شوگر مافیا عوام کو لوٹ اور حکومت اس کے ہاتھوں پر یر غمال بن چکی ہے ،سراج الحق

شوگر مافیا عوام کو لوٹ اور حکومت اس کے ہاتھوں پر یر غمال بن چکی ہے ،سراج الحق

لاہور( نمائندہ خصوصی ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ شوگر مافیا ایک بار پھر متحرک ہوچکاہے ۔ گزشتہ چند روز میں چینی 8 روپے فی کلو تک مہنگی ہوچکی ہے ۔ سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت میں بھی شوگر مافیا دلیری سے عوام کو لوٹ رہاہے ۔ لگتاہے حکومت شوگر مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہے اسی لیے اسے کھل کھیلنے کا موقع دیا جارہاہے۔ جو حکومت آتی ہے وہ عام آدمی کے مفادات کی بجائے شوگر مل مالکان کے مفادات کازیادہ خیال رکھتی ہے ۔ عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی اور انقلاب لانے کے تمام حکومتی دعوے اور سرکاری اعلانات ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب ثمر باغ میں علاقے کے عوام اور کارکنوں سے ملاقاتوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سراج الحق نے کہاکہ حکومت قرضے ، امداد اور اربوں کا ادھار تیل لینے کے باوجود معیشت کو بہتر بناسکی نہ مہنگائی پر قابو پاسکی ۔ موجودہ حکومت کے دور میں بنیادی ضروریات زندگی اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں چالیس فیصد تک اضافہ ہوچکاہے ۔ خاص طور پر چینی کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہورہاہے اور حکومت عوام کی بجائے شوگر مافیا کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے ۔ روپے کی قدر میں کمی ہونے کی وجہ سے اٹھنے والا مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ حکمرانوں کو شاید عوام کی چیخیں سنائی نہیں دے رہی ہیں ۔ جب تک حکمران خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے رہیں گے ، احتساب کے نظام اور نیب پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی ۔ حکومت میں آنے کے بعد حکمران آئین و قانون سے بالاتر ہو جاتے ہیں اور استثنیٰ کو اپنا حق سمجھتے ہیں حالانکہ یہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل ملک میں اسلامی انقلاب میں ہے ۔ جب تک نظام مصطفی ؐ کا نفاذ نہیں ہوتا ، غربت ، جہالت ، کرپشن اور لاقانونیت سے چھٹکارا نہیں مل سکتا۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے حالیہ اجلاس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں ایک قرار داد منظور کی ۔ اجلاس کی صدارت سراج الحق نے کی ۔ قرار داد میں کہا گیاہے کہ دنیا بھر میں نظامِ ریاست چلانے کے لئے ،مرکز اور صوبوں کے بعد ،نچلی سطح پر بلدیاتی نظام تیسرا اور بنیادی ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے۔بلدیاتی ادارے پبلک ایڈمنسٹریشن اور گورننس کے لئے بااختیار اور خود مختار ہوتے ہیں۔جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کا وجود اس اصول پر قائم کیا گیا ہے کہ آمریت میں اختیارات اور ذمہ داریوں کے چند افراد کے ہاتھوں میں ارتکاز کے باعث محدود ہونے کے برعکس ان اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم نچلی سطح پر عوامی نمائندں کے ہاتھوں میں ہو۔پاکستان میں سیاسی نظام بظاہر جمہوری ہے لیکن عملی طور پر سیاسی جماعتیں نظریات اورجمہوری اصولوں کی بجائے افراد اور خاندانوں کے ہاتھوں میں جکڑی ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے سیاست، دولت وطاقت کے اثرورسوخ کی مرہونِ منت بن کر رہ گئی ہے۔ اس ضمن میں ابھی تک تو اس حکومت کے تمام وعدے،دعوے اور نعرے فضا میں تحلیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ابھی تک مقامی حکومتوں کے نظام کا کوئی نقشہ سامنے نہیں آیا۔عملی اقدام بہت دور کی بات ہے۔بلکہ اب توحکومتی ایوانوں میں مکمل خاموشی اوربے حسی چھائی ہوئی ہے۔ قرار داد میں حکومتِ وقت سے پر زور مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے ،مقامی نمائندوں کو اختیارات منتقل کرنے او رنچلی سطح تک مالی وسائل کی تقسیم کے لئے جلد ازجلد درج ذیل اقدامات کئے جائیں،مقامی حکومتوں کے نظام کی تیاری اور قیام میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔پورے ملک میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کا کام جلد مکمل کیا جائے۔جن صوبوں کے بلدیاتی اداروں کی مدت ابھی باقی ہے بشمول فیڈرل ایریا اسلام آباد، ان کو فی الفورمالی وسائل فراہم کئے جائیں۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر


loading...