شہری کی سزائے موت پرعملدرآمد روکتے ہوئے ملٹری کورٹ کی سزا معطلکردی

شہری کی سزائے موت پرعملدرآمد روکتے ہوئے ملٹری کورٹ کی سزا معطلکردی

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس وقاراحمدسیٹھ اورجسٹس عبدالشکورخان پرمشتمل دورکنی بنچ نے شہری کی سزائے موت پرعملدرآمد روکتے ہوئے ملٹری کورٹ کی سزا معطل کردی اوروزارت دفاع کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ عبوری احکامات گذشتہ روز شبیرحسین گگیانی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرہنگوکے رہائشی پیرسیدامیرفیصل کی رٹ پرجاری کئے اس موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذار کو سکیورٹی فورسزنے 4نومبر2011ء کو اپنے گھر سے حراست میں لیا اورکمیشن برائے لاپتہ افراد کودی گئی درخواست کی روشنی میں تھانہ ہنگومیں باقاعدہ اغواء کامقدمہ بھی درج ہوچکاہے جبکہ 2012ء میں درخواست گذار کی بازیابی کے لئے پشاورہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی دائرکی گئی اورسکیورٹی فورسز نے درخواست گذارکی انٹرنمنٹ سینٹرکوہاٹ منتقلی کااعتراف بھی کیا جبکہ اب2019ء کو ان کے اہل خانہ کو اچانک معلوم ہوا کہ درخواست گذار کوملٹری کورٹ سزائے موت سناچکی ہے جبکہ اس حوالے سے درخواست گذارکوصفائی کاموقع بھی نہیں دیاگیااوراس طرح فیئرٹرائل نہیں ہوالہذاملٹری کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دیاجائے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد فیصلہ معطل کرکے سزائے موت پرعملدرآمدروک دیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...