اے سی سی اے کی ایس ایم ای ویژن اور حکمت عملی پر نئی رپورٹ پیش

اے سی سی اے کی ایس ایم ای ویژن اور حکمت عملی پر نئی رپورٹ پیش

لاہور(پ ر)کاروبار کے فروغ میں کامیابی صرف کاروباری اداروں کے لئے نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر معیشت کے لئے بھی بہت سے فوائد فراہم کرتی ہے، جس میں کام کر نے والے لوگوں سے لے کر آپریشنل کمیو نٹی بھی شامل ہوتی ہے ۔ اے سی سی اے (دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) نے لاہور میں ایک ملٹی ا سٹیک ہولڈر کانفرنس کا انعقاد کیا جہاں کاروباری رہنماؤں اور ریگولیٹرز نے پاکستان کے مالیاتی مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کے اقدامات کے کردار اورایس ایم ایز پالیسی کی ضرورت اور فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔رپورٹ کے مطابق '' 27فیصدایس ایم ایز کے پاس 12ماہ سے زائد حکمت عملی کا ویژن موجود نہیں ہے۔''َََتاہم، زیادہ تر ایس ایم ایزبہتر گورننس کے عمل کے فوائد سے آگاہ ہیں لیکن ان کو محدود وقت اور وسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بہت سے اس کو قابل عمل بنانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے ۔ جو بعد ازں طویل مدتی کامیابی کے لیے مہنگی ثابت ہوتی ہے ۔ویژن اور حکمت عملی کی مدد کے ساتھ چھوٹے کاروبار کی کامیابی ، تازہ ترین گلوبل ریسرچ پروگرام کا حصہ ہے جو کہ ایس ایم ایزکی ترقی میں حمایت کرتا ہے ۔ ACCA کی جانب سے منعقدہ ایونٹ میں پاکستان کے 60 ایس ایم ای رہنماؤں سمیت چھوٹے اور درمیانے درجے کے انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب میں خطاب کرنے والے کاروباری رہنماؤں کی فہرست میں نادیہ سیٹھ - جی ایم پالیسی اینڈ پلاننگ سمیڈا ، غالب نشتر -صدر خوشحالی مائیکرو فنانس بینک اور کمال میاں - ڈائریکٹر فاسٹ کیبلز شامل تھے۔

رپورٹ SMEs کی گورننس کی ضروریات پر روشنی ڈالتی ہے، جہاں سادہ مگر موئثر حکمت عملی اور انسانوں پر سرمایہ کاری بہتر ترقی فراہم کر تی ہے جو کہ کسی بھی کاروبار کو طویل مدتی استحکام فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے آصف مسعود مرزا -ریجنل ہیڈ آف پالیسی - MESA، ACCA نے کہا کہ " اگر آپ اپنے کاروبار کو ابتدائی مرحلے سے چلانے کے لیے بہترین حکمت کو اپناتے ہیں تو، آپ کی کمپنی زیادہ محیط ہوسکتی ہے جبکہ بیرونی سرمایہ کاری کو اپیل کرنے کے بھی زیادہ امکان روشن ہوتے ہیں۔ بہترین بنیادی گورننس تمام SMEsکے لیے اہم حیثیت رکھتی ہے مگر پاکستان میں اس کی اہمیت قدر زیادہ ہے ، جہاں اکثر کاروبار اس شعبہ کے گرد قائم کیے جاتے ہیں۔''

تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہSMEs کے نصف (49 فیصد) میں کوئی بیرونی حکمت عملی شامل نہیں ہوتی ہیں،جس میں فوائد سے تجر بہ حاصل کرنے والے کاروبار شامل ہوتے ہیں ، اضافی تجربہ اور صنعت / شعبے کا علم (46 فیصد ) کے پاس ہوتا ہے، آزاد نقطہ نظر / تخلیقی تنقید (44فیصد) اور ترقی کی حکمت عملی پر مشورہ (39فیصد) SMEs دے پاتے ہیں ۔

ایونٹ میں خطاب کرتے ہوئے، فاسٹ کیبلز کے ڈائریکٹر کمال میاں نے کہا، ''فاسٹ کیبلز میں ہم نے معیار، انوویشن، کسٹمر فوکس، شفاف کارکردگی، ٹیم ورک اور لوگوں کے احترام کے بنیادی اقدار کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے ویژن کو یقینی بنایا ہے ۔میرا یقین ہے کہ ACCA کی رپورٹ میں بتائے جانے والے کامیابی کے عوامل کو پاکستان میںSMEsکی مدد کرنے والی کسی بھی مستقبل کی پالیسی میں شامل کرنا چاہیے، ویژن اور بنیادی اقدار طویل مدتی کامیابی کی بنیاد ہیں۔"

پینل مباحثہ کے دوران، نا دیہ سیٹھ- جی ایم پالیسی اینڈ پلاننگSMEDAنے کہا کہ '' ACCA کی رپورٹ 'کیسے ویژن اور حکمت عملی چھوٹے کاروبار کی کامیابی میں مدد کرتی ہے' ' 'SMEDA کے نقطہ نظر کی تائید کرتی ہے جو کہ پائیدار ترقی پر یقین رکھتی ہے اور SMEکے شعبہ میں برتری کی اور بہتری کو فروغ دینے کے ہمارے مشن کی تعمیر میں معاونت فراہم کرتی ہے ۔"

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر خوشحالی مائیکرو فنانس بینک -غالب نشتر نے کہا کہ '' ACCA کی گلوبل رپورٹ 'کیسے ویژن اور حکمت عملی چھوٹے کاروبار کی کامیابی میں مدد کرتی ہے ' کی تحقیق خوشحالی مائیکروفنانس بینک کے مینڈیٹ 'پائیدار پلیٹ فارم قائم کرنے' اور 'ہمارے صارفین کے لیے' اعلی معیار کی گورننس کو فروغ دینے' کے ساتھ متابقت رکھتی ہے۔ہمیں چھوٹے کاروباری اداروں کی مدد کرنے اور فروغ دینے کے طریقوں پر زور دینا ہے "۔

عارف مسعود مرزا نے پینل مباحثے کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ تحقیق SMEs میں کچھ اہم ترین مسائل پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد فراہم کرے گی اوریہ تحقیق نہ صرف SMEs بلکہ پالیسی سازوں کے لیے بھی اہم ذریعہ ثابت ہوگی ۔"

مزید : کامرس


loading...