حالی سے مخاطب ہوئے یوں سعدیء شیراز

اے آنکہ ز نورِ گہرِ نظر فلک تاب

دامن بہ چراغِ مہ و اختر زدہ ای باز

ہاتف غیبی فرشتے کو کہتے ہیں۔ یہ غیبی فرشتہ کسی سے بھی مخاطب ہو سکتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ہاتف کی زبانی ایک روز میں نے سنا کہ بہشت میں مولانا حالی سے شیخ سعدی فرما رہے تھے کہ اے حالی! تو نے اپنی درخشندہ نظموں سے چاند ستاروں پر اپنا دامن تو کھول دیا ہے۔۔۔برسبیلِ تذکرہ، بانگ درا کے حصہء سوم میں زیرِ تبصرہ نظم سے پہلے ایک اور نظم بھی ملتی ہے جس کا عنوان ہے:’’شبلی و حالی‘‘۔۔۔ اقبال اور حالی ایک اعتبار سے ہم عصر تھے۔

لیکن اقبال ابھی جواں سال ہی تھے اور حالی بہت بوڑھے اور نحیف ہو چکے تھے۔ ایک مشاعرے / مجلس میں اقبال نے حالی کی ایک نظم ان سے لے کر سٹیج پر سنائی تھی جس کا ایک مشہور شعر اسی مجلس میں اقبال نے حالی کے اشعار پڑھنے سے پہلے پڑھا تھا۔

میں دنیائے شعر کا نبی ہوں گویا

جاری ہے مرے لب پہ کلامِ حالی

اس کے تھوڑے عرصے بعد حالی کا انتقال ہو گیا تو اقبال نے ’’شبلی و حالی‘‘ والی نظم کہی جو حالی کا ایک مرثیہ ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے:

شبلی کو رو رہے تھے ابھی اہلِ گلستاں

حالی بھی ہو گیا سوئے فردوس رہ نورد

اس ماتمی نظم کا آخری شعر بھی فارسی میں ہے اور وہ بھی ایک طرح کی تضمین ہے۔فارسی کا یہ شعر بھی ان اشعار میں شمار ہوتا ہے جو فارسی شعری ادب میں زندۂ جاوید ہیں۔۔۔لگے ہاتھوں یہ شعر بھی دیکھ لیجئے۔ پہلے اس کا ترجمہ اور پھر فارسی متن ۔۔۔(شبلی اور حالی کی وفات کے بعد ’’اب کون ہو گا جو باغباں سے یہ پوچھے گا کہ بلبل نے کیا کہا، گُل نے کیا سنا اور بادِ صبا نے کیا کیا۔)

اکنوں کرا دماغ کہ پرسدز باغباں

بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صبا چہ کرد

بلبل، گلاب کے پھول کی عاشق ہے۔ اس کی خوشبو جب بلبل کو آتی ہے تو وہ اڑی اڑی باغ میں اپنے محبوب (گُل) کے پاس جا پہنچتی ہے۔ لیکن اس حدیثِ عشق و عاشقی میں صبا کا رول یہ ہے کہ وہ پھول کی خوشبو بلبل کی ناک تک پہنچاتی ہے۔

دوسرے معنوں میں وہ ایک معشوق کا پیغام اس کے عاشق تک پہنچانے کا وہ فریضہ انجام دیتی ہے جو قاصد اور پیامبر کا کام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب جبکہ حالی اور شبلی فوت ہو چکے ہیں۔ گل و بلبل اور صبا کے قصے کون نظم کیا کرے گا!نظم کے پہلے دو شعروں کے بعد تیسرا اور چوتھا شعر اردو میں ہے جبکہ اس کو سعدی کی زبان سے کہلوایا گیا ہے۔ سعدی تو ایک عرصے سے فردوس میں مقیم ہیں۔ حالی چونکہ فردوس میں نووارد ہے اس لئے سعدی اپنے پہلے فارسی شعر کے بعد جو سوال پوچھتے ہیں وہ اردو میں ہے اور درجِ ذیل ہے۔

کچھ کیفیتِ مسلمِ ہندی تو بیاں کر

وا ماندۂ منزل ہے کہ مصروفِ تگ و تاز

مذہب کی حرارت بھی ہے کہ کچھ اس کی رگوں میں؟

تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمی ء آواز

سعدی سوال کر رہے ہیں کہ آج کل ہندی مسلمان کی کیا حالت ہے؟ تلاشِ منزل میں تھک ہار کر بیٹھ گیا ہے یا مصروفِ جدوجہد ہے؟ اور دوسرا سوال یہ پوچھتے ہیں کہ مذہب کے ساتھ اس کا رشتہ کیا ہے؟ ہندی مسلمان تو سنا تھا کہ اسلام کا دلدادہ تھا اور اس کی گرمی ء آواز، آسمانی فضاؤں تک پہنچا کرتی تھی۔اب اس کا کیا حال ہے؟

اس سوال کا جواب حالی نے جو دیا ہے وہ یوں ہے:

ضرور پڑھیں: پولیس پر توجہ دیں

باتوں سے ہوا شیخ کی حالی متاثر

رو رو کے لگا کہنے کہ: ’’اے صاحبِ اعجاز!

جب پیر فلک نے ورق ایام کا الٹا

آئی یہ صدا، پاؤ گے تعلیم سے اعزاز

آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل

دنیا تو ملی نہیں ہے، طائرِ دیں کر گیا پرواز

دیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی

فطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر، زمین تاز

مذہب سے ہم آہنگی ء افراد ہے باقی

دیں زخمہ ہے، جمعیتِ ملت ہے اگر ساز

بنیاد لرز جائے جو دیوارِ چمن کی

ظاہر ہے کہ انجامِ گلستاں کا ہے آغاز

پانی نہ ملا زمزمِ ملت سے جو اس کو

پیدا ہیں نئی پود میں الحاد کے انداز

ان سات اشعار کا سلیس اردو درج ذیل ہے۔

1۔شیخ سعدی کی باتوں سے حالی بہت متاثر ہوا اور رو پڑا اور رو رو کر کہنے لگا کہ : ’’اے معجزاتی اشعار کہنے والے!

2۔ ’’جب اسی بوڑھے آسمان نے گردشِ ایام سے کتابِ دنیا کا ورق الٹا تو مسلمانوں کو نیا سبق یہ ملا کہ تعلیم حاصل کرو گے تو عزت و اکرام پاؤ گے۔۔۔

3۔ ’’مسلمانانِ ہند نے جدید تعلیم تو حاصل کر لی لیکن اس سے اسلامی عقائد ڈانواں ڈول ہو گئے۔ اس تعلیم سے دنیا میں عزت اور حال و زر تو مل گیا لیکن دینِ اسلام کا پرندہ اڑ گیا۔۔۔

4۔ ’’اسلام کے مقاصد بلندی حاصل کرنا ہے لیکن جدید تعلیم پانے والے مسلمان نوجوانوں کی فطرت آسمانی بلندی حاصل کرنے کی بجائے زمین کی پستی سے چمٹ گئی اور اب تک چمٹی ہوئی ہے۔۔۔

5۔ ’’مذہب ، انسانوں میں ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرتا ہے۔ یہ اتحاد اور یہ جمعیت اگر ساز تصور کر لی جائے تو مذہب اس پر زخمہ کا کام دیتا ہے(زخمہ اس آہنی انگوٹھی کو کہتے ہیں جو ستار نواز/بینجو نواز/ سارنگی نواز وغیرہ ان سازوں کے تاروں پر پھیرتے ہیں۔ یہ زخمہ اگر نہ ہو تو ساز خاموش رہتا ہے)۔۔۔

6۔’’ اگر کسی باغ کی چار دیواری کی بنیاد لرز جائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ بہت جلد وہ باغ اُجڑ جائے گا۔

7۔’’ ہندی مسلمانوں کی نئی پود کو جب مذہبِ اسلام کے زمزم سے پانی نہ ملا تو اس میں سیکولر ازم اور الحاد کے آثار اور انداز پیدا ہو گئے۔

اس کے بعد اس نظم کے آخری دو شعر اگرچہ حالی کی زبان سے ادا ہوئے ہیں،لیکن آخری شعر فارسی میں ہے اور شیخ سعدی کا ہے۔ حالی نے سعدی کا شعر اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ہے اور سعدی کو یاد دلایا ہے کہ انہوں نے خود اپنے اس شعر میں جو عالمگیر صداقت (Universal Truth) بیان کیا تھا، وہی ہندی مسلمانوں کی موجودہ نسل پر صادق آتا ہے: یہ دو اشعار یہ ہیں:

یہ ذکر حضورِ شہِ یثربؐ میں نہ کرنا

سمجھیں نہ کہیں ہند کے مسلم مجھے غمّاز

خُرما نتواں یافت ازاں خارکہ کِشیتم

دیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رِشیتم

حالی ڈر جاتا ہے اور سعدی سے کہتا ہے :

’’دیکھئے حضرت! میری ان باتوں کا ذکر سرورِ کائناتؐ کے حضور میں نہ کرنا۔اگر ایسا ہوا تو مسلمانانِ ہندوستان مجھے چغل خور(غمّاز) کہیں گے۔۔۔ اس کے بعد حالی اپنی بات میں مزید وزن پیدا کرنے کے لئے سعدی کو انہی کا شعر یاد دِلاتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے:( ہم نے جو کانٹے بورکھے ہیں ان کا پھل کھجور کی صورت میں تو پیدا نہیں ہو گا۔۔۔ اور جو کھردری اون ہم بنائے جا رہے ہیں اس سے دیبا و حریر اور اطلس و کم خواب کے کپڑے تو نہیں بُنے جا سکتے!‘‘)

شیخ سعدی کا یہ فارسی شعر بھی شعر و ادب کی دُنیا میں تا ابد جگمگاتا رہے گا!۔۔۔ معنوی صداقت کو ایک طرف رکھ دیں تو شعر کی لفظی بناوٹ اور ساخت ایسی ہے کہ عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے۔اس میں ڈبل ردیف و قافیہ کا استعمال کیا گیا۔

کِشتیم اور رِشیتم کے علاوہ دونوں مصرعوں میں ’نتواں یافت‘ اور ’نتواں بافت‘ کو بھی دوسرا قافیہ/ردیف کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح خرما اور دیبا ہم صدا الفاظ ہیں اور خار کے مقابلے میں پشم استعمال کر کے بھی سعدی نے صنعتِ اضداد کا کمال مظاہرہ کیا ہے۔

جیسا کہ میں نے کالم کے آغاز میں عرض کیا تھا۔ مسلمانانِ پاکستان آج بھی دینِ اسلام سے اتنے ہی بیگانے ہیں جتنے ایک صدی پہلے دورِ اقبال میں تھے۔۔۔ اس نکتے پر توجہ دینے کی از بس ضرورت ہے!

مزید : رائے /کالم