لنڈا بازارمہنگاہونے کی وجہ ٹیکس کی بھرمار ہے، انجمن تاجران

لنڈا بازارمہنگاہونے کی وجہ ٹیکس کی بھرمار ہے، انجمن تاجران

لاہور( نیوز رپورٹر)انجمن تاجران لنڈا بازار کے صدر نعیم بادشاہ نے روز نامہ پاکستان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لنڈابازار مہنگاہونے کی وجہ حکومتی ٹیکس کی بھرمار ہے امریکہ اور برطانیہ سے مفت یا دس سینٹ فی کلو ملنے والے پرانے کپڑوں پر 35سینٹ فی کلو ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جبکہ جوتوں پر ٹیکس کپڑوں سے بھی زیادہ صول کیا جارہا ہے جو65 سینٹ ہے کپڑے مفت بھی مل جاتے ہیں بحری جہاز کا کرایہ حکومتی ٹیکس لیبر اور لاہور منگوانے کا خرچہ کپڑوں کو مہنگا کردیتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اگر لنڈا بازار پر عائد ٹیکس ختم کردے تو ہم بھی کپڑوں کی قیمت کم کر دیں گے اور اشیاء آدھی قیمت پر آجائیں گی ٹیکس کی وجہ سے ہمارا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے کپڑوں اور جوتوں کی فروخت میں بہت کمی آئی ہے اور دکاندار بھی بہت پریشان ہیں حکومت اس جانب توجہ دیں تو ایک مرتبہ دوبارہ لنڈا بازار کی رونقیں ماضی کی طرح بحال ہوسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں لنڈاغریبوں کی مجبوری ہے ہمیں شوق نہیں کہ گاہگ کو خالی ہاتھ واپس بھجیں ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے مہنگائی بڑھ گئی ہے اور کرایہ بھی بڑھ گئے جس وجہ سے ہم اشیاء کی قیمت بڑھانے پر مجبور ہیں اگر حکومت ریلیف دے گی تو ہم گاہگ کو بھی اس کا ریلیف ضرور دیں گے ان خیالات کا اظہار لنڈا بازار کے دکانداروں نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو میں کیا دکاندار بشیراں نے کہا کہ میں بیس سال سے لنڈا بازار میں کام کررہا ہوں اور ہمیشہ گاہگ خوش ہوکر یہاں سے جاتا تھا اور کوئی بحث نہیں کرتا تھا مگر اب کاروبار بہت متاثر ہوا ہے اور مہنگائی بڑھ گئی ہے اور گاہگ بھی بحث کرنے لگا ہے حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس جانب توجہ دیں یہاں پر عوا م کی ایک بہت بڑی تعداد خریداری کے لئے آتی ہے اور غریب لوگ اپنے بچوں کے کپڑے خریدتے ہیں حکومت ٹیکس کو ختم کرکے ان کی خوشیاں نہ چھینے ۔دکاندار اسلم ،ہیرا،بگا اور اشرف نے کہا کہ کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ہم فارغ ہی بیٹھے ہیں تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے ہمیں مزید مشکل میں ڈال دیا ہے اور ہم تو اپنا خرچہ بھی پورا کرنے میں مشکل ہوگیا ہے غریبوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا جارہا ہے دوسری جانب ٹیکسوں کی بھرمار سے عوام سے لنڈا بھی چھیناجارہا ہے ہم یہاں پر کپڑے اور جوتے بیچ کر بچوں کے لئے روزی کماتے تھے مگر اس کے لئے بھی اب بہت مشکلات پیدا ہوگئی ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس جانب توجہ دے اور ٹیکس عائد کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے تاکہ غریب لوگ یہاں پر آسانی سے خریداری کرسکیں اور جن مشکلات کا ان کوسامنا ہے اس سے ان کو نجات مل سکے امید ہے کہ حکومت اس طرف توجہ دے گی اور ہمارا ذریعہ معاش جو چل رہا ہے اسی طرح سے کامیابی سے چلتا رہے گا۔

نعیم بادشاہ

مزید : صفحہ اول


loading...