زینب کیس نے قوم کو پیغام دیا انصاف چھین کر بھی لیا جاسکتا ہے ،طاہر القادری

زینب کیس نے قوم کو پیغام دیا انصاف چھین کر بھی لیا جاسکتا ہے ،طاہر القادری

قصور( بیورورپورٹ )زینب شہید کی پہلی برسی کے موقع پر عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں17ہزار سے زائد درندگی و سفاکیت کے واقعات رونما ہو نا لمحہ فکریہ ہے۔زینب کے معاملہ میں قصور نے پوری قوم کو ایک صف میں کھڑا کر کہ پیغام دیا کہ انصاف چھین کر بھی لیا جا سکتا ہے۔عمران خان سے کہا تھاکہ آج کے دن کو پورے ملک میں زینب ڈے منایا جائے جس میں بچوں کی تربیت اور ایسے واقعات سے بچنے کے پروگرامز وسیمینار منعقد کئے جائیں مگر اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آج کیسا وقت آگیا ہے کہ غریب کو انصاف دینے کی بجائے اس کا مذاق اُڑیا جا تا ہے اس پر قہقے لگائے جاتے ہیں مگر اللہ کے انصاف نے دیکھایا کہ ہنسنے والے آج جیل میں معافیاں مانگ رہے ہیں اور زینب کے لئے انصا ف کی جرات رکھنے والا امین انصاری اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہے۔ اگر غریب بچیوں کے والدین کا قصور آواز اُٹھانا اور انصاف کے لئے احتجاج کرنا جرم ہے تو اس جرم میں ہم انکے شریک جرم ہیں ہم آج یہ کہتے ہیں کہ زینب کی آوازمیں شہید ہونے والے دو افراد کی قاتل اس وقت کی حکومت ہے جس نے ہوش کے ناخن لئے بغیر مظاہرین پر فائر کھولنے کا حکم دیا۔ یہاں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد تازہ کی گئی مگر سانحہ ماڈل ٹاؤن میں عدلیہ نے حالیہ جو کردار ادا کیا ہے اس پر ہم چیف جسٹس صاحب کے شکر گزار ہیں ۔انہی کی بدولت ہمیں انصاف ملتا نظر آرہا ہے مگر غریب انصاف کے لئے اگر ایسے دربدر دھکے کھاتا رہا تو حکمران بھی نشان عبرت بنتے رہیں گے۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں غریب اور امیر کیلئے الگ الگ قوانین ہیں غریب انصاف کے لئے زندگی کی سانسیں ختم کر لیتا ہے مگر امیر کو عزت کے طور پر کرسی دی جاتی ہے۔ قصور کی غیور عوام نے ثابت کیا کہ زینب پوری قوم اور ہر گھر کی بیٹی تھی اس لئے عوام اپنے حق کے لئے سڑکوں پر آئے۔ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے کہا کہ آج کثیر تعداد میں لوگ بیٹی زینب کی برسی کے موقع پر آئے ہیں اور شدید مزمت کرتے ہیں۔وہ بچی اعلی جنتوں میںآرام کر رہی ہے۔وہ ہمارے لیے نجات کرے گی جس نے بھی حصہ ڈالا اسے اس معصوم بچی کا اجر ملے گاجب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ایک رخ یہ ہوتا ہے کہ بہت پریشانی اور اذیت ہوتی ہے اور دوسرا رخ یہ ہوتا ہے کہ گونگوں کو بھی بولنے کا موقع مل جاتا ہے اس لیے وہ موت نہیں ہوتی بلکہ چلتی پھرتی لاشوں کو حقیقی زندگی کا معنی بتاتے ہیں۔جو لوگوں کی مدد نہیں کرتے وہ گونگھے بھی ہیں اور اندھے بھی ۔زینب کاواقعہ پہلی سطر میں لکھے جانے والا واقعہ ہے میں ایک سال قبل یہاں آیا اور جنازہ پڑھایاجس پرآخر میں حکومت حرکت میں آئی ۔حکومت کو فیصلہ کن قسم کی قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے بی بی سی نے رپورٹ دی کہ پاکستان میں پانچ سالوں میں سترہ ہزار واقعات ہوئے اور محتسب ادارہ کہتا ہے 4 ہزار واقعے رپورٹ ہوئے اس کا مطلب یہ ہے کہ جن بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے وہ لوگ رپورٹ ہی نہیں کرتے قانون اس ملک میں طاقت وروں کے لیے نہیں ہے جس قانون سے اس ملک کا غریب مایوس ہے اس ملک میں کیاکہا جائے دادرسی تو دور کی بات ہے اس کی ایف آئی ار ہی درج نہیں ہوتی ایسے عناصر کے پیچھے سیاست دان بھی ہوتے ہیں اور طاقت ور لوگ ہوتے ہیں بہت سے اسباب ہیں جس کی وجہ سے درندگی کا نشانہ بننے والے لوگ چپ رہتے ہیں۔ حکمران کی ذمہ داری ہے ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی کا قانون بناناچاہیے اس جرم میں ملوث افراد پر دہشت گردی کی دفعات لگائی جا ئیں اج کے دن تک درندگی بچوں کے ساتھ دہشت گردی میں شامل نہیں ہوتی ایک نیا قانون بنایا جائے آج کا دن بہتر ہے بہت بڑے بااختیا رلوگوں کے اپنے بچے اس جرم میں شامل ہوتے ہیں جب ایسی درندگی ہوتی ہے اس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا جب گواہ نہیں ہو گا اپ جرم ثابت نہیں کر سکتے۔

طاہرالقادری

مزید : صفحہ آخر


loading...