وکلاء ‘ پولیس میں ہاتھا پائی ‘ 3 ملزم ضمانت خارج ہونے پر عدالت سے فرار

وکلاء ‘ پولیس میں ہاتھا پائی ‘ 3 ملزم ضمانت خارج ہونے پر عدالت سے فرار

ملتان (خبر نگار خصوصی) عدالت سے ملزم فرار کرانے کے تنازعہ پر وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھگڑے میں 3 ملزم ضمانت خارج ہونے کے باوجود فرار ہو گئے جبکہ ایس ایچ او بدھلہ سنت وکلاء کے ساتھ تلخ کلامی میں تشدد کا نشانہ بن گئے اور اس کے کپڑے بھی پھٹ گئے جس پر(بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

فریقین نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست دے دی ہے۔ تفصیل کے مطابق ملزموں غلام مصطفیٰ، غلام مرتضیٰ، افتخار علی اور محمد جاوید نے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی تھی کہ ان کے خلاف تھانہ بدھلہ سنت میں جمیلہ اختر نے حملہ کرنے اور فائرنگ کر کے تشدد کرنے کے ساتھ بے حرمتی کرنے کا مقدمہ درج کرایا ہے جس پر پولیس انہیں گرفتار کرنے کے در پے ہے جبکہ وہ بے قصور ہیں اس لئے انہیں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ فاضل عدالت نے ثبوت اور شہادتیں موجود ہونے پر ملزموں کی درخواست ضمانت خارج کرنے کا حکم دیا جس پر پولیس اہلکاروں نے ملزموں کو گرفتار کرنے کی کوشش جس پر وکلاء اور دیگر افراد کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی بھی ہو گئی اس دوران موقع کا فائدہ اٹھا کر ملزم غلام مرتضیٰ، افتخار علی اور محمد جاوید فرار ہو جانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ملزم غلام مصطفیٰ کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد ایس ایچ او بدھلہ سنت حسین بخش کھوسہ پراسیکیوشن برانچ آئیے جہاں وکلاء بھی پہنچ گئے اور ان کی ساتھ تلخ کلامی شروع ہو گئی جس پر جھگڑا ہو گیا اور ایس ایچ او تشدد کا نشانہ بن گیا اور اس کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔ اس موقع پر ایس ایچ او حسین بخش کھوسہ نے بتایا کہ ان پر وکلاء نے حملہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جبکہ وکلاء نے بتایا کہ ایس ایچ او نے سرکاری اسلحہ ایک وکیل پر تان لیا تھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں ہیں جس پر تھانہ چہلیک میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی جا رہی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...