مزدور بے روزگار ،کاروبار منجمد ،قائدین نے کال دی تو احتجاج تحریک چلائیں گے ،مسلم لیگ (ن)

مزدور بے روزگار ،کاروبار منجمد ،قائدین نے کال دی تو احتجاج تحریک چلائیں گے ...

لاہور( این این آئی )مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملکی سیاست کو صراط مستقیم پر چلانے کی وجہ سے نواز شریف جیل میں ہیں،نواز شریف اور شہباز شریف بہادری سے حالات کا سامنا کررہے ہیں، نواز شریف کو زمین کی ساتویں تہہ میں بند کردیں مگر وہ عوام کے دلوں میں رہیں گے،عمران خان کے پاس کوئی پالیسی اورپروگرام نہیں ،اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے اپوزیشن کے خلاف اقدامات کئے جارہے ہیں،جولائی کے انتخابات شفاف ہوتے پاکستان آج بہت آگے جاچکا ہوتا، مسلط حکومت بھکاری بن کر دنیا میں گھوم رہی ہے،حکومت اپنی ناقص پالیسیوں کے بوجھ تلے خود ہی دب جائے گی ،پارٹی نے کال دی تو بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے ، نااہل حکومت کو لانے والے جلد ان کو ود ڈرا کرلیں گے اور عوام کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ان خیالات کا اظہار مشاہد اللہ خان ، رانا ثنا اللہ ،سینیٹر عبد القیوم ، سینیٹر جاوید عباسی اور دیگر رہنماؤں نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کیلئے آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ نواز شریف اس پارٹی کا سربراہ ہے جسے حکومت میں ہونا چاہیے تھا، جن کو ملک پر مسلط کیا گیا ہے اس سے ملک کو شدید نقصان ہوا ہے۔پاکستان کو ایٹمی اور معاشی قوت بنانے میں نواز شریف کا کردار ہے، نواز شریف سر جھکائے گا نہ ہی ان کے کروڑوں ساتھی سر جھکائیں گے، وہ جمہوریت کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو کل کہتا تھا میں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا وہ آج ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا رہا ہے، دو زانوں بیٹھ کر بھیک مانگی جارہی ہے ،ہر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر ملک کی بے توقیری ہوئی ہے۔ مسلط کردہ حکمران بتائیں ایک کروڑ نوکریاں کب دیں گے اور پچاس لاکھ گھر کب بنیں گے، قوم کو بتائیں ای او بی آئی کے ملزمان تحریک انصاف میں ہیں یا نہیں؟ ان کی حرکتیں چور مچائے شور کے مترادف ہیں۔ نواز شریف کو ملک کو طاقتور معاشی اور ایٹمی قوت بنانے پر تختہ مشق بنایاگیا ،ہو سکتا ہے جیل میں ڈالنے کے بعد کچھ لوگوں کے دل کو ٹھنڈک پہنچ گئی ہو۔نوازشریف کو سر نہ جھکانے کی سزا مل رہی ہے جمہوریت اور عوام کا حق حکمرانی قائم رہے گا ،اسی وجہ سے مریم نوازکو بھی جیل کاٹنی پڑی۔انہوں نے کہا کہ بیڈ گورننس ہے ،جمہوریت اور ملک دشمنی کا ایجنڈا چل رہاہے،میڈیا کو بھی صراط مستقیم پر چلنے کی سزا مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فارورڈ بلاک پارٹی میں رہنے والا بناتاہے ،ہمارے ووٹ بڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کا کوئی کاروبار نہیں تھا لیکن ان کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے نکلے ہیں، یہ وہ پیسہ ہے جو بیرون ممالک شوکت خانم کے نام پر جمع کیا گیا ، زکوۃ کا پیسہ پاکستان آنے کی بجائے دبئی میں ان کے اکاؤنٹس میں چلا گیا اور یہ عمران خان کا پیسہ ہے ۔اس وقت عمران خان اپوزیشن کا احتساب کر رہے ہیں ،حکومت میں کرپٹ ترین لوگ موجود ہیں ، تمام جماعتوں کے کرپٹ لوگ آج موجودہ حکومت میں وزراء بن کر بیٹھے ہوئے ہیں،عمران خان ایک لانڈری کے مالک ہیں ،وزیر اعظم اپنی بہنوں کے خلاف کیوں ایکشن لے گا؟ ۔ حالیہ جے آئی ٹی بنی تو اس پر بنی گالہ میں میٹنگز ہوتی رہیں اوراس کمیٹی کو بریفنگ دی جاتی رہی۔وزیر اعظم کی اپرول کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تو سپریم کورٹ نے اس رپورٹ کو مسترد کیا اور کیس نیب کے حوالے کیا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی نے احتجاجی تحریک کی کال دی تو بھرپور تحریک چلائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ حکومت اور اسے لانے والوں کو برا بھلا کہے رہے ہیں ، نااہل حکومت کو لانے والے جلد ان کو ود ڈرا کرلیں گے اور عوام کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، عمران خان کی حکومت زیادہ چلنے والی نہیں۔ انتخابات میں (ن) لیگ کو ٹارگٹ کیاگیا ،تین سالوں میں کوئی عوامی مسئلہ نہیں تھا ،صرف نوازشریف کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ہی ٹارگٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سسٹم کی بنیاد انتخابات ہیں اوراگر وہ صاف شفاف نہیں ہوں گے تو ابہام میں سب چیزیں جعلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے تین چار ماہ میں معیشت کی یہی صورتحال رہی تو حالات خوفناک ہو جائیں گے ، اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کم ہونے سے ترقی کا عمل رک گیا ہے ۔ آصف زرداری کے حق میں نہیں بات کررہا صرف بنی گالہ میں جے آئی ٹی کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ملک عدم استحکام میں آگے نہیں بڑھ سکتا ،کنٹینرپر چڑھ کر ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا۔انہوں نے کہا کہ انتقامی عمل کی وجہ سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے، ملک میں دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے،ملک میں کاروبار بالکل منجمد ہوکر رہ گیا ہے، حکومتی وزرا ء بد زبانی کے سوا کچھ نہیں کر رہے، حکومت کے پاس کوئی پالیسی اور وژن نہیں۔سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف کیس مضبوط نہیں،انشااللہ انہیں انصاف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کا برا حال ہو چکا ہے ،حکومت کے پاس قابل ٹیم نہیں جس کا نقصان ملک کو اٹھانا پڑرہا ہے۔ جاوید عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی ناقص پالیسیوں کے بوجھ تلے خود ہی دب جائے گی ۔جس حکومت کے پاس پنجاب میں فیض الحسن چوہان جیسے وزیر ہوں وہ کیا حکومت ہوگی ۔ عمران خان بتائیں کیا مدینہ کی ریاست ایسی تھی؟

مزید : صفحہ آخر


loading...