گیس لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان ،حکومت کا سی این جی پمپوں کو سپلائی بند کرنے کا فیصلہ

گیس لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان ،حکومت کا سی این جی پمپوں کو سپلائی بند کرنے کا ...

لاہور( نیوز رپورٹر) گیس کی لوڈشیڈنگ سے عوام پریشانی کا شکار، لوگ بازار سے کھانا لانے پر مجبور ، گیس کے بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کا سی این جی پمپوں کو پندرہ جنوری تک گیس کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ و،فاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کے سی این جی پمپ بھی بندش کا شکار،تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں گیس کی لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن کردی سارا سارا دن گیس نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بازار سے کھانا لانے پر مجبور مہنگائی کے دور میں لوگوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوگیا جس پر عوام کی بڑی تعداد نے محکمہ گیس کے حکام کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کروایااس حوالے سے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے صارفین گیس نے کہا کہ پاکستان میں سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ معمول بن گیا ہے نئی حکومت سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ تھیں ندیم، خاور،نعیم،ساجد،خالد اور بابر نے کہا کہ ملک میں تبدیلی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی افسوس کی بات ہے کہ عوام کے اس اہم مسلہ کی طرف آج تک کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی ہے اور غریب لوگ مزید پریشانی کاشکار ہیں حکمرانوں نے اپنے لئے تو ہمیشہ بہت کچھ کیا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ عوام کے لئے اب تک کچھ نہیں کیا گرمیوں میں ہمیں بجلی نہیں ملتی اور سردیوں میں ہمیں گیس کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرناپڑتا ہے ہم کس سے فریاد کریں نائلہ،شرجیلہ،ثمینہ،عتیقہ اور آمنہ نے کہا کہ سارا سارا دن ہم گھروں میں لکڑیاں جلاکر کھانا پکانے پر مجبور ہیں اور اب تک گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا ملک میں تبدیلی اس وقت ہی حقیقی معنوں میں آئے گی جب غریب لوگوں کو ان کے حقوق ملیں گے یہاں پر تو لوگوں کوشدید احتجاج کے بعد بھی کوئی آسائش نہیں ملتی۔شرجیل،مہر علی،نوید اور عامر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت گیس کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے اور اس کا خاتمہ حکومت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے امید ہے کہ اس حوالے سے نئی حکومت اس کو چیلنج سمجھ کر کام کرے گی اور عوام کو اس مشکل سے جلد از جلد نجات دلائی جائے گی ہمیں نئی حکومت سے بہت امیدیں وابستہ ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کس طرح سے پلان کرکے عوام کو اس حوالے سے ریلیف دیتے ہیں تاکہ ہمیں بھی سردیوں میں ریلیف مل سکے حکومت کو اس حوالے سے اب ہی پلاننگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اگلی سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جاسکے۔دریں اثناملک میں جاری گیس کے بحران سے نمٹنے کے لئے سی این جی پمپوں کو پندرہ جنوری تک گیس کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ گھروں میں لوگ گیس سے مستفید ہوسکے اس حوالے سے حکومت نے پنجاب اور اسلام آباد میں گیس کی کمی سے نمٹنے کے لئے پندرہ جنوری سے گیس پمپوں کو سپلائی بند رہے گی جبکہ پندرہ جنوری سے قطر سے کارگو بحری جہاز کی آمد کے بعد سی این جی پمپوں کو گیس کی دوبارہ سے سپلائی شروع کردی ہے اس حوالے سے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے سی این جی پمپ مالکان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو چائیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے سی این جی سٹیشنز کو بھی گیس کی فراہمی معطل نہ کی جائے کیونکہ اس سے ہمارا کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے اور ہمیں بھی اس سے بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے آئے دن حکومت کی جانب سے ایسے اقدام سے ہمیں پریشانی ہوتی ہے اور جب بھی گیس کی سپلائی شروع ہوتی ہے تو گیس کے لئے گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ جاتی ہیں ۔علاوہ ازیں ملک میں جاری گیس کی بندش کی وجہ سے سی این جی پمپس بند ہیں وہی وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کے سی این جی پمز بھی بندش کا شکار ہیں یہ دلچسپ بات ہے کہ ملک کا وفاقی وزیر جو خود سی این جی پمپ کا مالک بھی ہے اس کی وزارت کے باوجود وہ خود بھی ملک میں گیس کی بندش کے خلاف حالات سے نمٹنے میں ناکا م ، کئی دنوں سے بلند و بانگ دعوے کرنے کے باوجود اب تک صورتحال کنٹرول میں لانے میں مکمل طو ر پر ناکام ثابت ہوئے،اس حوالے سے وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا کہ اس سے میں بھی تنگ ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آنے والا وقت بہتر ہوگاجب ملک میں گیس کی بندش ہے تو میں وفاقی وزیر ہونے کے باوجود خود بھی اس کا شکار ہوں اس لئے کہ میں بھی عام انسان ہوں اور میں پر امید ہوں کہ جب دیگر لوگوں کے پمپس کھولیں گے تب میرے بھی کھل جائیں گے میں بیس سال سے پمپس چلارہا ہوں اور ذاتی طور میں خود بھی چاہتا ہو ں کہ ملک میں اس بحران کا جلد ازجلد خاتمہ ہو اور گیس کی قلت دور کی جاسکے وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا ہے کہ سی این جی پورے پنجاب میں بند ہے اور این ایل جی کی کمی کی وجہ سے بندش ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...