گورکھ ہل اخراجات، متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کرانے کا حکم

گورکھ ہل اخراجات، متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کرانے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے گورکھ ہل اخراجات کیس میں ایک مہینے میں انکوائری مکمل کرنے اور تمام متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کرانے کا حکم دے دیا ہے ۔سندھ ہائی کورٹ میں بتایا گیا کہ نیب نے گورکھ ہل میں ترقیاتی کاموں سمیت دیگر اخراجات کے متعلق انکوائری شروع کردی دوران سماعت نیب کا کہنا تھا کہ گورکھ ہل اتھارٹی کے چیئرمین رفیق جمالی سمیت تمام ڈی جیز کو طلب کیا ہے،چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ رفیق جمالی نے کیا بیان قلم بند کرایا ہے،جس پر عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ رفیق جمالی کو طلب کیا ہے لیکن ابھی تک پیش نہیں ہوئے،رفیق جمالی رکن قومی اسمبلی اور گورکھ ہل ڈویلپمنٹ کے چیئرمین ہیں، ایک مہینے کا وقت چاہیے تمام انکوائری مکمل کر دیں گے، عدالت میں طاہر اعوان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جہاں عدالت کونیب کی جانب سے بتایا گیا کہ طاہر اعوان بنیادی طور اسکول ٹیچر ہیں،طاہر اعوان کو ڈیپوٹیشن پر تبادلہ کر کے اکاؤنٹنٹ لگایا گیا،عدالت کا کہنا تھا کہ ایک استاد کا اکاونٹس سے کیا کام ہے؟ ہر محکمہ میں نوازشات جاری ہیں،ایک مہینے انکوائری مکمل کریں اور تمام متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کریں،

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...