آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ، چھا پروگرام ملا تو معاہدہ کر لیں گے : اسد عمر

آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ، چھا پروگرام ملا تو معاہدہ کر لیں گے : اسد عمر

اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مذاکرات جاری ہیں ،آئی ایم ایف سے جیسے ہی اچھا پروگرام فائنل ہوگا معاہدہ کر لیں گے ، متبادل ذرائع سے بھی فنڈز کے حصول کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ، بجلی اور گیس کی قیمتیں صرف امیروں کیلئے بڑھائی گئیں، ضمنی فنانس بل میں سرمایہ کاری ، کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات تجویز کئے جائیں گے ،۔وہ جمعرات کو اینکرپرسنز سے گفتگو کر رہے تھے ۔ اسد عمر نے کہا کہ برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے سے تجارتی خسارے میں کمی ہوئی ،درآمدات میں کمی سے بھی تجارتی خسارہ کم ہو رہا ہے ، جولائی تا دسمبر 2018نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں 65فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے سال کے دوران مجموعی طور پر نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 21فیصد بڑھی ہے،انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کیلئے اہم فیصلے کر رہے ہیں ، پاکستان کے ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ہے ، پیپلزپارٹی کے پہلے پانچ ماہ میں افراط زر کی شرح میں 11.2فیصد اضافہ ہوا اور2013میں (ن) لیگ کے پہلے پانچ ماہ میں افراط زر میں 4فیصد اضافہ ہوا جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے پانچ ماہ میں افراط زر میں 0.4فیصد اضافہ ہوا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتیں صرف امیروں کیلئے بڑھائی گئیں ۔دریں اثناء جمعرات کو پاک چین پبلک آڈٹ کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آڈٹ کے ادارے کا مضبوط ہونا معاشی ترقی اور استحکام کے لئے ضروری ہے‘ ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ سرکاری فنڈز شفاف اور دانشمندانہ طریقے سے خرچ کرنا ہماری ذمہ داری ہے‘ وفاقی حکومت اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ کا ملکی ترقی میں اہم کردار ہے،چین کے آڈٹ نظام نے کرپشن کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم چین کے آڈٹ نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سرکاری فنڈز شفاف اور دانشمندانہ طریقے سے خرچ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آڈٹ کا محکمہ فنڈز کے شفاف طریقے سے استعمال کے حوالے سے کردار ادا کرے۔ آڈٹ نظام کی بہتری کے لئے محکمہ اپنی بھرپور صلاحیت بروئے کار لائے۔ وفاقی حکومت اداروں کو مضبوط کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...