دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ، آئی ایم ایف پیکج نہ ملا تو متبادل انتظامیہ موجود ہے : اسد عمر

دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ، آئی ایم ایف پیکج نہ ملا تو متبادل انتظامیہ ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرنے کہا ہے کہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں،تمام تر انحصاد آئی ایم ایف پر نہیں کر رہے، اگر آئی ایم ایف پیکج نہ ملا تو متبادل انتظام کر لیا ہے، معاشی ترقی کیلئے اہم فیصلے کر رہے ہیں، ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کے درمیان گیپ پورا کر لیا گیا ہے،برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے سے تجارتی خسارے میں کمی آئی ضمنی بجٹ میں سرمایہ کاری ، کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تجویز کئے جائیں گے ، جمعرات کواینکرپرسنز کے ساتھ ملاقات میں وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ سال 2008ء میں پیپلز پارٹی کے پہلے 5 ماہ میں افراط زر کی شرح میں گیارہ اعشاریہ 2 فیصد، سال 2013ء میں ن لیگ کے پہلے 5 ماہ میں افراط زر میں 4 فیصد جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے پانچ ماہ میں افراط زر میں 0 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف سے اچھا پروگرام ملا تو فوری معاہدہ کر لیں گے۔ پچھلے سال کے دوران مجموعی طور پر نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 21 فیصد بڑھی۔ جولائی تا دسمبر 2018ء نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 65 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا۔دریں اثناء جمعرات کو پاک چین پبلک آڈٹ کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آڈٹ کے ادارے کا مضبوط ہونا معاشی ترقی اور استحکام کے لئے ضروری ہے‘ ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ سرکاری فنڈز شفاف اور دانشمندانہ طریقے سے خرچ کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘ وفاقی حکومت اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے،چین کے آڈٹ نظام نے کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سرکاری فنڈز شفاف اور دانشمندانہ طریقے سے خرچ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آڈٹ کا محکمہ فنڈز کے شفاف طریقے سے استعمال کے حوالے سے کردار ادا کرے۔ آڈٹ نظام کی بہتری کے لئے محکمہ اپنی بھرپور صلاحیت بروئے کار لائے۔ وفاقی حکومت اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...