تحریک انصاف نے زرداری کیخلاف الیکشن کمیشن میں دائر درخواست واپس لے لی ، بلاول ، مراد کا نام ECLسےنہ نکالنے کا فیصلہ

تحریک انصاف نے زرداری کیخلاف الیکشن کمیشن میں دائر درخواست واپس لے لی ، ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،اے پی پی) وفاقی کابینہ نے ای سی ایل جائزہ کمیٹی کی جانب سے 20افراد کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش مسترد کر دی ہے ،جعلی اکاؤنٹس معاملے میں بلاول بھٹو اوروزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت172افراد کے نام ای سی ایل میں برقرار ہیں اور حکومت نے بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ موخر کردیا،سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائزہ یا فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی جائے گی ،وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلوں،ائیر مارشل ارشد محمود کو پی آئی اے کے سی ای او ،شاہ رخ نصرت کو ڈی جی سول ایوی ایشن اور کمشنر اسلام اباد عامر علی احمد کو سی ڈی اے چیئرمین کااضافی چارج ، ریئر ایڈمرل اطہر کو ایم ڈی کراچی شپ یارڈ انجینئرنگ ،صالح محمد کو سیکرٹری ٹریڈ ڈویلمنٹ بمعہ ڈویلپمنٹ کمپنی کراچی کا اضافی چارج ،عائشہ عزیز کو ایم ڈی انوسمنٹ کمپنی تعینات کرنے ،ٹوبیکو بورڈ میں دو ہفتوں کی توسیع کے علاوہ سولر پاورٹیرف جنریشن کی منظوری دیدی ہے،وزیراعظم ہاؤس میں 44ہزار بجلی کی یونٹس کے استعمال پر وزیر اعظم نے نوٹس لیتے ہوئے آڈٹ کا حکم دیدیا ہے ،وزیراعظم نے ہدایات دیں ہیں کہ اووسیز پاکستانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 48گھنٹوں میں نیگیٹوکیٹگری فہرست فراہم اور وزارت پیٹرولیم گیس کے حوالے سے جامع پالیسی لائی جائے۔جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر شماریات خسرو بختیاراور سیکرٹری شماریات ڈویژن کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ 2015میں شروع ہواجسمیں سندھ حکومت کی اہم شخصیات بشمول وزیراعلی سندھ مراد علی شا ہ،آصف علی زرداری ،فریال تالپور اس سکینڈل میں مرکزی کردار ہیں ،سندھ حکومت کے اربوں روپے بذریعہ مراد علی شاہ ،اومنی گروپ ،دوبئی ،لندن ،پیرس اور دیگر ممالک تک پہنچے ہیں ،جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی جس میں جے آئی ٹی کی سفارش پر 172افراد کے نام کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے تھے ،وزارت داخلہ کی ای سی ایل جائزہ کمیٹی نے کابینہ کے اجلاس کے دوران 20لوگوں کے نام نکالنے کی سفارش کی جسے کابینہ نے مسترد کر دیا ۔وزارت قانون و انصاف نے کابینہ کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ تاحال موصول نہیں ہوا ،اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ عدالتی فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا جائز ہ لینے یا عدالتی فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا ،کابینہ کی ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم ،وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر ،سیکرٹری داخلہ شامل ہونگے ،اس کمیٹی کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ172ناموں کا جائزہ لیں ،کس کا کیا کردار تھا ، اس بارے جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے رکھیں ۔وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ معاشی پالیسوں کے ثمرات آنے شروع ہوگئے ہیں ،دسمبر 2018سے اب تک پرائیویٹ سیکٹر نے بینکوں سے504ارب روپے کے قرض حاصل کیے ہیں، پچھلے سال 304ارب کے قرض حاصل کیے گئے تھے ،اس سال کا اضافہ گذشتہ 13سالوں میں سب سے زیادہ ہیں ،ایکسپورٹ میں اضافہ معاشی پالیسی کا اہم جزو ہے ،ایک ماہ میں برآمدت میں 4.5فیصد اضافہ اور درآمدات میں 8.5فیصد کمی ہوئی ہے اسی طرح تجارتی خسارہ میں بھی 19فیصد کمی ہوئی ہے جو کہ 540ملین ڈالر ہے ۔وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وزارت قانون کو ہدایت دی کہ 48گھنٹو ں میں اووسز پاکستانیز کو نوکریوں کے مواقع فراہم کرنے کے لئے نیگیٹوکیٹگری کی فہرست فراہم کی جائے،موجودہ حکومت دوہری شہریت کے حامل باصلاحیت لوگوں کے لئے وسیع مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت پیٹرولیم کو ہدایت دی کہ وہ گیس کے حوالے سے جامع پالیسی سامنے لائیں ،اس وقت ملکی مجمو عی آبادی کا 28فیصد سوئی گیس (سسٹم گیس) ،63فیصد ایل پی جی گیس استعمال کر تے ہیں ،اس وقت ملک کی اکثریت گیس سے محروم ہے اسکی مختلف وجوہات ہیں ،گیس کے آئن سٹائن شاہد خاقان عباسی نے جب وزارت پیٹرولیم سنبھالی تو اس وقت گیس کی دونوں کمپنیاں منافع میں تھی ،2018میں جب حکومت چھوڑی تو دونوں کمپنیاں 157ارب کی مقروض تھیں اور 150ارب کی گیس چوری تھی ،وزیراعظم نے اس معاملے پر جامع حکمت عملی لانے کی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ میں ڈویلپمنٹ کا کام کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہاں کے عوام نے بھی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے لیکن اس پرانے سسٹم کو فنڈز نہیں دے سکتے ، اس کے لئے کراچی ڈویلپمنٹ کمپنی کو فعال کیا جارہا ہے ،یو اے ای کی جانب سے فلٹر پلانٹ کی منظوری کے بعد کراچی کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ پی آئی اے ،سی ڈی اے علاوہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے سربراہی پرائیویٹ سیکٹر کو دی جائے گی تا کہ ماہر لوگ آگے آئیں اور پیشہ وارانہ کام کو سنبھالیں ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر چوہدری فواد نے کہا کہ جے آئی ٹی کی سفارش پر ڈالے گئے نام ای سی ایل میں برقرار رہیں گے، سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد اس معاملے پرغور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی معاشی ٹیم ملک میں بے روزگاری، توانائی بحران کے خاتمے ،ترقی کے اہداف کے لئے دن رات کام کر ہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں بہتری ہورہی ہے ،جلد اصلاحاتی پیکیج سے میڈیا اور قوم کو آگاہ کرینگے ۔

وفاقی کابینہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کے صدر اور رکن قومی اسمبلی آصف زرداری کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں دائر درخواست واپس لے لی۔تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے آصف علی زرداری کے خلاف 20 دسمبر کو الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ نیویارک میں اپارٹمنٹ چھپانے پر انہیں نااہل کیا جائے۔ خرم شیر زمان نے الیکشن کمیشن میں دائر اپنی درخواست اب واپس لے لی اور بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے لوگ تیار ہو جائیں ،آصف علی زرداری کی نشست خالی ہونے والی ہے کیونکہ ہمیں زبردست ثبوت مل گئے ہیں اورہم نے شواہد کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر تصدیق کرا لی ،آصف زرداری نے جعل سازی کے تحت اثاثے چھپائے۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کے خلاف سپریم کورٹ جانا چاہتا ہوں اور وہیں ان کے خلاف پٹیشن دائر کریں گے۔خرم شیر زمان نے دعویٰ کیا ہے کہ آصف زرداری اب بچ نہیں سکیں گے، ہمیں ایسے شواہد مل گئے ہیں جو صرف اعلیٰ فورم پر پیش کریں گے اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ پانامہ کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے اورہمارا مقصد کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مفاہمت کہیں اور تو ہو سکتی ہے لیکن تحریک انصاف کے ساتھ نہیں ہو سکتی ۔

مزید : صفحہ اول


loading...