جرمن عدالت نے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سے متعلق مقدمہ خارج کر دیا

جرمن عدالت نے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سے متعلق مقدمہ خارج کر دیا

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک ایک جرمن عدالت نے ایک پاکستانی گروپ کی جانب سے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتش زدگی سے متاثرہ افراد کی جانب سے ہرجانے کا دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔اس واقعے میں بچ جانے والے ایک شخص اور ہلاک شدگان کے تین خاندانوں کی جانب سے جرمن ادارے کِک سے کہا گیا تھا کہ وہ فی خاندان تیس ہزار یورو ادا کرے۔ اس واقعے میں ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس واقعے میں مدعی 49 سالہ پاکستانی سعیدہ خاتون، 62 سالہ محمد جابر اور 62 سالہ عبدالعزیز خان تھے۔ ان تینوں افراد کے بیٹے فیکٹری میں آتش زدگی کے نتیجے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ 26 سالہ محمد حنیف بھی مدعیوں میں شامل تھے، جو اس واقعے میں بچ گئے تھے۔سعیدہ خاتون نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’مجھے بہت افسوس ہے کہ عدالت نے ہماری بات نہیں سنی۔ ہم نے سن 2012 کی آتش زدگی میں اپنے بچے کھو دیے۔ لگتا یوں ہے کہ کسی کو غریب مزدوروں کا خیال نہیں ہے۔ یہ فیصلہ کمپنیوں کے حق میں ہے۔ مگر میں اپنے حقوق کی لڑائی ختم نہیں کروں گی۔‘‘ڈورٹمنڈ کی عدالت کے مطابق پاکستانی قانون کے تحت اس واقعے کے بعد ہرجانے کے دعوے کے لیے طے شدہ وقت گزر چکا ہے۔ پاکستانی گروپ کی وکالت کرنے والے مِریم زاگ ماس کے مطابق، ’’ہمیں افسوس ہے، کیوں کہ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستانی قانون کے مطابق اس واقعے سے متعلق حدود میں بار بار مداخلت ہوتی رہی، اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی قانون کے تحت یہ مقدمہ وقتی حدود کے تحت نہیں آتا۔‘‘جرمن کاروباری ادارے کِک کے وکیل گْنٹر لیہلائٹر نے اس عدالتی فیصلے کے بعد کہا، ’’یہ ایک ٹھوس فیصلہ ہے کیوں کہ یہ آتش زدگی ایک دہشت گردانہ واقعہ تھا اور اس کا فیکٹری کی حالت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘کراچی کی اس فیکٹری میں مبینہ طور پر صرف ایک خارجی راستہ تھا، جب کہ کھڑکیاں بند تھیں، جن سے کسی ہنگامی حالت میں اخراج ممکن نہیں تھا۔ مقدمے سے قبل پاکستانی گروپ کے وکلا میں سے ایک ریمو کِلنگر نے کہا تھا، ’’کِک نے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کیا اور اس لیے اس بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی ذمہ داری اس پر بھی عائد ہوتی ہے۔

مقدمہ خارج

مزید : صفحہ آخر


loading...