سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے باجوڑ ،کرم اور خیبر ایجنسیوں کو ریلیف پیکج نہ ملنے پر رپورٹ طلب کرلی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے باجوڑ ،کرم اور خیبر ایجنسیوں کو ریلیف پیکج نہ ملنے پر ...

اسلام آباد (آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کو زرعی ترقیاتی بینک اور وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم کے اعلان کے بعد سٹیٹ بینک نے تمام بینکوں بشمول ترقیاتی بینکوں کو صوبہ خیبرپختونخوا کی مالاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع مالاکنڈ، سوات، بونیر، چترال، لوئر اور اپر دیر اور شانگلہ کیلئے ریلیف پیکیج کی ہدایت جاری کی گئیں، ریلیف پیکیج میں کے پی میں ضم ہونے والے فاٹا کی تین ایجنسیوں باجوڑ، کرم اور خیبر شامل نہیں تھے جبکہ قائمہ کمیٹی نے کہا کہ وزیراعظم کے اعلان میں فاٹا شامل تھا، سٹیٹ بینک نے وہ نام کیوں شامل نہیں کئے،قائمہ کمیٹی نے 2ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس سینیٹر تاج محمد آفریدی کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ہلال الرحمان، ہدایت اللہ، لیفٹیننٹ جنرل(ر) صلاح الدین ترمذی، ساجد حسین طوری، سردار یعقوب خان ناصر، شمیم آفریدی کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا ، فاٹا سیکرٹریٹ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج محمد آفریدی نے کا کہ ریلیف پیکیج فاٹا عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے تھاجو 2009تک تھا لیکن اس کو 2011تک بڑھانے کی کمیٹی سفارش کرتی ہے، کسانوں نے جتنے قرضے لئے انہیں معاف کیا جائے، جس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبرپختونخوانے کہا کہ فاٹا کی تین ایجنسیوں کیلئے وزیراعظم سے تصدیق کروا کر کمیٹی کو آگاہ کر دیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فاٹا سیکرٹریٹ کے 6محکمے تھے، فاٹا کے ضم ہونے پر سیکرٹریٹ ختم ہو چکا ہے، تمام محکمے صوبوں کے محکموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جس پر کمیٹی نے کہا کہ جاری منصوبوں پر کام ختم نہیں ہونا چاہیے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی

مزید : صفحہ آخر


loading...