سندھ اسمبلی ، صوبے میں گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ پر احتجاج

سندھ اسمبلی ، صوبے میں گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ پر احتجاج

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد کے زریعے صوبے میں گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج کیا ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے دوسری صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائیگا۔جمعرات کو گیس بندش کے خلاف مذمتی قرارداد ایم کیوایم ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی محمد حسین نے پیش کی۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے گیس لوڈشیڈنگ سے متعلق قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا ایک اجلاس 24ستمبر کوہواہم نے وفاقی حکومت کو لکھا کہ گیس کا ایجنڈا شامل کریں اٹارنی جنرل نے گیس کے حوالے سے اپنی رپورٹ دینی ہے ہم کہتے ہیں کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جلد بلائیں اس قرارداد اور ایوان کی سفارشات پر اپنے صوبے کی توانا آواز بلندکرسکوں گا۔مشترکہ مفادات کونسل میں سندھ کے تین وفاقی وزرا موجود ہیں ان کی سیاسی جماعتیں آئین کے مطابق سندھ کے حق کے لیے آوازبلند کریں، جب سندھ اپنا موقف پیش کرتاہے تو اس پر فیصلہ کیوں نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کو اپنا ائینی حق دے گی ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرناچاہتے ہیں۔ تھر کول فروری میں ٹیسٹ کریں گے۔ فروری میں بجلی کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بجلی سیدھا پنجاب جا رہی ہے، شاید ہمیں حصہ مل جائے۔ سندھ نے پانی و بجلی پر اپنا موقف بہت اچھے طریقے سے پیش کیا، اس لیے سندھ حکومت کچھ لوگوں کو کھٹکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے ووٹ دیا ہے، سندھ کے حقوق لیں گے سندھ کے سی سی آئی ارکان ہمیں سپورٹ کریں۔انہوں نے کہاکہ گیس پر مشترکہ مفادات کونسل اجلاس کے لیے وفاق کو کل خط لکھوں گا، کراچی سے وزیر اعظم بھی الیکشن لڑ چکے ہیں ہم وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔قرارداد کے محرک محمد حسین نے کہا کہ قراردار گیس بندش آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی ہے قرارداد کی پیپلزپارٹی اور جی ڈی اے نے بھی حمایت کی۔ پی ٹی آئی کی اتحادی جی ڈی اے رکن بھی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف چلا اٹھے جی ڈی اے نند کمار گوکلانی نے کہا کہ ہمارا وفاق سے اتحاد اس لئے نہیں تھا کہ شہریوں کو گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم کیا جائے، وفاق صورتحال کا فوری نوٹس لے وزیراعظم کی یقین دہانی کے باوجود گیس لوڈشیڈنگ میں تاحال کمی آئی اور نہ ہی مسئلہ حل کیا گیا۔ قبل ازیں قرارداد کے محرک محمد حسین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ 70 فیصد گیس پیدا کرتا ہے لیکن سندھ کے گھریلو اورکمرشل صارفین گیس سے محروم ہیں آرٹیکل 158پر عمل کیا جائے سندھ میں آرٹیکل 148 کی خلاف ورزی بھی ہورہی ہے گیس کی غیرقانونی بندش سے پاورجنریشن میں بھی کمی کا سامنا ہے ہزاروں لوگ جو چھوٹی صنعتوں میں کام کرتے ہیں بیروزگارہورہے ہیں ایکسپورٹ کے آرڈر بھی کینسل ہورہے ہیں ۔2017-18 میں بھی کئی قراردادیں پاس ہوئی ان پر عمل ہونا چاہئے وفاق سے صوبے کے جو بھی حقوق ہیں سامنے رکھنے چاہئیں۔ پی پی رکن غلام قادرچانڈیو نے قرارداد کی حمایت کی اور اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے انڈسٹری بند ہونے سے کئی افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے حکمرانوں کو ڈالر میں کمی تک کا پتہ نہیں ہوتا ہم آواز اٹھاتے ہیں تو سنگین الزامات لگائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقوق کے لئے قائدین کی قربانی دے چکے ہیں کوئی قربانی دینی پڑی تو سب مل کر دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ کئی جیتنے والوں کو اب تک یقین نہیں آرہا ہے کہ کیسے جیتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ صوبے کے حقوق کیلیے بات کرنا ہماری ذمہ داری ہے گیس کاحق پہلے سندھ کا ہے گیس پیداوار سے صوبے میں گیس لگنی چاہیے آئین کی پاسداری ہمارافرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے گیس وپیٹرولیم کے لائسنس پر ڈرلنگ نہیں ہورہی اگرگیس وپیٹرولیم کے نئے ذخائرتلاش نہ کیے تو مہنگا فیول لیناپڑیگا مہنگے فیول سے برآمدی ہدف متاثرہوگاسمندر میں آئل وگیس کی تلاش کیلیے ڈرلنگ ہورہی ہے ملک کے مسائل پوائنٹ اسکورنگ سے حل نہیں ہونگے ملکی مسائل کے حل کیلیے سنجیدگی ضروری ہے گیس پرسب سے پہلاحق سندھ کاہے ایم کیوایم کے رکن خواجہ اظہار نے کہا کہ کراچی کی بات اس لئے زیادہ کرتے ہیں کیونکہ کراچی کی صنعتیں متاثر ہونے سے معیشت متاثر ہوتی ہے وفاق غورکرے ایک سوچالیس فیصد کمی کی گئی ہے میرے حلقے سمیت پوراشہر گیس کمی کا شکار ہے میرے حلقے میں گیس کے پائپ سے گٹرکا پانی نکل آیا ہے اکثرگھروں میں لکڑیوں پر کھانا پکایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آرٹیکل 151 کے تحت بات کرتی ہے رائلٹی تو مانگی جاتی ہے پرگیس نہیں مانگی جاتی صوبہ طے کرے کتنی صوبے کی ضرورت ہے کتنی دوسروں کو دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سی سی آئی میں گیس بھی مانگے گیس والے شکایت پر بھی نہیں آتے مسئلہ حل نہ ہوا تو میں انے حلقے کے لوگوں کے ساتھ دھرنا دونگا دھرنا گیس آفس کے باہر دیا جائے گا۔ قرارداد پر دیگر ارکان نے بھی اظہار خیال کیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...